20 C
نئی دہلی
Image default
ستاروں کےدرمیاں

مولاناآزاداوران کےایک عزیز – نایاب حسن 

 

یہ تصویرامام الہندمولاناابوالکلام آزاداوربرِصغیر کے منفرد شاعروخطیب وادیب وصحافی آغاشورش کاشمیری کی ہےـ مولاناآزاد،جن کے یہاں بارپانابڑے بڑوں کے لیے مشکل ہوتاتھا، شورش ان کے "عزیز "تھے، مولاناکوان سے قلبی انسیت تھی اورشورش کوبھی مولاناسے ارادت کی حدتک تعلق تھاـ جدوجہدِآزادی میں سرگرم شرکت کی وجہ سے شورش کاشمیری کوپیش آنے والے مصائب وآلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئےمولانانے ایک باراپنے سکریٹری اجمل خان سے فرمایاتھا: "شورش نے زندگی میں بہت سے مصائب سہے ہیں، ایک زمانے میں تو سخت پریشان تھے؛ لیکن کسی مرحلے میں بھی شدائدنے دل آزردہ نہ کیا، قیدوبندکی صعوبتیں جواں مردی سے برداشت کیں، اس پرناموافق حالات اوربھی سنگدلانہ تھے؛ لیکن ان کاپورے عزم کے ساتھ مقابلہ کیا "ـ خودشورش سے مخاطب ہوکرفرمایا "ظاہرہے کہ ان حالات میں وقت کی آلودگیاں اپنے کچھ داغ چھوڑجاتی ہیں؛ لیکن مجھے یہ معلوم کرکے ہمیشہ راحت ہوئی کہ آپ ایسی ہرآنچ سے محفوظ رہے "ـ ایک مرتبہ شورش کی تقریرسن کرمولانانے فرمایا”اس نوجوان کی تقریرسنی، زبان ہی سے نہیں، دل سے دعانکلی، اس کی طبیعت کارخ نہایت خوشگوارہے، اس قدرتی ملکہ کی اس نے علم ومطالعہ سے حفاطت کی، تواردو زبان ایک ایسے مقررسے محروم نہیں رہے گی، جس کی فی زمانہ اسے ضرورت ہے "ـ
شورش نے مولاناسےاپنے اس تعلق کا اپنی تحریروتقریرمیں بارہا اظہار کیا ہےـ اپنی قلمی زندگی کی ابتدامیں آزادی سے کئی سال پہلے مولاناکی تقریروں کوجمع کرکے شائع کیا، جو غالبامولاناکی تقریروں کاپہلامجموعہ تھا، مولاناکی مستقل سوانح لکھی، جوسواپانچ سوصفحے میں ہے اوراردوزبان میں مولاناکی سب سے مفصل ومستند سوانح ہے، اس کے علاوہ بھی اپنے اخبار "چٹان "میں مولاناکے حوالے سے لکھتے رہے، جسے بعدمیں مولاناآزادوشورش کے ایک دوسرے عقیدت کیش ڈاکٹرابوسلمان شاہجہاں پوری نے ایک کتاب کی شکل میں مرتب کردیااوروہ کتاب بھی تین سواسی صفحات پرمشتمل ہےـ
مولاناآزادکاشورش سے کس درجہ تعلق تھا، اس کااندازہ ان کے نام مولاناکے خطوط سے ہوتاہےـ آزادی وتقسیمِ ہندسے قبل شورش کی مولاناسے متعددملاقاتیں رہیں، مگراس کے بعدشورش لاہور (پاکستان)میں تھے اورمولانا ہندوستان میں، ملاقات اتنی آسان نہ رہی تھی، مگرمکاتبت ہوتی تھی، جس میں دیگرموضوعات کے ساتھ مولاناآزادشورش کوخاص طورپر ملاقات کی دعوت دیتے، چوں کہ اخیرمیں بیماررہنے لگے تھے؛ اس لیے مولاناکامضمون ان کے سکریٹری اجمل خان اداکرتے تھے، 30جولائی 1954کے ایک خط میں انھوں نے لکھا "حضرت مولانافرماتے ہیں کہ کبھی موقع ہوتودلی آکرمل لیں "ـ پھر6جنوری 1955کے خط میں لکھا "حضرت مولانانے کئی مرتبہ فرمایاہے، آپ یہاں کیوں نہیں آتے اوردوچاردن ٹھہرتے،امیدہے آپ فروری میں ضروروقت نکال کرآئیں گے "ـ اسی سال 16نومبرکے خط میں لکھتے ہیں "میں نے عرصہ ہوا، لکھاتھاکہ حضرت مولانافرماتے ہیں کہ کبھی موقع ہوتوآپ دہلی آکرمل لیں، اب اس موقع پربھی حضرت مولانانے یہی فرمایاہے "ـ بالآخر شورش دسمبر1955میں دہلی پہنچے،مولاناسے ملاقات ہوئی،تین چاردن قیام کیااورمولاناکی بافیض صحبتوں سے مستفیدہوئے، اسی ملاقات میں شورش کے ذریعے مولانانے پاکستان بھرکے مسلمانوں کےنام ہدیۂ سلام بھجوایاتھا:
بآں گروہ کہ ازساغرِوفامستند
سلامِ مابرسانیدہرکجاہستند

مولاناکی زندگی میں شورش کی ان سے یہ آخری ملاقات تھی، پھر 1958 میں مولاناکے جنازے میں شرکت کے لیے شورش دہلی آئے تھےـ مولاناکی سوانح میں شورش نے اپنے مخصوص اسلوب میں مولاناکے مرض الموت اور تجہیز وتکفین کی رودادکئی صفحات میں بیان کی ہے،اس کی اخیرکی اِن چندسطروں سے بھی شورش اورمولاناکے تعلقات کی نوعیت کااندازہ لگایاجاسکتا ہے:
"راقم جنازہ میں شرکت کے لیے اسی روزدہلی پہنچا، مولاناکودفناکرہم ان کی کوٹھی میں گئے، توکچھ دیر بعدپنڈت جواہرلال آگئے اورسیدھا مولاناکے کمرے میں چلے گئے، پھرپھولوں کی اس روش پرگئے، جہاں مولاناٹہلاکرتے تھے، ایک گچھے سے سوال کیا:
"کیامولاناکی موت کے بعدبھی مسکراؤگے؟ "ـ
راقم آگے بڑھ کر آداب بجالایا، کہنے لگے:
"شورش، تم آگئے؟ مولاناسے ملے؟”ـ
راقم کی چیخیں نکل گئیں، مولاناہمیشہ کے لیے رخصت ہوچکے تھے اورملاقات صبحِ محشرتک موقوف ہوچکی تھی "ـ (ابوالکلام آزاد: سوانح وافکار، ص: 112)
آغاشورش کاشمیری کے نام سے ایک فیس بک پیج پر مولانا کےساتھ ان کی تصویردیکھی،تویادوں کے چراغ جل اٹھے اورپردۂ ذہن پروہ سب روشن ہونے لگا، جومختلف کتابوں میں پڑھاتھاـ کیاہمارے مولاناتھے اورکیاان کے عزیز!! اللہ دونوں کے درجات بلندفرمائے ـ آمین

متعلقہ خبریں

Leave a Comment