ایک مولانا دلت سماج کی میٹنگ میں ـ توصیف القاسمی

ہمارا یہ مقصد بالکل نہیں کہ ہم اپنی گردن کسی بھی پارٹی یا تنظیم کے ہاتھوں میں دے دیں ، مگر بدلتے منظرنامے کو سمجھنا اور اس کے مطابق پالیسیاں بنانا عقلمندوں کا طریقہ رہا ہے ، ہمارے بزرگوں نے بھارت کے سیکولرزم پر یقین کیا اور پاکستان کو ٹھکرادیا ، مگر وہ اس بات کو نہیں سمجھ سکے کہ سیکولرزم بھارت کے کن لوگوں کے اندر ہے ؟ اور ہمارے بزرگوں نے بھارت کے پسماندہ طبقات کو — جو کہ تعداد میں بھی بڑھے ہوئے ہیں اور سیکولرازم میں بھی گاندھی اور نہرو سے زیادہ یقین رکھتے ہیں— نظر انداز کیا ۔ گذشتہ 70 سالوں میں ہم نے جس قدر چاپلوسی کانگریس اور بی جے پی کی کی ہے ، منظم ہوکر اس سے آدھی ہمدردی اور تعاون پسماندہ طبقات کے ساتھ کرتے تو کانگریس کا وجود مٹ چکا ہوتا اور شاید کہ آر ایس ایس و بی جے پی پیدا ہی نہ ہوتی ۔ مگر ایسا نہیں ہوسکا ۔ کہاوت ہے ”جب جاگو تب ہی سویرا “ آئیے اب اس طرف سوچتے ہیں اور چلتے ہیں ۔
ہندتوا ایجنڈے کے حامی کوئی بہت زیادہ افراد نہیں ہیں محتاط اندازے کے مطابق صرف 15/ فیصد ہیں ، لیکن جتنے بھی ہیں منظم ہیں اپنے مقصد کے لئے متحد ہیں ۔ جبکہ ہندتوا آئیڈیالوجی کے خلاف 85/ فیصد بھارتی ہیں مگر غیر منظم اور اپنے مقصد سے انجان ۔ مسلمان تو بیچارے سیاسی اور سماجی سطح پر ہندوازم کے خلاف کچھ بھی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں،بلکہ ان کی قیادت ہندتوا طاقتوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کو ہے،مگر پسماندہ طبقات کا نیا خون ہندتوا طاقتوں کے خلاف کھولنے لگا ہے اور ان کے نوجوان بہت تیزی سے اپنی ہزاروں سالہ غلامی کے اسباب پر غوروفکر کرنے لگے ہیں، جہاں ان کو پتا چلتا ہے کہ ہمارے اصل دشمن مسلمان نہیں بلکہ منوواد کو ماننے والے ہیں ۔ بامسیف BAMCEF کا ابھرنا ، بھیم آرمی کا چھا جانا ، مایاوتی کا ڈوب جانا ، پسماندہ طبقات کے کتنے ہی مفکرین کا یوٹیوب پر برملا ہندوازم کے خلاف تجزیے Analysis کرنا ، یہ سب کچھ بدلتے منظر نامے کی تصویر ہے ۔ عقلمندو فائدہ اٹھالو ۔
قارئین کرام ! اب میں پسماندہ طبقات کے ساتھ کی جانے والی میٹنگوں کی تفصیلات آپ کے سامنے رکھتا ہوں ، ہوسکتا ہے جواں مردوں کو کچھ راستہ نظر آجائے ۔
