مولانا ابوالکلام آزاد کی نثر-حقانی القاسمی

Cell:9891726444
E-mail:haqqanialqasmi@gmail.com

جب سے دیکھی ابو الکلام کی نثر
نظم حسرت میں کچھ مزا نہ رہا
یہ مولانا حسرت کا اعتراف حقیقت ہے اور مولانا آزاد کو سچا خراج عقیدت بھی۔ مولانا آزاد کے معاصرین میں میر وغالب بھی ہوتے تو ان کی سوچ مولانا حسرت موہانی سے مختلف نہ ہوتی۔
سچ یہی ہے کہ مولانا آزاد (11؍نومبر1888-22؍ فروری1958)کی نثر میں اتنی مقناطیسیت، کشش اور قوت ہے کہ اس کے سامنے شاعری کی شمع بھی ماند پڑجاتی ہے۔ یہ مولانا کی نثر کا جادو ہی ہے کہ سجاد انصاری کو ’’محشر خیال ‘‘میں یہ کہنا پڑا کہ ’’میرا عقیدہ ہے کہ اگر قرآن نازل نہ ہوچکا ہوتا تو مولانا ابوالکلام کی نثر اس کے لیے منتخب کی جاتی۔‘‘
یہ بیان مبالغہ سہی مگر اس میں حقیقت کا اتنا عنصر ضرور شامل ہے کہ مولانا کی نثر اعجاز قرآنی سے بے حد متاثر ہے، قرآن کا جو اسلوب ہے اس کی نظیر دنیا کی کوئی بھی زبان پیش نہیں کرسکتی۔ اردو میں نثر کا یہ معجزہ مولانا آزاد کے قلم سے ظاہر ہوا۔ مولانا عبد الماجد دریابادی جیسے صاحب طرز ادیب اور انشا پرداز نے بھی تسلیم کیا کہ ’’مولانا آزاد اپنے طرز وانشا کے جس طرح موجد ہیں، اسی طرح اس کے خاتم بھی ہیں۔ تقلید کی کوشش بہتوں نے کی، پیروان غالب کی طرح تقریباً سب ہی ناکام رہے۔‘‘ انہوںنے صدق جدید 11؍مارچ 1958ء کے شمارے میں یہاں تک لکھ دیا کہ ’’حالی وشبلی کی سلاست، سادگی سر پیٹتی رہی، اکبر الٰہ آبادی اور عبدالحق موجودہ بابائے اردو سب ہائیں ہائیں کرتے رہ گئے۔‘‘
کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ جس کی مادری زبان عربی ہے اور جس کی عرب نژاد والدہ عالیہ بیگم کو یہ قطعی پسند نہیں تھا کہ ان کے بچے اردو میں باتیں کریں۔ وہ اردو میں اس درجہ کمال کو پہنچ جائے گا کہ اردو کی عظمت وجلالت کا سنگ نشان بن جائے اور ابوالکلامی ادب، اردو کا ایک مستقل باب قرار پائے اور تصنیفات کی اتنی قدر وقیمت ہو کہ کتب خانوں کی الماریوں میں نہیں دنیا کے دماغوں میں انہیں جگہ مل جائے۔
مولانا آزاد کو یہ بلند مقام ان کی بین العلومیت کے علاوہ اس نثری اسلوب کی وجہ سے حاصل ہوا ،جس کے بارے میں مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی نے لکھا کہ ’’مولانا کی ہر تحریر ایسی ہے کہ عش عش کرتے رہئے۔‘‘ اعلیٰ انشا وادب کا ایسا نمونہ جس کی تقلید ممکن نہیں۔ تحریر پڑھتے وقت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا سے پرے کوئی غیبی آواز بول رہی ہے۔
قلم کو نغمہ اور کاغذ کو رنگ عطا کرنے والے ابوالکلام آزاد نے اردو ادب کو ایک نیا اسلوب دیا، ایک نیا انداز بیان جس کا اعتراف ان کے معاصرین کو بھی ہے اور مخالفین کو بھی۔
مولانا کا نثری اسلوب، اردو کے بنیادی اسالیب سے بالکل مختلف ہے اور ان کا اسلوب موضوع اور مبحث کی مناسبت سے تبدیلیوں کے عمل سے بھی گزرا ہے۔ اسلوبیاتی ناقد پروفیسر مرزا خلیل احمد بیگ نے لکھا ہے کہ ’’آزاد نے اپنی نگارشات میں زبان کے اطلاعی (Informative)، ہدایتی (Directive) اور اظہاری (Expressive) تینوں اسالیب سے کام لیا ہے۔‘‘
