برِصغیر کے ممتاز عالم و محدث مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کا انتقال

کراچی(قندیل ڈیسک):جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے رئیس و شیخ الحدیث، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے امیر مولانا عبدالرزاق اسکندر کا طویل علالت کے بعد تقریباً چھیاسی سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔
مولانا 1935ء میں ضلع ایبٹ آباد کے گاؤں کوکل کے ایک دینی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ قرآن کریم کی تعلیم اور میٹرک تک دنیاوی فنون گاؤں میں حاصل کیے۔ اس کے بعد ہری پور کے مدرسہ دارالعلوم چوہڑ شریف میں دو سال، اور احمد المدارس سکندر پور میں دو سال پڑھا۔ 1952ء میں مفتئِ اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ تعالیٰ کے مدرسہ دارالعلوم نانک واڑہ کراچی میں درجہ رابعہ سے درجہ سادسہ تک تعلیم حاصل کی ۔ درجہ سابعہ و دورۂ حدیث کے لیے محدّث العصر علامہ سید محمّد یوسف بَنُوری رحمۃ اللہ علیہ کے مدرسہ جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں داخلہ لیا، اور 1956ء میں فراغت حاصل کی ۔ (واضح رہے کہ اس مدرسہ میں درسِ نظامی کے پہلے طالبِ علم آپ ہی تھے۔) اس کے بعد آپ نے 1962ء میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منوّرہ(جس کے قیام کو ابھی دوسرا سال تھا) میں داخلہ لے کر چار سال علومِ نبویہ حاصل کیے۔ بعد ازاں جامعہ ازہر مصر میں 1972ء میں داخلہ لیا اور “عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ امام الفقہ العراقی” کے عنوان سے تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ آپ کے اساتذہ میں علامہ سیّد محمّد یوسف بَنُوری(تلمیذ علامہ انور شاہ کشمیری)، مولانا عبدالحق نافع کاکاخیل(تلمیذ حضرت شیخ الہند )،مولانا عبدالرّشید نعمانی،مولانا لطفُ اللہ پشاوری، مولانا سَحبان محمود،مفتی ولی حَسن ٹونکی،مولانا بدیع الزّماں اور مدینہ یونیورسٹی و جامعہ ازہر کے اکابر علما و محدثین شامل ہیں۔
دارالعلوم نانک واڑہ میں دورانِ تعلیم ہی عمدہ استعداد و صلاحیت کی بنا پر-کراچی میں لیبیا و مصر کی حکومتوں کے تعاون سے-عربی زبان سکھانے کے لیے مختلف مقامات پر ہونے والی تربیتی نشستوں میں پڑھانے کا موقع ملا، اس سے آپ کو تدریس کا کافی تجربہ حاصل ہوگیا۔ علاوہ ازیں بَنُوری ٹاؤن میں درسِ نظامی کی تکمیل سے پہلے ہی علامہ یوسف بَنُوری نے آپ کی صلاحیتوں کو بھانپتے ہوئے اپنے مدرسہ کا استاذ مقرر فرمالیا۔ آپ کا زمانۂِ تدریس 1955ء سے تاحال جاری تھا۔ آپ جامعہ علوم اسلامیہ کے رئیس و شیخ الحدیث بھی رہے،وفاق المدارس پاکستان کے سربراہ اور عالمی مجلس ختم نبوت کے امیر بھی رہے۔ دیگر متعدد علمی و دینی اداروں کی سربراہی کی۔
تصانیف و تالیفات:
1: الطریقۃ العصریۃ۔
2: کیف تعلم اللغۃ العربیۃ لغیر الناطقین بھا۔
3: القاموس الصغیر۔
4: مؤقف الأمۃ الاسلامیۃ من القادیانیۃ۔
5: تدوین الحدیث۔
6: اختلاف الامۃ والصراط المستقیم۔
7: جماعۃ التبلیغ و منھجہا فی الدعوۃ۔
8: ھل الذکریۃ مسلمون؟۔
9: الفرق بین القادیانیین و بین سائر الکفار۔
10: الاسلام و اعداد الشباب۔
11: تبلیغی جماعت اور اس کا طریقۂِ کار۔
12: چند اہم اسلامی آداب۔
13: محبّتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔
14: حضرت علی اور حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اجمعین۔
آپ کی زیادہ تر تصانیف اردو سے عربی، اور کچھ عربی سے اردو میں مترجَم ہیں۔ جبکہ مشہور کتاب “الطریقۃ العصریۃ” عرصہ دراز سے وفاق المدارس پاکستان کے نصاب میں شامل ہے۔ علاوہ ازیں انھوں نے عربی و اردو میں بےشمار مقالات و مضامین سُپردِ قلم فرمائے ، جو عربی و اردو مجلّات، رسائل و جرائد، اور اخبارات کی زینت بنے اور مختلف کانفرنسوں میں پڑھے گئے ۔ اِن میں سے اردو مضامین تین مجموعوں کی شکل میں مرتَّب ہوچکے ہیں:
1: مشاہدات و تأثرات۔
2: اصلاحی گزارشات۔
3: تحفظِ مدارس اور علما و طلبہ سے چند باتیں۔
اس کے علاوہ آپ روزنامہ “جنگ” کے مقبولِ عام سلسلہ “آپ کے مسائل اور اُن کا حل” کے مستقل کالم نگار رہے، جبکہ ماہ نامہ “بیّنات”اردو کے مدیر مسؤل اور مجلّہ “البیّنات” عربی کے المشرف العام بھی رہے۔