منڈولی جیل روڈ پر پریم پال جی — جو کہ بامسیف کے سینئر کارکن ہیں — کے گھر پر مولنواسی سنگھ دلی کا ”کیڈر کیمپ“ 19/9/2021 کو لگا ۔ کیڈر کیمپ کیا ہوتا ہے ؟ بام سیف کا طریقہ کار یہ ہے کہ بامسیف کے تجربہ کار افراد اپنے نظریات کو لے کر عوام میں جاتے ہیں اور عوام کو اپنی آئیڈیالوجی (85/ فیصد بھارتی مولنواسی ہیں باقی 15/ فیصد بیرونی ہیں ) سے آگاہ کرتے ہیں اپنی آئیڈیالوجی کی تعریف Definition اس کے اجزائے ترکیبی ، تاریخی پسِ منظر ، ہندو لفظ کی لغوی و اصطلاحی تحقیق ، اس لفط کی آڑ میں 85/ فیصد بھارتیوں کے ساتھ کیا کھیل رچا جارہا ہے ؟ بابا صاحب اور دیگر پسماندہ طبقات کے باشعور رہنماؤں نے ہندو دھرم کے بارے میں کیا کہا ؟ 85/ فیصد بھارتیوں کو چھ ہزار سے زائد فرقوں اور ذاتوں میں کس چالاکی سے ٹکڑے ٹکڑے گینگ بنادیا گیا ؟ ان تمام باتوں کو ثبوت و دلائل کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے ۔ بامسیف کے نظریے کے خلاف جو دیگر نظریات ہیں بالخصوص ”برہمن واد“ اور ”ہندوتوا“ منوسمرتی وغیرہ کتابوں پر کڑی اور عقلی انداز میں سخت تنقید کی جاتی ہے ، جو کارکن اس کیڈر سے خطاب کرتا ہے اس کے پاس ایک فائل ہوتی ہے جس میں بامسیف کے نظریے سے متعلق مواد اعداد و شمار کتابوں کے حوالے Reference وغیرہ ہوتے ہیں ، اسی فائل کے ذریعے یہ لوگ اپنے سامعین کو سمجھاتے ہیں ، سمجھانے کا انداز مکمل طور پر سنجیدہ اور افہام و تفہیم والا ہوتا ہے نا کہ خطیبانہ ، کہ آندھی کی طرح آئے ، بجلی کی طرح نکل گئے ۔
اس کیڈر کیمپ کو سمبھودت ( تقریر کرنے یا سمجھانے ) کرنے کے لئے حنیف بھائی ہانسلود گجرات سے تشریف لائے ، جن کو بامسیف نے دہلی بھیجا ، چنانچہ سب سے پہلے تمام حاضرین کا تعارف ہوا ۔ اس کے بعد حنیف بھائی نے سوال کیا کہ سنگٹھن کیوں بنانا ضروری ہے ؟ پھر انہوں نے خود ہی جواب دیا کہ وہ بڑا کام جس کو تنہا ایک آدمی نہ کرسکے اور وہ کام ضروری بھی ہو اور ممکن بھی ، یہیں سے سنگٹھن کی ضرورت پیدا ہوتی ہے ۔
ہمارے سامنے بڑا کام یہ ہے کہ ہر ملک میں وہاں کے مولنواسی ( اصل باشندے یا آبائی باشندے ) راج کرتے ہیں ، دنیا کے تمام ملکوں میں رہنے والے اکثر لوگ اپنے اپنے ملکوں کے مولنواسی ہیں اور وہی لوگ اپنے اپنے ملکوں پر حکومت کرتے ہیں ، بھارت کا معاملہ بالکل الگ ہے ۔ یہاں کے رہنے والے جو مولنواسی ہیں ( ایس سی ، ایس ٹی ، او بی سی اور اقلیتیں ) وہ 85/ فیصد سے زائد ہیں مگر اقتدار اور حکومت بیرونی ( برہمنوں ) لوگوں کا ہے ۔ اس منظر نامے کو الٹنا ، وہ بڑا کام ہے جس کے لئے ہم اور ہمارا سنگٹھن کام کر رہا ہے ۔ یعنی حکومت و اقتدار ، ملکی وسائل و ذرائع 85/ فیصد بھارتیوں کے ہاتھوں میں آئیں اور ”بیرونی“ لوگ اقلیت بن کر اپنی جائز حدوں میں رہیں ۔
