مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کے ہاتھوں خطبات سبحانی کا اجرا

مونگیر: جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے موقر استاذ الاساتذہ حضرت مولانا عبد السبحان رحمانی کے خطبات کا مجموعہ خطبات سبحانی جلد دوم کا شاندار اجرا کتب خانہ رحمانیہ، خانقاہ رحمانی مونگیر میں کووِڈ گائڈ لائنس پر عمل کرتے ہوئے خانقاہ رحمانی مونگیر کے سجادہ نشیں حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ پروگرام کا آغاز قاری نظام الدین رحمانی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔جبکہ مشہور نعت خواں مولانا منظر قاسمی رحمانی نے نعت پاک کا نذرانہ پیش کیا۔پروگرام میں افتتاحی خطاب کرتے ہوئے کتاب کے مرتب فضل رحماں رحمانی نے کتاب کی افادیت و جامعیت پر مختصر روشنی ڈالی اور کتاب کے لیے حضرت امیر شریعت سابعؒ کی لکھی گئی کلمات تبریک کو اپنے لیے باعث سعاوت و عز و شرف قرار دیا۔ ساتھ ہی کتاب کے اجرا کے لیے حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کا شکریہ ادا کیا۔ کتاب کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انھوں نے کہا کہ عام طور پر طلباء اس خلجان میں مبتلا رہتے ہیں کہ ہم تقریر کیسے کریں؟ ایسے طلبا کے لیے مولانا عبد السبحان رحمانی صاحب کی یہ کتاب آزمودہ ہے کہ اس میں کم و بیش تمام عناوین پر تقریریں موجود ہیں، ساتھ ہی تقریر مقبول اور موثر کیسے ہو ؟اپنی بات پہنچانے اور لوگوں کے سامنے مافی الضمیر پیش کیسے کریں؟ اور تقریری صلاحیت کو کیسے جلا بخشیں؟ ان تمام امور پر رہنمائی کی گئی ہے۔یہ کتاب اصلاحی مواعظ اور خطبات کا اہم مجموعہ ہے۔اس میں علم، حکمت، تذکیر اور نصیحت کی باتیں جمع کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطبات سبحانی جو اس وقت آپ کے ہاتھوں میں ہے وہ جامعہ رحمانی، خانقاہ رحمانی، ریاست و بیرون ریاست کے مختلف پروگراموں میںحضرت مولانا کے کیے گئے خطاب کا مجموعہ ہے۔
معہد عائشہ خاتو پور، بیگوسرائے کے مہتمم اور مشہور عالم دین مفتی عین الحق امینی قاسمی نے کہا کہ میں نے حرف بحرف خطبات سبحانی کا مطالعہ کیا ہے۔ ان شاء اللہ اس سے بہت سے گھروں کی اصلاح ہوگی۔ خاص طور پر مستورات اس میں موجود مختلف عناوین سے خصوصی دلچسپی لے کر استفادہ کر سکتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کو پروگرام میں دیکھ کر انہیں محسوس ہوا کہ یہاں کوئی صاحب نسبت اور وسیع الطرف بزرگ جلوہ افروز ہیں۔ہمیں چاہئے کہ حضرت مدظلہ کی ہمہ جہت صلاحیتوں سے خوب استفادہ کریں۔ پروگرام کے اخیر میں خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشیں حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نے کتاب کی رونمائی کی اور اپنے اہم خطاب میں ایک کتاب کو لکھنے سے لے کر چھپنے کے مرحلے تک کی تمام کنہ اور باریکیوں سے آگاہ کرایا اور کہا کہ لوگوں کو خطبات سبحانی کے طرز پر کام کرنا چاہیے۔ خاص طور پر جو ایک بہترین کتاب کی شناخت ہے کہ اس کے ہر پہلو میں حوالہ جات موجود ہوں وہ اس کتاب میں موجود ہے۔ ہم سبھوں کو اپنی تحریر و تقریر میں اس پر خصوصی توجہ دینا چاہیے۔مولانا عبد السبحان رحمانی نے اِس موقع پر حضرت سجادہ نشین مدظلہ کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا اور حاضرین سے اپنے لیے دعا کی درخواست کی۔ پروگرام کی نظامت مولانا عبدالدیان رحمانی ناظم تعلیمات جامعہ رحمانی مونگیر نے انجام دی اور اپنے ابتدائی کلمات میں کتاب کی افادیت و اہمیت پر موثر انداز میں تفصیلی روشنی ڈالی۔پروگرام میں شہر ارریہ کے قاضی شریعت مولانا عتیق اللہ رحمانی، سماجی کارکن قاری جسیم الدین، حافظ امتیاز رحمانی، حافظ احتشام رحمانی، قاری جوہر نیازی رحمانی ، مولانا کبیر الدین رحمانی، مولانا رضاء الرحمان رحمانی، مفتی صالحین ندوی، مفتی محمد طٰہ قاسمی، مولانا مفتی نصراللہ مظاہری، مولانا عبدالعلیم رحمانی، مولانا عبدالاحد رحمانی وغیرہ نے شرکت کی۔پروگرام کا اختتام حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر کی پر سوز دعا کے ساتھ ہوا۔ تقریب اجرا کے موقع پر خطباتِ سبحانی جلد دوم کا نسخہ مولف کتاب کی طرف سے تمام حاضرین کو پیش کیا گیا۔