20 C
نئی دہلی
Image default
مباحثہ

مولانا ارشد مدنی و دیگر قائدین کی خدمت میں چند گذارشات

 

مولاناحذیفہ وستانوی

ملک میں ہندو مسلم سکھ عیسائی اتحاد کے بنتے ہوئے بہترین ماحول میں مولانا ارشد صاحب کا ہندو لفظ کو ہندوستانی کے معنی میں لینے کا موقف جو انہوں نے مکار اور عیار موہن بھاگوت سے سنا اور ایک بڑے مجمع میں نقل کیا، قابلِ افسوس ہے۔ہمارے یہ قائدین اگر کچھ نہیں کرسکتے تو خاموش ہی رہیں تو بہتر ہوگا! بہتر تو یہی ہوگا کہ اس طرح کا غیر ذمہ دارانہ بیان دینے کی جسارت نہ کریں۔ہمارے ان حضرات کے لیے متنازع اور غیر موزوں بیان بازی سے باز رہنا وقت كي سب سے بڑی ضرورت ہے۔ہندو کی وہ تشریح جو بھاگوت نے کی ہے اس سے اتفاق کیا جائے تو یہ بڑی ناعاقبت اندیشی ہوگی اور حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا۔ہندو لفظ کا اطلاق بہر صورت مذہب پر ہوتا ہے ۔آزادی سے قبل جب انگریزوں کو احساس ہوگیا کہ انہیں یہ ملک چھوڑنا ہی پڑیگا تو”لڑاؤ اور حکومت کرو” کی پالیسی کے تحت ہندومسلمانوں میں تفریق کے بیج بوئے، اسی کا نتیجہ ہے کہ آزادی کے 71 سال گزرنے کے باوجود ملک عمدہ وسائل پیداوار کے باوجود قابل ذکر ترقی نہیں کرسکا، جبکہ آپ کے سامنے جاپان، سنگاپور اور ہندوستان سے بڑے ملک چین کی مثالیں موجود ہیں، جنہوں نے وسائل پیداوار کی کمی کے باوجود مختصر عرصے میں تیزی کے ساتھ ترقی کی منزلیں طے کیں، اس لیے کہ انہوں نے تعلیم ،روزگار ، صفائی ستھرائی، راستوں اور سیاحتی مقامات کے ڈیولپمنٹ ، آپسی محبت ، امن و امان پر مکمل توجہ دی، منافرت اور جھوٹے وعدوں کے بجائے کام کرکے دکھایا، ایک دوسرے سے سیاسی بدلہ اور انتقام کے بجائے مل جل کر کام کرنے پر توجہ دی۔