انہوں نے بتایا کہ ذات پات کی بنیاد پر مفروضہ ہندو دھرم کے چولے میں برہمن کتنا محفوظ ہے ؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ برہمن بنیا ٹھاکر کی موب لنچنگ زیرو فیصد ہوتی ہے ،60/ فیصد اقلیتوں کی بالخصوص مسلمانوں کی ، دس دس فیصد ایس سی ، ایس ٹی ، او بی سی کی ، جبکہ یہ لوگ ہندو کہے جاتے ہیں ۔ بتلایا گیا کہ بھومی ( زمین ) پر قبضہ پہلے سے ہی اہمیت رکھتا ہے ، غور کیجئے برہمنوں کے پاس 5/ فیصد زمین ہے ، بنیوں کے پاس 8/ فیصد اور ٹھاکروں کے پاس 9/ فیصد بقیہ لوگوں کے پاس ایک ایک فیصد زمین ہے ۔ یہ ہی حالت تعلیم کی ہے اور یہ ہی حال نوکریوں کا ہے ، 62/ فیصد نوکریوں پر برہمن لوگ براجمان ہیں ، 12/ فیصد پر بنیے ، 13/ فیصد پر ٹھاکر ، بقیہ میں اقلیتیں اور پسماندہ طبقات جبکہ وہ بھی ہندو کہے جاتے ہیں ۔ برہمن نے اس طرح بہت چالاکی سے ملک اور اس کے وسائل پر قبضہ کیا ہوا ہے اور باقی تمام لوگوں کو مذہبی جھگڑوں ، آپسی منافرت ، ہندو خطرے میں ہے ، رام مندر ، مسلمان اس ملک پر قابض ہوجائیں گے ، وغیرہ وغیرہ جیسے بے فائدہ ایشوز میں میں الجھا رکھا ہے ۔
حنیف سر نے بتایا کہ ”بھگوت گو منڈل“ نامی کتاب کے اندر لکھا ہے کہ ”ہندو“ کے معنی جھوٹا اور کالا بےایمان کے ہیں ۔ برہمن کسی زمانے میں اس لفظ کو اپنے لئے گالی سمجھتا تھا ۔ برہمن راجہ داہر سمندری ڈاکو تھا ، جس کو ہم لوگ ”سمندری چاچا“ بھی کہتے ہیں ۔ اہل فارس نے راجہ داہر کو ہندو بطور گالی کے کہا،کیونکہ یہ راجہ ان کے جہاز لوٹتا تھا ۔ بعد میں برہمنوں نے ”ہندو“ بھارت کے مولنواسی لوگوں کو بطور تذلیل کے کہا ، پھر برہمنوں نے یہاں کے مسلمانوں سے لڑانے کے لئے ”ہندو“ لفظ کا استعمال بطور مذہب اور اینٹی مسلم عناصر کرنے لگے اور یہی فراڈ سچ سمجھا جانے لگا ۔
انہوں نے سوال کیا کہ ہم ہندوازم کو counter کیسے کریں ؟ انہوں نے بتایا کہ اس کے لئے ہمارے پاس ”مولنواسی پہچان “ کا ہتھیار ہے ۔ جب ہم اپنے آپ کو مولنواسی کہتے ہیں تو فوراً سمجھ میں آتا ہے کہ کوئی یہاں پردیسی بھی ہے اور وہ ہے برہمن ، مگر ہم کو کہنے کی ضرورت نہیں یہ مفہوم خود سمجھ میں آتا ہے ۔ دن کو دن سمجھا دو تو اندھیروں سے انسان خود بچتا ہے ۔ آخر میں حنیف بھائی نے سو ثبوتوں میں سے دس ثبوت دیے اس بات کے کہ برہمن ودیشی ہے ۔