تذکرہ کا اسلوب ترجمان القرآن سے الگ ہے۔ خطبات آزاد کا اسلوب غبار خاطر سے مختلف ہے۔
مولانا آزاد کی نثر میں اس اسلوبیاتی تنوع کی وجہ بھی ظاہر ہے۔ ان کے سامنے انشا کے بہت سے اسالیب تھے۔ سحبان بن وائل کی خطیبانہ نثر بھی تھی، مقامات کی لازوال نثر کا وہ نمونہ بھی تھا جس میں مقفی، مسجع عبارتوں کے علاوہ یہ التزام بھی تھا کہ ایک مقامہ میں موضوعی الفاظ (Content words) کا دوبارہ استعمال نہ ہو، ابن رشد اور ابن عربی کی کلامیہ نثر بھی سامنے تھی۔ عربی اور فارسی کے نثری اور شعری اسالیب کا خزانۂ عامرہ ان کے ذہن میں تھا۔ ایک طرف ان کا ذہنی رشتہ ابن خلدون، ابن رشد، ابن عربی، ابن تیمیہ، ارسطو، البیرونی، جمال الدین افغانی اور الجاحظ سے تھا تو دوسری طرف ام کلثوم، طاہرہ، طنطاویہ کے علاوہ جامی، حافظ، حزیں، خسرو وخیام، رومی وسعدی، شیرازی، سنائی وسودا، صائب وعرفی، غالب وغنی، فردوس، قاآنی، متمم ومتنبی سے بھی تھا۔
ان تمام اسالیب کے امتزاج سے مولانا آزاد نے جو اپنا اسلوب وضع کیا، وہ منفرد قرار پایا۔ ان کے اسلوب میں جزالت و بلند آہنگی ہے، اس کے لیے جتنے بھی Adjectives استعمال کیے جائیں ناکافی ہیں۔ اس اسلوب میں اتنی موسیقیت ہے کہ قاری ان کے لفظوں کے زیر وبم میں گم سا ہوجاتا ہے۔ عربی اور فارسی سے نابلد بھی ان کی تحریروں میں ایک عجب سی کشش محسوس کرتا ہے۔ مولانا کی تحریر اتنی موسیقیت ریز اس لیے ہوتی ہے کہ موسیقی سے ان کی زندگی اور ذہن کا بہت ہی گہرا رشتہ ہے۔ انہوںنے ’’غبار خاطر‘‘ میں لکھا ہے کہ: ’’میں زندگی کی احتیاجوں میں سے ہر چیز کے بغیر خوش رہ سکتا ہوں لیکن موسیقی کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ آوازِ خوش میرے لیے زندگی کا سہارا، دماغی کاوشوں کا مداوا اور جسم و دل کی ساری بیماریوں کا علاج ہے۔‘‘
مولانا آزاد ایک مفکر، دانشور اور مدبر تھے۔ انہوںنے مذہب، تاریخ، فلسفہ سے متعلق نہایت اعلیٰ درجے کے عالمانہ، دانشورانہ مضامین لکھے ہیں۔ سنجیدہ علمی نثر لکھنے والے ابوالکلام آزاد کی تحریروں میں طنز کی نشتریت ملتی ہے، مگر یہ طنز شائستگی کے دائرے میں ہے۔ طنز کی اخلاقیات اور اس کے حدود کا پاس رکھتے ہوئے ذہن اور ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے طنز کا بھی سہارا ہے۔ یوں تو ان کی بہت سی تحریروں میں طنز کے نمونے ملتے ہیں، مگر یہاں ’’غبار خاطر‘‘ کا ایک اقتباس پیش ہے، جس میں تحولِ نظر اور تحویلِ صورت سے طنز کی کیفیت پیدا کی گئی ہے،ذکر صلیبی جہاد کا ہے، اس ضمن میں آزاد لکھتے ہیں:
’’یورپ مجنونانہ جوش کا علمبردار تھا۔ مسلمان علم ودانش کے علمبردار تھے۔ یورپ دعاؤں کے ہتھیار سے لڑنا چاہتاتھا، مسلمان لوہے اور آگ کے ہتھیاروں سے لڑتے تھے۔ یورپ کا اعتماد صرف خدا کی مدد پر تھا، مسلمانوں کا یقین خدا کی مدد پر بھی تھا لیکن خدا کے پیدا کیے ہوئے سرو سامان پر بھی تھا۔ ایک صرف روحانی قوتوں کا معتقد تھا، دوسرا روحانی اور مادی دونوں کا۔
