مولانا عبدالمنان نعمانی:ایک باوقا عالم اور بے لوث خادم دین-محمد سرفراز عالم قاسمی

اسسٹنٹ پروفيسر، ایم.ٹی.ٹی.کالج مدھےپور، مدھوبنی

شمالی بہار کی قدیم دینی درسگاہ مدرسہ اشرفیہ عربیہ پوہدی بیلا کے سابق صدر المدرسین ، مدرسہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ دھموارہ کے مہتمم اور پکڑی کے امام وخطیب حضرت مولانا عبدالمنان صاحب نعمانی آواپوری 5 اپریل 2020 مطابق 11 شعبان المعظم 1441 بروز اتوار تقریبا 48 سال کی عمر میں نٸ دہلی کے ایمس میں انتقال کرگئے۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون۔

مولانا عبدالمنان نعمانی رحمہ اللہ نے دربھنگہ ضلع کے شمالی علاقے خصوصا پوہدی ، پکڑی اور دھموارہ میں اپنی ابتداے جوانی سے موت تک تقریبا 28 سال تک دینی علمی اور اصلاحی عظیم خدمات انجام دیں۔ مولانا کی کوٸی تصنیفی خدمت نہیں ہے، آپ کی حیثیت اس کسان کی طرح ہے جوکسی بنجر زمین کو سینچاٸی اور آب پاشی کے بعد اسے کاشتکاری کے لاٸق بناتاہے، خصوصا پکڑی کی دینی آبیاری کے حوالے سے آپ کی خدمات نہایت روشن ہیں۔

راقم الحروف کی کچھ یادیں
مجھے یاد آتا ہے کہ کوئی 2000 یا 2001 کے پاس میں نے پہلی دفعہ آپ کو پوہدی مدرسہ کے صحن میں دیکھا تھا، داخلہ امتحان کاوقت، چٹاٸی پر بیٹھے ہوئے، سامنے ایک ڈیسک اور تپاٸی، اردگرد گردطلبا کا ہجوم، ٹھنڈی کا موسم، کالی شیروانی زیب تن کیے ہوئے، داخلہ فارم تقسیم کررہے ہیں، امتحان کے لیے اساتذہ کے پاس بھیج رہے ہیں، اور نتائج کے بعد داخلہ کی کارواٸی مکمل کرنے میں مصروف ہیں۔

آخری مرتبہ 2016 میں آپ سے حیدرآباد میں ملاقات ہوٸی، آپ کے بڑے صاحبزادے عبداللہ مسعود، مولانا آزاد نیشنل اردو یونيورسٹی سے پالی ٹیکنیک کررہے تھے اور احقر بھی مذکورہ یونيورسٹی میں ایم۔ایڈ میں زیر تعلیم تھا، ملاقات پر احقر سے زیادہ مولانا ہی خوش نظر آئے، بہت دیر تک بات چیت کی، دعائيں دیں اور مزید علم وعمل کی نصیحت و تلقین کی۔

ابتدائی احوال
آپ کی پیداٸش 1971 میں اپنے آباٸی وطن آواپور ضلع سیتامڑھی میں ہوٸی، آپ کے والد وصی احمد صاحب کم تعلیم یافتہ مگر دیندار تھے ۔