دہلی کے لاجپت نگر وبونا پوری میٹرو اسٹیشن کے قریب بالمیکی مندر کے وسیع وعریض ہال میں 12/9/2021 کو بامسیف BAMCEF کا راشٹریہ ادھویشن منعقد ہوا ، ہال میں ڈھائی سو کے قریب سامعین تھے جن میں خواتین بھی کافی تعداد میں حاضر تھی ، بامسیف کے تمام کارکن و سامعین حضرات اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں ۔ پروگرام تین نشستوں پر مشتمل تھا راقم وقت کی تنگی کی وجہ سے پہلی دو نشستوں میں شریک ہوسکا ۔ مختلف مقررین نے بہت سی باتیں کہیں، جنکا خلاصہ پیش خدمت ہے ۔ ایک ساتھی مائیک پر آئے انہوں نے بتایا کہ شہید بھگت سنگھ نے کہا تھا ” اگر میں پھانسی سے بچ گیا تو اگلی لڑائی برہمن واد کے خلاف لڑوں گا “ انہوں نے مزید بتایا کہ گجرات دنگوں میں 1577 ہندو گرفتار ہوئے جن میں 1373 مسلمان تھے ، مفروضہ ہندوؤں میں صرف دو برہمن گرفتار ہوئے ، یعنی ہم پسماندہ طبقات کے لوگ صرف مسلمانوں سے لڑنے کے لیے ہندو ہیں ۔ گجرات فسادات کا کلیدی کر دار اشوک موچی (جس کی تصویر گجرات فسادات کی علامت بن گئی ) نے رو رو کر یہ بات بولی کہ اب ہم مسلمانوں کے خلاف نہیں لڑیں گے ۔
خطاب کرنے والوں میں بالمیکی مندر کے انچارج بھی تھے جو ادھیڑ عمر کے تھے ، انہوں نے چار باتیں کہیں:
1۔ مندر کا یہ ہال قوم کے پروگراموں کے لیے فری (وقف) ہے صرف پانی بجلی کا خرچ لیا جائے گا ۔ کاش کہ مسلمان بھی اپنے اداروں ( مساجد و مدارس) کو ملی پروگراموں کے لیے اور میٹنگوں کے لئے وقف کردیں ۔
2۔ بہت اچھا لگا ہمارے ساتھ مسلم سماج کے افراد بھی ہیں ـ
4۔ میں آر ایس ایس کے لوگوں میں بولتا ہوں کہ اب ہم ”مورتی پوجا“ نہیں کریں گے ”کیرتن“ نہیں کریں گے ، ”جاگرن“ نہیں کریں گے ۔ جب سے میں نے امبیڈکر واد کو پڑھا تو ساری مورتیاں گھر سے نکال کر پھینک دیں ۔
خطاب کرنے والوں میں ایک سپریم کورٹ کے وکیل بھی تھے انہوں نے اپنی پوری تقریر میں قانونی باریکیاں Legal points اور تھیوریز ذکر کیں، جو زیادہ سمجھ میں نہیں آ سکیں ، پھر بھی چند باتیں قابلِ ذکر ہیں، انہوں نے کہا کہ ہماری سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ ST , ST, OBC اور اقلیتوں کی خواتین ناخواندہ ہیں،یہی ان پڑھ خواتین ”برہمن واد“ کو اور ”ہندو ازم“ کو نئی نسلوں کے اندر منتقل کرتی رہتی ہیں ۔ بعینہٖ یہی بات ایک خاتون نے بھی کہی کہ ” سب سے زیادہ منواسمرتی کا پالن کرنے والی ہماری عورتیں ہیں ، مورتیاں خریدتی ہیں ، کیرتن و جاگرن کرتی ہیں ۔ ان تمام چیزوں کو چھوڑ دو اور سائنٹیفک تعلیم پر دھیان دو ۔ ہزاروں سال کی غلامی کے نتیجے میں منوسمرتی ہمارے خون میں رچ بس گئی ہے اس کو چھوڑنا ہوگا ، باباصاحب کو بھی پوجیں نہیں، بلکہ ان کے نظریے کو مانیں“ ۔