یہ حال تو تیرہویں صدی اور مسیحی کا تھا لیکن چند صدیوں کے بعد جب پھر یورپ اور مشرق کا مقابلہ ہوا تو اب صورت حال یکسر الٹ چکی تھی۔ اب دونوں جماعتوں کے متضاد خصائص اسی طرح نمایاں تھے جس طرح صلیبی جنگ کے عہد میں رہے تھے اور جو جگہ مسلمانوں کی تھی اسے اب یورپ نے اختیار کرلیا تھا۔
اٹھارہویں صدی کے اواخر میں جب نپولین نے مصر پر حملہ کیا تو مراد بک نے جامع ازہر کے علماء کو جمع کرکے ان سے مشورہ کیا تھا کہ اب کیا کرنا چاہئے۔ علمائے ازہر نے بالاتفاق یہ رائے دی تھی کہ جامع ازہر میں صحیح بخاری کا ختم شروع کردینا چاہئے کہ انجاح مقاصد کے لیے تیر بہدف ہے چنانچہ ایسا ہی کیاگیا لیکن ابھی صحیح بخاری کا ختم، ختم نہیں ہوا تھا کہ اہرام کی لڑائی نے مصری حکومت کا خاتمہ کردیا۔
انیسویں صدی کے اوائل میں جب روسیوں نے بخارا کا محاصرہ کیا تھا تو امیر بخارا نے حکم دیا کہ تمام مدرسوں اور مسجدوں میں ختم خواجگان پڑھاجائے۔ ادھر روسیوں کی قلعہ شکن توپیں شہر کا حصار منہدم کررہی تھیں، ادھر لوگ ختم خواجگان کے حلقوں میں بیٹھے یا مقلب القلوب یا محول الاحوال کے نعرے بلند کررہے تھے۔ بالآخر وہی نتیجہ نکلا جو ایک ایسے مقابلہ کا نکلنا تھا جس میں ایک طرف گولہ وباردو اور دوسری طرف ختم خواجگان!‘‘۔
علما کی دقیانوسی طرز فکر اور اندھی مذہب پرستی اور بے شعوری بے بصیرتی پر اس سے گہراطنز اور کیا ہوسکتا ہے۔
ایک اور طنزیہ اقتباس:
’’ان زلزلوں سے ڈرتے ہو، کبھی تم خود ایک زلزلہ تھے۔ آج اندھیرے سے کانپتے ہو، کیا یاد نہیں کہ ہمارا وجود ایک اجالا تھا۔ یہ بادلوں نے میلا پانی برسایا ہے، تم نے بھیگ جانے کے خدشے سے اپنے پائینچے چڑھا لیے ہیں۔ وہ تمہارے ہی اسلاف تھے جو سمندروں میں اترگئے، پہاڑوں کی چھاتیوں کو روند ڈالا، بجلیاں آئیں تو ان پرمسکرادیے۔ بادل گرجے تو قہقہوں سے جواب دیا۔ صرصر اٹھی تو اس کا رخ پھیر دیا۔ آندھیاں آئیں تو ا ن سے کہا کہ تمہارا راستہ یہ نہیں ہے۔ یہ ایمان کی جاں کنی ہے کہ شہنشاہوں کے گریباں سے کھیلنے والے آج خود اپنے گریبانوں سے کھیلنے لگے۔‘‘
یہ تعمیری طنز کے نمونے ہیں جس سے نہ کسی کی دل آزاری ہوتی ہے، نہ کسی کے جذبہ کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ یہ ضمیر اور ذہن پر تازیانے ہیں، یہ کم ہمتی اور بے عملی پر وار ہے۔
مولانا آزاد ایک متبحر عالم تھے مگر زاہدانہ تقشف سے ان کا کوئی رشتہ نہیں تھا، سنجیدہ، اور متین تھے مگر طبیعت میں شوخی تھی، مرنجان مرنج اور بذلہ سنج تھے۔ غبار خاطر میں مولانا آزاد نے خود لکھا ہے کہ:
