Home ستاروں کےدرمیاں مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کی بصیرت -پروفیسر شکیل احمد قاسمی

مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کی بصیرت -پروفیسر شکیل احمد قاسمی

by قندیل
شعبۂ اردو، اورینٹل کالج، پٹنہ  
M : 9431860419
مفکر اسلا م مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کا نما یا ں کا ر نا مہ یہ ہے کہ انہوں نے مذہبی مو ضو عات میں ادب کا رنگ و لطف پیدا کیا اور تحقیق و تنقید کو گلے ملا دیا ۔ وہ مورخ ، نقاد ، محقق اور منفرد اسلو ب کے مصنف اور ادیب تھے ۔ انہوں نے اسلا می تہذیب و تا ریخ کا احسا س ایک غا لب و پا ئیدا ر عنصر کی حیثیت سے کرایا اور اپنی خا لص اسلا می فکر کی تصورا تی رنگ آ میزی سے دنیا کے سامنے ایک مثا لی نظا م حیا ت کا خا کہ پیش کیا ۔ اعلی نصب العین کی سو سا ئٹی کی تشکیل ان کی فکر کی سب سے اہم خصوصیت ہے ۔ اپنے گہر بار قلم سے صالح قدیم و نا فع جدید کا ایسا حسین امتزاج پیش کیا ، جو قا بل رشک بھی ہے اور لا ئق تحسین و تقلید بھی، انہوںنے اپنے مو قف کا خو د اعلا ن کیا : ’’میں اس ادب اور پیغا م کی طرف بے اختیا را نہ بڑھتا ہوں ، جو بلند نظری ،اعلی حوصلگی اور احیا ئے اسلا م کی دعوت دیتا ہے اور تسخیر کا ئنا ت اور تسخیر انفس و آفاق کے لئے ابھا ر تا ہے اور جو محمد ﷺ کی عظمت اور ان کے پیغا م کی آفاقیت و ہدا یت پر ایما ن لا تا ہے۔‘‘
سید ابوالحسن علی ندوی کی شخصیت مشاہیر ، علماء اور دانشوروں کی نظر میں حد درجہ مقبول رہی ہے، بقول سید سلیمان ندوی ’حجازومصرکی فضائیں ان کی دعوت کے نغموںسے مسحور ہیں‘، بقول عبد الماجد در یابادی ’علی میاں تاروں کی جھرمٹ کے درمیان آفتاب ہیں‘ ، رشید احمد صدیقی کے خیال میں ’مولانا کی تحریر اسلوب اوراظہار کے اعتبار سے جتنی سنجیدہ اور موئثر ہے اتنی  ہی دلکش بھی ‘، آ ل احمد سر ور کہتے ہیں ’مو لا نا مفکر بھی ہیں ، مصنف بھی، مورخ بھی ہیں معلم بھی ، اور ادب کا ایسا رچا ہوا ذوق رکھتے ہیں کہ ان کی تحریر و تقریر میں حکمت کے سا تھ شعر یت کی آ ب وتا ب جلوہ گر رہتی ہے ‘، ما ہر القا دری کی نگا ہ میں ’شبلی کا قلم ، غزا لی کی فکر ، اور ابن تیمہ کا جو ش وا خلا ص علی میا ںکی تصنیف میں کا ر فر ما ہے ۔‘
مو لا نا اپنے نظر یہ علم کی وضا حت کر تے ہو ئے فر ما تے ہیں: ’’میرا عقیدہ ہے کہ علم ایک اکا ئی ہے جو بٹ نہیں سکتی ۔ اس کو قدیم و جدید، مشرقی و مغربی ، نظری و عملی میں تقسیم کر نا صحیح نہیں ،میں علم کو ایک صدا قت ما نتا ہوں ،جو خدا کی وہ دین ہے ،جو کسی ملک اور قو م کی مِلک نہیں اور نہ ہو نی چا ہئے، مجھے علم کی کثرت میں بھی وحدت نظر آ تی ہے ، وہ ’وحدت‘ سچا ئی ہے ، سچ کی تلا ش ہے ، علمی ذو ق ہے اور اس کو  پانے کی خو شی ہے۔‘‘