ابتدائی تعلیم اپنے گاٶں کے مدرسے میں حاصل کی اس کے بعد کان پور چلے گئے، وہاں متوسطات تک تعلیم حاصل کی اس کے بعد اعلی تعلیم کے لۓ آپ دارالعلوم مٸو یوپی داخل ہوئے، آخری سال دورہ حدیث شریف کے لیے آپ دارالعلوم دیوبند جانا چاہتے تھے مگر آپ کے والد گرامی کلکتہ میں ایک لوہے کی فیکٹری میں سینر ملازم تھے ایک جونيئر ملازم نے خبر دی کہ ایک لوہا پگھل نہیں رہا ہے چنانچہ بغیر پیشہ ورانہ لباس پہنے ہی وہ دیکھنے چلے گئے، مگر اتفاق سے وہ لوہا پک چکا تھا چنانچہ وہ پھٹا جس کی وجہ سے آپ کے والد بہت زخمی ہو گئے، اب مولانا کےپاس دو راستے تھے یا تو والد کی عیادت اور تیمارداری کرنے کلکتہ جاٸیں یا تعلیم کے لیے دیوبند، چنانچہ آپ والد کی خدمت کو ترجيح دی اور دیوبند نہیں گئے اور پھر واپس آکر فراغت دارالعلوم مٸو سے ہی حاصل کی۔ آپ کے اساتذہ میں مولانا سیف الاسلام صاحب شیخ الحدیث مٸو، اور مولانا احمداللہ صاحب مٸو وغیرہ ہیں۔ آپ زمانہ طالب علمی میں درسی کتاب اور اسباق کا مذاکرہ اور تکرار کرایا کرتے تھے جو طلبا میں بہت مقبول ہواکرتا تھا، اور آپ کے حلقہ مذاکرہ میں طلبا کی بہت بھیڑ ہوا کرتی تھی۔ جس کی وجہ سے آپ کو آپ کے اساتذہ عزیز رکھاکرتے تھے۔

مدرسہ اشرفیہ عربیہ پوہدی بیلا میں تقرری
فراغت کے بعد آپ سیوان کے کسی مدرسے میں چار سال تک استاد رہے، وہاں کے ایک استاد تھے قاری ہارون صاحب جو آپ کے ساتھ تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے وہ وہاں سے چھوڑ کر مدرسہ اشرفیہ عربیہ پوہدی بیلا آگئے تھے، اسی درمیان پوہدی مدرسہ کے ایک مشہور اور باصلاحیت استاد اور صدرمدرس مولانا فیاض احمد قاسمی استعفی دیکر چلے گئے تھے اور مدرسہ کو ایک اچھے استاد کی ضرورت تھی چنانچہ قاری ہارون صاحب کے ذریعہ مولانا یہاں تقریبا 1996 میں تشریف لائے، ابتدائی ایک دو سال بحیثیت استاد رہے پھر اس کے بعد صدرمدرس بنائے گئے، یہ مدرسہ کا سنہرا دور تھا، مدرسہ کی مسجد ،کتب خانہ، مہمان خانہ دارالطعام وغیرہ کی تعمیر جدید میں آپ کا تعاون ، دینیات و حفظ کی اعلی تعلیم، عربی جماعت پنجم تک اضافہ، بہترین انتظامی امور آپ کی صلاحيت کا بہترین عکاس اور نمونہ کا مظہرتھا۔ مولانا نے اس مدرسہ میں کم وبیش 13 سال خدمات انجام دیں، یہ زمانہ اس مدرسہ کا علمی اعتبار سے قابل تقلید تھا، تعلیم کا معیار بہت اعلی ہوتا تھا، مدرسہ کی حیثیت سے زیادہ داخلہ لینے والے طلبا کی بھیڑ ہوتی تھی، مجبورا بہت سے طلبا کو واپس لوٹنا پڑتا تھا۔
احقر نے مولانا سے ہی ہےگلزاردبستاں، فارسی کی دوسری، میزان الصرف، پنج گنج، نورالایضاح اور مختصر القدوری مختلف جماعتوں میں پڑھیں، مولانا کا انداز تدریس بہت عمدہ اور صاف ستھرا ہوتا تھا، افہام و تفہيم کا زبردست ملکہ تھا، مولانا ایک بہترین مدرس و منتظم تھے آپ کے زیر صدارت پوہدی مدرسہ میں عربی پنچم تک تعلیم کا آغاز ہوا، ہر جماعت میں طلبا کی اچھی خاصی تعداد ہوتی تھی، جلالین شریف ، ہدایہ اور ترجمہ قران شریف وغیرہ آپ کے زیر تدریس رہی۔