آزادی کے بعد سے ہندو لفظ پورے زور و شور کے ساتھ مذہب کے لیے اور مسلمانوں سے نفرت کے لیے استعمال کیاجانے لگا۔اگر آپ ہندوستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں گے، تو یہ بات واضح ہوگی کہ مسلمانوں کے 8 سو سالہ دورِ حکمرانی میں ہندو مسلم شیر و شکر بن کر بڑی پرسکون زندگی گذار رہے تھے، امن کا ماحول تھا، مذہب کے نام پر کوئی جھگڑا نہیں تھا، مسلمان حکمرانوں کے یہاں ہندو برادران عہدوں اور منصبوں پر بلکہ فوج تک میں ہوتے تھے، ایک دوسرے پر جان نچھاور کرتے تھے ،اورجو ہندو بادشاہ ہوتے تھے انکے یہاں مسلمانوں کی بھی یہی کیفیت ہوتی تھی، اپنی حکومت کی توسیع کے لیے اور علاقوں پر قبضہ کے لیے ایک دوسرے پر چڑھائی کرتے تھے، جس میں ایک مسلمان حاکم دوسرے مسلمان حاکم پر حملہ آور ہوتا، تو کبھی ہندو بادشاہ دوسرے ہندو بادشاہ پر، اور کبھی مسلمان ہندو بادشاہ پر، تو ہندو مسلمان بادشاہ پر حملہ کرتے تھے، مگر اس میں مذہبی منافرت نہیں ہوتی تھی، اردو میں اس موضوع پر مستقل کتابیں موجود ہیں، لہذا موہن بھاگوت کا بیان جس کو مولانا نے نقل کیا ہے اور دبے الفاظ میں اس کے جھوٹے پروپیگنڈے کو تسلیم بھی کرلیا ہے، تاریخی ،اصولی اور موجودہ رائج حقائق سے سر اسر انحراف ہے، اس کی تائید وہ بھی یوم جمہوریہ کی تقریب میں نازک موڑ پر کھڑے ہندوستان کے حالات کے تناظر میں سراسر درو اندیشی کے خلاف ہے۔ ایسے حالات میں جب ایک طرف ہندوتو وادی اور سنگھی حکومت ہرحال میںاپنی ساکھ کو بچانے پر تلی ہے، باشندگان ہند کی مرضی کے خلاف پالیسیاں بنارہی اور شدید رد عمل اور مخالفت کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہورہی، جبکہ بیسیوں لوگ اپنی جانیں تک گنوا چکے ہیں، ملک میں ایک تو مندی اور پھر کاروبار ٹھپ ہے، سیاحوں کی آمد کم ہوگئی ہے اور ملک کے اکثر باشندے بلا تفریق مذاہب و ادیان اس کی پالیسیوں کے خلاف کمر بستہ ہیں، خود ہمارے ہندو بھائیوں کی اکثریت ان ہندوتو وادی تنظیموں کے رویے سے نالاں ہی نہیں، سخت غصے میں ہے، ایسے میں اس طرح کا بیان کیا دانشمندانہ ہوسکتاہے؟ بھاگوت کے زہر آلود اور نفرت آمیز بیانات سے کون واقف نہیں، یوٹیوب پر متعدد ویڈیوز اور گوگل پر بے شمار رپورٹیں اور تحریریں اس پر مل جائیں گی، لہٰذا اس طرح کے بیانات سے باز رہنا نہایت ضروری ہے، ورنہ پورے ملک کو نقصان ہوگا۔

ہمارے ملک کی آزادی کی تاریخ بڑی ہی روشن اور تابناک ہے، خاص طور پر مسلمانوں کی، اسی کو بیان کردیتے، اس موضوع کو چھیڑنے کی کیا ضرورت تھی؟ کس نے آپ سے یہ تشریح پوچھی تھی اور اس بھونڈی تشریح کی ضرورت ہی کیا تھی؟ہمارے ان بیان کرنے والوں کو جان لینا چاہیے کہ آزادی کے بعد بھائی چارگی کا یہ پہلا اتنا اچھا موقع ہے، اس کے بعد معلوم نہیں ایسا موقع دوبارہ آئے گا بھی یا نہیں، ایسا لگتا ہے اللہ کو ہندوستانی مسلمانوں کا کوئی اجتماعی عمل پسند آگیا یا اس نے اپنا خصوصی فضل کیا کہ ان ظالموں سے یہ غلطی صحیح موقع پر کروائی ،ان شاءاللہ اگر ہم نے اس موقع کو غنیمت جانا اور حکمت اور جرأت سے کام لیا تو آئندہ طویل عرصے تک مسلمانوں کو کچھ نہیں ہوگا ؟! ہمارے ملی وسیاسی قائدین دور اندیشی کے ساتھ جرأت ،ہمت اور نزاکت کو پیش نظر رکھ کر خوب اچھی طرح سمجھ کر کوئی بھی بیان دینے کی زحمت فرمائیں ۔ اویسی برادران بھی جذباتی بیانات سے گریز کریں، جو نہایت ضروری ہے، بلکہ کوئی بھی خطیب اور مقرر منافرت آمیز بیانات سے مکمل اجتناب برتے، بردران وطن کو اپنے سے قریب کریں، عمدہ اخلاق سے پیش آئیں ،ان کی مدد کریں، انہیں بٹھا کر بھائی چارے کے قصے سنائیں۔ملت اسلامیہ سنگین مسائل اور مشاکل کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے، برائے کرم اسے اس گرداب سے نکالنے کی کوشش کی جانی چاہیے ،نہ کہ اس میں مزید اضافے کا سبب بننا چاہیے ۔ اگر کچھ نہ ہو تو السکوت سلامۃ اور من صمت نجا نیز فلیقل خيرا أو ليصمت ہی پر عمل کرلیں۔