مفکر اسلام سید ابو الحسن علی ندوی ایک ایسی شخصیت کا نام ہے جن کی حیثیت علاقائی ، صوبائی ، قومی ہی نہیں بلکہ عالمی اور بین الاقوامی تھی ، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ رب کائنات نے انھیں بہت سی خصوصیات اور مختلف صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ اور انھوں نے اللہ کی طرف سے عطا کی ہوئی تمام صلاحیتوں کا بجا اور بہترین استعمال بھی کیا، چناں چہ ایک طرف اگر وہ اخلاص کی دولت سے مالامال ، ملی تڑپ ان کے سینے میں موجزن اور علم و مطالعہ سے ان کی زندگی عبارت تھی تو دوسری طرف بیش قیمت تجربات ، وسیع النظری اور دینی غیرت و حمیت کا سرمایہ ان کے پاس تھا ، اور اظہار حق ان کا طرہ امتیاز ۔ مولانا کی پوری زندگی کا مطالعہ ہمیں یہ باور کراتا ہے کہ انھوں نے ہمیشہ مذہبی و ملی مفاد ، دین کی بالادستی اور حق گوئی کو اپنا شعار بنایا اور کبھی بھی اس میں کسی فرد ، ادارے،شہرت و جاہ طلبی، ادنی درجے کی مادیت پسندی یا کسی اور مصلحت کو حائل نہ ہونے دیا۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان کی گراں قدر علمی صلاحیت اور دیگر اعلی خصائل کی بنیاد پر ہر عہد میں ان کی شخصیت اور ان کی عظمت و مقبولیت تسلیم کی گئی۔
حضرت مولا نا کی عا لمی مقبو لیت او رشہرت کا را ز صرف علم کی وسعت ، تصا نیف کی کثرت ، کئی زبا نو ں پر قد رت اور اسلوب کے جما ل میں پوشیدہ نہیں بلکہ وہ دا رالعلو م ند و ۃ العلما، مدا رس عر بیہ ، دینی تعلیمی کو نسل ، آ ل انڈیا مسلم پر سنل لا بو رڈ ، عا لمی را بطہ ادب اسلا می او ر بہت سے علمی ادا روں کے روح روا ں ، سربراہ اور مشیر خا ص تھے ۔ ان کے فکر و عمل میں وسعت تھی اور شخصیت میں حد در جہ توا زن و اعتدا ل۔وہ اپنے اعلی اخلاق و کردا ر کی وجہ سے سبھوں میں مقبو ل ہیں اور مسلک و نظر یات کے اختلا ف کے با وجو د لو گ انہیں خرا ج تحسین و عقیدت پیش کر تے ہیں۔
مولانا نے اپنی خطابت کے ذریعے موثر انداز میں اسلام کی ترجمانی ، صالح قدروں کی تشکیل ،اسلامی طرزپر نوجوانوںکے مستقبل کی تعمیر کا مقدس فریضہ بھی انجام دیا ہے، وہ نوجوانوں کو ملت کا کار آمد اور مفید سرمایہ تصور کرتے ہیں ،وہ اپنی تقریروں میں ان کی توجہ اس جانب بھی مبذول کراتے ہیں کہ یورپ جا کروہ اعلی تعلیم حاصل تو کریں لیکن اس پر نظر رہے کہ مغربی تہذیب کے دلدادہ اور ذہنی مغلوبیت کے شکار نہ ہو جائیں، وہ قوم کے جیالوں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس انتہائی موثر انداز میں اپنی ایک تقریر میں دلاتے ہیں: ’’عزیز نوجوانوں ! آپ مغرب اس لیے نہیں آئے کہ آپ موم کی طرح پگھل جائیں ۔ آپ اس لیے آئیں ہیں کہ ایک نیا عالم تعمیر کریں ۔ابراہیم کے فرزند اور ان کے پیرو ہی ایسا عالم تعمیر کر سکتے ہیں ۔جن پاک باز ،امانت دار ہاتھوں نے حرم کی تعمیر کی انھیں کے نام لیوا اور انھیں کے پیرو نئے عالم کی تعمیر کر سکتے ہیں ، آج دنیا زبان سے یہ کہہ رہی ہے: ’معمار حرم باز بہ تعمیر جہاں خیز ‘ ۔ آپ مغرب اس لیے ہر گز نہیں آئے ہیں کہ یہاں سے واپس جاکر اہل مشرق کو طوطوں کی طرح رٹا رٹایا سبق سنائیں، بندروں کی طرح نقلیں بنائیں ۔ مشرق کو ایسے صاحب ہمت اور صاحب دانش انسانوں کی ضرورت ہے جن میں ایسی جرأت ہو کہ وہ مغرب سے کہہ سکیں کہ تو نے یہاں یہاں غلطی کی ہے۔‘‘
تصنیف و تا لیف ، زبا ن و ادب، فکر اسلا می کی بلندی ، عا لم اسلا م کے مسا ئل پر گہری نظر ، عا لمی دینی تحریکا ت کی سر پر ستی اور با طل رجحا نا ت پر نکیر ، اسلا می تشخص کا دفا ع ، حکو متوں کو جھکا دینے کی رو حا نی طا قت ، دو لت دنیا سے بے نیا زی ، اور شان ا ستغنا سے بہر ور مو لا نا نے اپنی شخصیت اور کر دار سے دعوت وعزیمت کی تا ریخ کا ایک جلی عنوان قا ئم کر دیا ۔ وطن عزیز کے لئے آپ کی فکرمندی اور دلسوزی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دوران علالت آپ کی عیادت کے لئے اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی جب ندوہ آئے تو اخلاقی ملاقات کے بعد حضرت نے ان سے کہا :  ’’ اٹل جی !  خدا کے یہاں سیاست نہیں چلتی ،خلوص چلتا ہے ، سچائی چلتی ہے ، خلوص کے ساتھ کام کیجئے کامیابی قدم چومے گی ، ترقی کی راہیں کھلیں گی اور فتح و کامرانی آپ کے قدم سے قدم ملا کر چلے گی ۔ اوپر والے نے آپ کو اتنا بڑا ملک دیا ہے وہ اس ملک کے بارے میں آپ سے پوچھے گا بھی ، آپ کو یہ ایک موقع ملا ہے کہ آپ اس ملک کو اتنی ترقی دیں اور اس کو اتنا خوشحال اور پر امن بنائیں کہ لوگ دوسرے ملکوں میں جانے کے بارے میں سوچیں بھی نہیں۔ ‘‘مزا ج کی نر می کے با وجو د قیا دت کے منصب کے تقا ضے کی ادائیگی میں مسلم پر سنل لا بو رڈ کے صدر کا جر اتمندا نہ اقدا م ہندوستا ن کی ملی تا ریخ کا قا بل فخر حصہ بن گیا ۔جب حکومت وقت کو متنبہ کر تے ہو ئے مو لا نا نے فر ما یا کہ’ اگر سر کا ری اسکو لوں سے پو جا کی لازمیت کو نہیں ہٹا یا گیا تو ہم مسلما نو ں سے کہیں گے کہ وہ اپنے بچوں کو اسکو ل سے نکا ل لیں‘ ۔حضرت کے اعلا ن کے دو سرے دن حکو مت نے اپنا فیصلہ وا پس لیا اور ان سے معذرت کی ۔ مفکر اسلا م نے اس اقدا م سے نہ صر ف حکو مت کی گو شما لی کی بلکہ ہند وستا ن کی ملی قیا دت کے سا رے قا ئدین کے لئے ایک اعلی نمو نہ پیش کیا۔مختلف مو قعوں پر اس طرح کے فیصلو ں کی ضرورت محسو س ہو تی ہے ۔