مولانا کا اسلوب خطابت
آپ بہترین خطیب تھے اور دور دور تک جلسہ اور پروگرام میں شرکت کے لیے جاتے تھے ، پوہدی مدرسہ کےجلسہ میں نظامت کے فرائض بحسن وخوبی انجام دیتے، انجمن تہذیب اللسان اور دیواری پرچہ کے نگران تھے اور طلبا ہفتہ واری پروگرام میں خود موجود رہتے تھے، طلبا کے اندر ایک عجیب سی گھبراہٹ ہوتی تھی آپ اسے محسوس کرکے دور کرنے کی کوشش کرتے، بیان و اسلوب پر زور دیتے، مافی الضمیر کو ادا کرنے کی ہر صلاحيت اور طور طریقے سے روشناس کراتے، احقر کی ٹوٹی پھوٹی خطابی صلاحيت میں آپ کا اہم حصہ ہے۔ آپ کے کمرے میں ایک چھوٹی سی لاٸبریری ہوتی تھی، مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم کی اصلاحی خطبات کی جلدیں سلیقے سے دو لاٸن میں ہوتی تھی جو دیکھنے میں بہت خوبصورت لگتی تھی۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مفتی تقی صاحب سے جو بعد میں عقیدت و واقفیت ہوٸی اس کی بیج سب سے پہلے مولانا مرحوم کے ذاتی کتب خانے میں اصلاحی خطبات کو دیکھ کر پیدا ہوئی تھی، چودہ پندرہ جلدوں میں کتاب دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ کوٸی بڑے عالم ہونگے، جو اتنی جلدوں میں تقریر کی کتابیں تحریر کی ہے، چوں کہ تقریر کرنا اس وقت بڑے عالم ہونے کی نشانی تصور کرتا تھا، جب ہوش آیا تو معلوم ہوا کہ یقینا وہ عالم اسلام کے شیخ الاسلام ہیں۔

مدرسہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ دھموارہ میں
یہ مدرسہ 2004 میں علاقے کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوۓ قاری اویس صاحب نے قاٸم کیا جس کی بنیاد میں خود مولانا مرحوم بھی شریک تھے، 2008 میں پوہدی مدرسہ کےناموافق حالات کی وجہ سے جب آپ علاحدہ ہوگئے تو آپ کی خدمات کو دیکھتے ہوئے دھموارہ کے لوگوں نے اصرارکیا کہ آپ مدرسہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ دھموارہ تشریف لاٸیں، ہمیں آپ کی ضرورت ہے، آپ کوبھی مذکورہ ادارے اور علاقے سے خاص انسیت تھی، اسی لیے آپ وہاں تشریف لےگئے، آپ کے جاتےہی وہاں کے لوگوں نے باہم مشورہ سے آپ کو مدرسہ کا مہتمم بنادیا، اس نوعمر مدرسہ کو آپ نے جی جان سے خدمت کرکے ایک تناور درخت بنادیا، حفظ و دینیات و نورانی قاعدہ کی اعلی معیاری تعلیم اور عربی جماعت سوم تک کا آغاز، اور باصلاحیت اساتذہ کی ایک ایسی جماعت بنائی جو مدرسہ کی ترقی کے لیے ضروری تھا، تقریبا 13 سال آپ نے اس ادارہ کی بحیثیت مہتمم خدمات انجام دی۔