محترم وکیل صاحب نے مزید بتایا کہ موجودہ حکومت آرکشن (ریزرویشن) کو ختم کرنا چاہتی ہے مگر ڈائریکٹ ختم بھی نہیں سکتی اس لئے بہت چالاکی سے برہمن وادیوں کی گورنمنٹ نے سرکاری اداروں کا نجی کرن privatization کر دیا اور سارے ٹھیکے سورن جاتی (اونچے طبقے ) کے لوگوں کو دے دیے ۔ وکیل صاحب نے بتایا کہ موجودہ حکومت پچھلے دروازے سے کسی کو ہیرو بنانے میں ماہر ہے جس کو کہا جاتا ہے Later entery اور جن لوگوں کو پچھلے دروازے سے ہیرو بنایا جاتا ہے وہ مکمل طور پر چاپلوس اور چمچے ہوتے ہیں اور یہ چمچے ہر سماج سے متعلق ہوسکتے ہیں ۔ محترم وکیل صاحب نے اپنے سامعین کو جوتیبا پھولے کی کتاب ”غلام گری“ پڑھنے کا مشورہ دیا جس کا ترجمہ انگلش میں slavery نام سے ہوچکا ہے ۔
راقم پسماندہ طبقات کی میٹنگوں میں تقریباً 3/سال سے جارہا ہے ، مسلمانوں کا آدھے سے زیادہ کام ان لوگوں نے کر دیا ہے، مثال کے طور پر مسلمان ہندو دھرم پر کھلم کھلا علمی و عقلی تنقید نہیں کرسکتے ، مگر یہ لوگ کھلم کھلا ہندو دھرم پر انتہائی سخت تنقید کرتے ہیں،بابا صاحب سمیت کئی مفکرین نے ہندو دھرم کے خلاف بولا ہے ، کتابیں لکھی ہیں سلوگن تیار کئے ہیں ، جو حضرات بابا صاحب سے متأثر ہوتے ہیں یا بامسیف کے ٹچ میں آجاتے ہیں ، ہندو دھرم ان پر اپنی گرفت قائم نہیں رکھ پاتا ۔ ایک صاحب نے کہا کہ بامسیف نے آر ایس ایس کی قبر کھود دی ہے، میرے خیال میں یہ بات بالکل صحیح ہے،کیونکہ ہندو دھرم کی نیا (کشتی ) پسماندہ طبقات کے خون سے چلتی ہے ۔ برہمن واد پسماندہ طبقات کو زبردستی ہندو بنائے رکھنے کے لئے مختلف طرح کے حربے کرتا ہے ، مگر یہ لوگ اپنے آپ کو ہندو کہلوانا نہیں چاہتے ، اپنی ہزاروں سال کی غلامی کا ٹھیکرا ہندو دھرم کے سر پر پھوڑتے ہیں ۔ ہندو کی جگہ ”مولنواسی“ کہلوانا پسند کرتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں کو ایک سچے مذہب کی ضرورت ہے مگر یہ لوگ بے خبری میں ادھر ادھر بھٹک رہے ہیں ۔ یہ لوگ ”بدھ مت“ کی طرف جارہے ہیں مگر وہاں بھی ان لوگوں کے مسائل کا حل نہیں، کیونکہ برہمنوں نے ”بدھ مت“ کو ہندو ازم ہی کا ایک حصہ سمجھ کر قبول کرلیا ہے، یعنی گھوم پھر کر پھر وہیں پہنچ جائیں گے ۔ یہاں آکر داعیان اسلام کے لئے اور ملی قیادت کے لیے بہت بڑا ”میدان عمل“ کھل جاتا ہے اور وہ میدان ہے دعوت کا ، ان لوگوں کو مانوس کرنے کا۔