اعتدال اور توازن مفکر اسلام سید ابو الحسن علی ندوی کے فکر و عمل کا جوہری وصف تھا،وہ سارے معاملات میں اس کا خیال رکھتے ، یہ وہ خوبی تھی جس کی بنا پر وہ ہر حلقہ میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے، بلائے جاتے،مسند صدارت پر بٹھائے جاتے ، ادارے اور افراد نگاہ و نظر فرش ِراہ کرتے اور حددرجہ احترام کے ساتھ پیش آتے۔ان کا طرز عمل عزیزوں کے ساتھ شفقت اور بزرگوں کے ساتھ اکرام کا ہوتا۔ وہ مثبت طرز فکر کے آدمی تھے۔جہاں کوئی خوبی نظر آتی اس کی قدر کرتے ، کار آمد افراد اور طبقوں کو دعوت فکر و عمل دیتے۔دانشوراورمذہبی شخصیتوں کی ذمہ داری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ جب کسی دور میں اخلاقی گراوٹ کا ایسا دورہ پڑتا ہے تو اس وقت دو طبقے میدان میں آتے ہیں ، ایک مذہبی پیشوائوں کا طبقہ ، دوسرا دانشوروںکا طبقہ ، اس وقت بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ مذہبی پیشوا اور مذہبی انسان اور دانشور میدان میں آئیں ، وہی اس وقت معاشرہ کو بچا سکتے ہیں۔‘‘
1997میں جب پٹنہ میں ’عالمی رابطہ ادب اسلامی ‘کا سمینار اور ’پیام انسانیت کانفرنس‘ کا ہم لوگوں نے انعقاد کیا تھا۔مجلس استقبالیہ کے صدر ڈاکٹر احمد عبدالحئی صاحب تھے،راقم الحروف (شکیل احمد قاسمی) سکریٹری کی حیثیت سے ذمہ داری ادا کر رہا تھا،حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب امارت شرعیہ، ڈاکٹر حبیب الرحمان چیغانی صاحب ڈائریکٹر خدابخش لائبریری ، جناب شفیع مشہدی صاحب اور دوسرے حضرات،اراکین میں شامل تھے۔مفکر اسلام پٹنہ تشریف لائے، ڈاکٹر صاحب کے یہاں ان کا قیام تھا۔ ہم لوگوں نے ان سے عرض کیا :  بینر کے اوپر ’’ میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہونچے‘‘ لکھا گیا ہے ، انہوں نے فوراََ پوچھا کیا اس کا پہلا مصرعہ بھی آپ لوگوں نے لکھا ہے ؟ ہم لوگوں نے جواب دیا نہیں تو انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا۔ پہلا مصرعہ’’ان کا جو فر ض ہے وہ اہل سیاست جانیں‘‘ اس سے جو پیغام نکلتا ہے اور طنز و تعریض کی جو صورت سامنے آتی ہے اس سے اہل علم واقف ہیں۔ مولاناحساس تھے اور اس قدر احتیاط پیش نظر رکھتے تھے۔ اس طرح ہم تمام لوگوں کی انہوں نے تربیت فرمائی۔ ’’سید ابو الحسن علی ندوی اور ان کی ادبی خدمات ‘‘  میرے تحقیقی مقالہ (Ph.D.) کا عنوان تھا ، اس طرح مجھے ان کی شخصیت اور تصانیف کو تفصیل سے جاننے اور پڑھنے کا موقع مل سکا، یہ میری خوش نصیبی اور سعادت تھی ۔ 31 ؍ دسمبر 1999کوبیسویں صدی کا یہ روشن آفتابِ علم و ادب یہ کہتے ہوئے غروب ہو گیا کہ  :
سورج ہوں زندگی کی رمق چھوڑ جاؤں گا
میں ڈوب بھی گیا تو شفق چھوڑ جاؤں گا

You may also like