”پکڑی“ کی دینی آبیاری میں مولانا کا کردار
”پکڑی“ ایک کثیر مسلم اکثریتی گاٶں ہے، جو ضلع دربھنگہ کے علی نگر تھانہ اور بلاک کے تحت آتا ہے،
یہ گاؤں جہالت اور بدعت کا گڑھ تھا، اس گاٶں کی دینی و اسلامی آبیاری علمی و فکری شعور کو بیدار کرنے میں آپ کا ناقابل فراموش کردار ہے، پوہدی مدرسہ اس علاقے کا ایک مرکزی ادارہ ہے جہاں سے اساتذہ قرب وجوار کے علاقے دینی و تعلیمی بیداری اور اصلاح معاشرہ کی غرض سے پروگراموں میں شرکت کرنے جاتےرہتےتھے،اسی وجہ سے آپ کو بھی کسی پروگرام میں خطاب کے لیے مدعو کیا گیا اور وہاں ایسا بیان ہوا کہ سارے لوگ آپ کے گرویدہ ہو گئے، قاری نسیم صاحب کے والد جو اس گاٶں کے چیدہ اور چنیدہ لوگوں میں سے تھے انہوں نے درخواست کی کہ مولانا آپ ہمارے ہاں جمعہ کی نماز پڑھ دیا کریں، چنانچہ آپ جمعہ کے لیے تشریف لےجانے لگے،رفتہ رفتہ لوگ آپ سے قریب ہوتے چلے گئے اور آپ مستقل طور پر گاٶں کے امام جمعہ وعیدین اور خطیب قرار پائے، آپ کو قوم کی اصلاح کی فکررہتی تھی جس کی وجہ سے بغیر تنخواہ کے اپنی جیب سے خرچ کرکے آٹو سے یا پیدل آپ پکڑی نماز جمعہ کے لیے تشریف لے جاتے تھے، جمعہ سے قبل آپ کا بیان ہوتا، آپ کا بیان سننے کے لیے قریب کی بستی کے لوگ بھی جمعہ پڑھنے اسی مسجد میں آتے اور مثبت اثر لے کر جاتے، آپ کے اسی جذبہ کو دیکھ کر دھموارہ کے ایک صاحب خیر نے آپ کو ایک ساٸیکل تحفہ میں دیا تھا،جب تک آپ پوہدی میں رہے اسے استعمال کرتے رہےاور جب جانے لگے تو مدرسہ کے حوالے کر کے گئے۔ اس زمانے میں کوئی معاوضہ یا تنخواہ نہیں تھی کبھی کچھ مل گیا کبھی نہیں ملا بس آپ کا آنا جانا شروع ہوا ۔ مولانا کے بیان کی وجہ سے لوگ آپ کے قریب ہوگئے، اور آپ اس گاٶں ایک اہم ذمہ دار بلکہ ہر چھوٹے بڑے معاملہ میں حکم اور قاضی تصور کیے جانے لگے۔

آپ جب تک پوہدی مدرسہ میں تھے تو پکڑی آتے جاتے رہتے تھے اور جب دھموارہ گئے تو مستقل طور پر پکری کواوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا۔ آپ کو وہاں کے لوگ میلاد، شادی بیاہ، میں شرکت کے لیے گاڑی سے لینے آتے اور آپ ہر خوشی و غم سب میں شریک ہوتے، اکثر نکاح آپ ہی پڑھاتے ، اس کی وجہ سے آپ سب لوگوں کے بالکل قریب ہوگئے تھے۔

بیس سالہ خدمات کے اثرات
تقریبا بیس باٸس سال آپ نے اس گاٶں کی دینی خدمت کی اس سے پہلا کام تو یہ ہوا پکڑی سے بدعت و جہالت کا خاتمہ ہوا، دینی و علمی شعور بیدار ہوا، آپ لوگوں کے دلوں میں اس قدر اتر گئے کہ ہر آدمی یہ سمجھتا تھا کہ آپ پکڑی کے ہی باشندے ہیں، رفتہ رفتہ میلاد ، قیام اور صلوۃ وسلام پر آپسی نزاع ختم ہوا اور الحمدللہ آج پکڑی میں دو تہائی لوگ اہلسنت والجماعت کے خیال کے ہیں، بدعت کا زور کالعدم ہوگیا۔ علما کی قدر ہونے لگی، آپسی اتحاد و اتفاق کا مزاج پیدا ہوا۔