اس طرح کی تحریر کا مقصد اختلاف نہیں ،بلکہ قضیہ کو سمجھانے کی ایک ادنیٰ کاوش ہے؛ لہذا کسی کو چیں بہ جبیں ہونے کی ضرورت نہیں، بلکہ غور کرنے کی دعوت ہے اور ملک کو سالمیت کی طرف لیجانے کی کوشش كرنا ہے، مولانا ارشد صاحب سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ وہ اپنے بیان سے رجوع کریں، تاکہ ملت اسلامیہ ہندیہ کا اضطراب ختم ہو۔بعض حضرات نے مولانا کا بے جا دفاع کرنے کی کوشش کی ہے یہ کہہ کر کہ ہندو سے ہندوستانی مراد ہے، تو میں ان سے کہنا چاہوں گا کہ ہمیں مولانا سے کوئی عداوت نہیں ہے ،بلکہ مولانا بہرحال ہم سب کے محترم ہے، البتہ مولانا کا بیان رائج عرف کے خلاف ہے، اس لیے کہ عرف میں اگر ہندو بولا جائے تو ذہن میں فوراً کیا آتا ہے ؟ ہندو سے ہندوستانی ہرگز نہیں، بلکہ ہندو مذہب کا ماننے والا یہ بات واضح ہے۔بعض نے یہ کہہ کر دفاع کی کوشش کی کہ ہندو مذہب میں اصل توحید ہے ،مگر وہ فراموش کر چکے ہیں ،تو اس سے بھی کہاں انکار ہے ؟! اولا تو ہندو اور ہندوتو میں فرق جاننے کی ضرورت ہے۔ مولانا عبد الحمیدنعمانی نے اپنی کتابوں میں اس فرق کوبڑے اچھے انداز میں بیان کیاہے، مگر یہاں اس کے لیے گنجائش نہیں ہے ،مسئلہ دراصل یہ ہے کہ مولانا نے جس تناظر میں اور جن حالات میں بیان کیاہے ،وہ اصل ہے ،آج ہندو بول کر سنگھی ہندتو مراد لیتے ہیں، خاص طور پر مولانا نے جس شخص سے گفتگو کا تذکرہ کیا ہے ،وہ ہندتو وادی تحریک کا سربراہ ہے اور ان کے نزدیک ہندو کا مطلب مسلم دشمنی ،مسلم منافرت اور تمام ہندوستانیوں کو اصلا ہندو ثابت کرنا ہے ،ورنہ اگر حقیقت کے اعتبار سے دیکھا جائے ،تو ہندو کوئی مذہب ہی نہیں ہے ،مگر ہندوتو وادیوں نے جو طبقاتی نظام ہے ،اسے ہندو مان لیا ہے ،ورنہ دلت ،ادیواسی وغیرہ پچھڑی قومیں تو ہندو ہی نہیں ہیں، خود ان کے بہت سارے پنڈت اور مذہبی پیشوا اس کے قائل ہے؛ لہذا موجودہ تناظر میں ہندو اورہندوستانی میں واضح فرق ہے، اسے تاویل کرکے بھی ایک نہیں مانا جاسکتا۔

بندہ تو اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ ان کی کتابوں میں وارد توحید، آخرت، نبوت سے متعلق جو اشلوک ہیں، انہیں آیاتِ قرآنیہ کے ساتھ جوڑ کر بتلایا جائے کہ دیکھو اصل مذہب یہ ہے اور اس میں تحریف اس طرح ہوئی ہے، خاص طور پر تعلیم یافتہ طبقے اور پچھڑی جاتی کے بردران کو یہ بتانے کی سخت ضرورت ہے؛ بلکہ انہیں یہ بھی بتایا جائے کہ ہندو اور ہندوتو میں کیا فرق ہے اور یہ ہندتو وادی اپنے مادی اور سیاسی مفاد کے لیے کس طرح انہیں استعمال کرتے ہیں ؟ جس ہندتو کا یہ پرچار کرتے ہیں ،وہ کس طرح ظالمانہ طبقاتی نظام کا حامل ہے اور مسلمانوں نے اپنے دور میں کس طرح اس طبقاتی نظام کو چلنے نہیں دیا اور انہیں ظلم سے روکا اور ملک کو کس طرح ترقی کے بامِ عروج پر پہنچایا ؟اللہ ہم پر اپنا خصوصی فضل فرمائے اور ہمارے مسائل و مشاکل کو ختم فرمائے اور ہم سے راضی ہو جائے۔(آمین یا رب العالمین)

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں ہے)

متعلقہ خبریں

Leave a Comment