’’زمانہ حال کے ایک فرانسیسی اہل قلم آندرے ژید کی ایک بات مجھے بہت پسند آئی جو اس نے اپنی خود نوشتہ سوانح میں لکھی ہے: خوش رہنا محض ایک طبعی احتیاج ہی نہیں ہے بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری ہے یعنی ہماری انفرادی زندگی کی نوعیت کا اثر صرف ہم ہی تک محدود نہیں رہتا، وہ دوسروں تک بھی متعدی ہوتا ہے یا یوں کہئے کہ ہماری ہر حالت کی چھوت دوسروں کو بھی لگتی ہے اس لئے ہمارا اخلاقی فرض ہوا کہ خود افسردہ خاطر ہوکر دوسروں کو افسردہ خاطر نہ بنائیں۔ ہماری زندگی ایک آئینہ خانہ ہے، یہاں ہر چہرے کا عکس بیک وقت سیکڑوں آئینوں میں پڑنے لگتا ہے۔ اگر ایک چہرے پر غبار آئے گا تو سیکڑوں چہرے غبار آلود ہوجائیںگے۔‘‘
اسی خوش طبعی کے نتیجے میں آزاد کی وہ تحریریں وجود میں آئیں جن کے بارے میں مالک رام نے لکھا ہے کہ:’’ اس میں وہ گل افشانیاں کی ہیں کہ صفحہ کاغذ کو کشت زعفران بنا کے رکھ دیا ہے۔‘‘ مالک رام نے جن تحریروں میں بین السطور مزاح کی نشان دہی کی ہے، ان میں چڑیا چڑے کی کہانی، احمد نگر کے قلعے میں باورچی رکھنے کا قصہ اور ڈاکٹر سید محمود کی گوریاؤں کی ضیافت کا سامان کرنا اور قلندراور ملا کا حال شامل ہیں۔ اس کے علاوہ الہلال کے کچھ سیاسی مضامین میں ہلکا سا فکاہی رنگ تو آیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مزاح سے مولانا آزاد کی ایک طبعی مناسبت تھی اور یوں بھی حس مزاح ایک وہبی چیز ہے، اکتسابی نہیں۔ یہ ہرزندہ دل انسان میں موجود ہوتی ہے۔ مولانا نے اس حس مزاح کا کتنا استعمال اپنی تحریروں میں کیا ہے، یہ الگ بحث ہے مگر ان کی بعض تحریروں میں سنجیدہ مزاح کی کیفیت پائی جاتی ہے۔
’’آج کل حسن کی نمائشوں میں خوبروئی اور دلآویزی کا جو فتنہ گر سب سے زیادہ کامیاب ہوتا ہے اسے پورے ملک کی نسبت سے موسوم کردیا کرتے ہیں مثلاً کہیںگے مس انگلینڈ، مادی موازیل فرانس، گویا ایک حسین چہرے کے چمکنے سے سارے ملک وقوم کا چہرہ دمک اٹھتا ہے۔‘‘
طنز ومزاح مولانا آزاد کی شخصیت کا نہایت خفی اور ضمنی عنوان ہے، اسے موجودہ دور میں طنز ومزاح کی موجودہ صورت جس میں پھکڑپن اور ابتذال کی بہتات ہے۔ جلی عنوان کے طور پر پیش کرنے سے شاید ان کی علمی شخصیت مجروح بھی ہوسکتی ہے۔یہ میرا خیال ہے کہ جو غلط بھی ہوسکتا ہے اور اپنے اس خیال کی تائید میں مولانا آزاد کا ہی حوالہ دینا چاہوںگا۔ انہوںنے غبار خاطر میں لکھا ہے کہ ’’قوموں کے عروج وترقی کے زمانے میںجو اشتغال تحسین فکر اور تہذیب طبع کا باعث ہوتا ہے وہی دور تنزل میں فکر کے لیے آفت اور طبیعت کے لیے مہلکہ بن جاتا ہے۔ ایک ہی چیز حسن استعمال اور اعتدال عمل سے فضل وکمال کا زیور ہوتی ہے اور سوء استعمال اور افراط وتفریط کے عمل سے بداخلاقی اور صدعیبی کا دھبہ بن جاتی ہے۔‘‘
مجھے نہیں لگتا کہ اس سے آگے کچھ اور کہنے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر وزیر آغا نے اپنی کتاب ’’اردو ادب میں طنز ومزاح‘‘ میں لکھا ہے:
’’الہلال کے افکار وحوادث میں مزاح کا فقدان ہے تاہم سنجیدہ طنز اور رمز کے بہت سے نمونے مل جاتے ہیں۔‘‘
ان ہی کی رائے ہے کہ’’ افکار وحوادث‘‘ میں طنز اور رمز کی تو شدت ہے لیکن مزاح کے عناصر دب گئے ہیں۔‘‘
اور سچی بات یہی ہے کہ مولانا کی مزاح وہ فنی تقاضے پورا نہیں کرتی کہ مزاح کا اپنا ایک مخصوص مزاج ہوتا ہے۔