مولانا کے کچھ اوصاف حمیدہ
میں نے اپنے پوہدی مدرسہ کے زمانہ طالب علمی میں حضرت مولانا کو طلبا سے خدمت لیتے ہوئے بہت کم دیکھا، ان کا خاص خادم ہی کھانا کھلاتا یا جو ان کا سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہوتا تھا، مولانا اپنے دو بیٹے عبداللہ مسعود اور عبداللہ محمود کو اپنے ساتھ رکھتے تھے اکثر مولانا اپنے بچوں کے کپڑے خود دھوتے تھے، اپنے بچوں کی لڑاٸی کی شکایت موصول ہونے کی صورت میں ہمیشہ اپنے ہی بچوں کیا پٹاٸی کرتے یا ڈانٹ پلاتے۔ مفتی محمد اسرائيل صاحب قاسمی استاد مدرسہ سیدنا ابوبکرصدیق کے مطابق مولانا جب بھی کسی پروگراموں میں شرکت کے لیے ساتھ لے جاتے اور تحفہ و ہدیہ ملتا تو برابر تقسیم فرمانے کا حکم دیتے، جب کہ دعوت اصلا صرف مولانا کو ہی ہوتی مگر جسے آپ ساتھ لے جاتے اس میں وہ ہدیہ برابر تقسیم کرواتے، اور اسے علاقے میں متعارف کرواتے، آپ کے پاس مدرسہ کا بہت سا پیسہ ہوتا مگر آپ اپنی ذاتی ضرورت کے لۓ دوسروں سے قرض لیتے اور جب بھی کوٸ مدرسہ سے قرض لینے کا مشورہ دیتا تو آپ فرماتے کہ اگر مدرسہ کے ذمہ داران تقاضا کریں گے تو ہم کیا جواب دیں گے۔آپ مدرسہ کاہی کھانا کھاتے اور جب بھی کوٸی باہر کا کھانا منگوانے کو کہتا تو آپ کہتے کہ بچوں کی تعلیم پر خرچ کرنا ہے، محمود اور مسعود کوروپیہ بھیجنا ہے وغیرہ کہ کے ٹال جاتے، پوہدی مدرسہ میں آپ کو دھموارہ کے ایک صاحب خیر نے ساٸیکل تحفہ میں دیا تھا تاکہ پکڑی نماز جمعہ کے لیے جانے میں آپ کو دشواری نہ ہو مگر جب آپ مدرسہ چھوڑ کر جانے لگے تو وہ مدرسہ کے ایک استاد قاری لعل محمد صاحب حوالے کرکے گۓ، ایک استاد کے کہنے پر کہ ساٸیکل تو آپ کو ہدیہ میں ملی تھی اس لیے آپ رکھ سکتے ہیں، مگر آپ نے فرمایا کہ یہ مجھے مدرسہ کی نسبت کی وجہ سے ملی تھی اس لیے اب یہ صرف مدرسہ کے مصرف کے لیے چھوڑ رہا ہوں۔

آپ کے پسماندگان میں آپ کی بیوہ پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں سب غیر شادی شدہ ہیں، بڑے صاحبزادے عبداللہ مسعود حافظ قرآن ہیں اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونيورسٹی حیدرآباد سے پالی ٹیکنیک کے بعد ایک کمپنی سے وابستہ ہیں۔ دوسرے عبداللہ محمود ہیں یہ ندوة العلما لکھنو سے فارغ ہیں اور جامعہ ملیہ اسلامیہ نٸ دہلی سے گریجویشن کر رہے ہیں ۔تیسرے عبداللہ مشہود ہیں یہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے زیر انتظام چلنے والا ادارہ مجیبیبہ آٸی ٹی آٸی دربھنگہ سے آٸی ٹی آٸی کر چکے ہیں، چوتھے عبداللہ منصور عربی سوم میں ہیں، اور ایک صاحبزادی میٹرک پاس ہے، سب سے چھوٹے بیٹا چھ سال کا ہے اور ابتدائی جماعت میں زیر تعلیم ہے۔
اللہ تعالی آپ کے پسماندگان کو صبر جمیل اور مذکورہ گاٶں اور ادارے کو نعم البدل عطا فرمائے ۔آمین

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

  • Md Rakib
    13 جون, 2020 at 1:18 شام

    اللہ آپ کے ابّو کو جنّت آتا فرمیں آمین

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*