حضرت مولانا حسن الہاشمی: کچھ یادیں کچھ باتیں ـ مرتضی ہارونی

 

رمضان ۱۴۴۱ میں ایک متعارف شخص کا فون آیا، علیک سلیک کے بعد انہوں نے بتایا کہ ان کے بھائی کی طبیعت خراب ہے اور کئی عاملین کو دکھانے کے باوجود کچھ بھی افاقہ نہیں ہورہا ہے لہذا آپ مولانا حسن الہاشمی سے بات کیجیے اور ان سے علاج کروادیجیےـ میں نے رات گیارہ بجے استاذ العاملین مولانا حسن الہاشمی سے بات کی،حضرت نے کہا کل آئیے اور میں ان کے گھر صحیح وقت پر پہنچ گیا اور حضرت سے کئی معاملات پر تبادلۂ خیال کیا۔

حضرت مولانا حسن الہاشمی رحمہ اللہ طلبا سے حسن اخلاق سے پیش آتے تھے، طلبا، علما، عوام اور خواص کے مسائل و معاملات پر نظر رکھتے تھے، امیر، غریب،علما، طلبا، صحافی اور نیتا سبھی کا احترام کرتے تھے اور دیوبند میں اپنے ادارہ "خدمت خلق” کے پلیٹ فارم سے غریبوں، اساتذہ، متعلقین اور کمزور افراد کی مدد کیا کرتے تھے۔

حضرت مرحوم نے عملیات کے ذریعے کئی بڑی شخصیات کا علاج کیا ہےـ ہندوستان کے وزیراعظم نرسمہا راؤ نے حضرت سے اپنا علاج کروایا تھا، آپ طلبا کو رسوخ فی العلم پیدا کرنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے، امت کے باہمی انتشار سے سخت نفرت کیا کرتے تھے اور اتحاد امت کے علمبردار تھے، آپ امت مسلمہ کے مستقبل سے مایوس نہیں تھے اور آپ کہا کرتے تھے کہ اللہ جلد از جلد حالات کو ہمارے موافق کردے گا ۔

آپ دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد کچھ سالوں تک تدریسی خدمات سے جڑے رہے، اس کے بعد سماجی طور پر کام کرتے رہے، کئی مجلات میں بطورِ مدیر کام کرتے رہے۔عملیات کے ذریعہ عوام وخواص کو مستفید کرتے رہےاور آپ ہمیشہ توکل کی تلقین کرتے تھے۔

اللہ سے دعا ہے کہ اللہ آپ کے حسنات کو قبول فرمائے۔ میں دکھ کی اس گھڑی میں حضرت مرحوم کے صاحبزادہ ربیع ہاشمی اور مفتی وقاص جامی کو تعزیت مسنونہ پیش کرتا ہوں۔

  • Murtaza harooni
    6 نومبر, 2020 at 15:43

    Shukriya qindeelonline

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*