موجودہ دور میں فکرِ اسلامی کے چند اہم موضوعات ـ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

برادرِ عزیز ابو الاعلی سید سبحانی صدر انجمن طلبۂ قدیم جامعۃ الفلاح نے پہلے ہی وعدہ کروالیا تھا کہ جامعہ کی مجلسِ شوریٰ کے اجلاس کے موقع پر طلبہ کے درمیان توسیعی خطبات کروائے جائیں گےـ انھوں نے مجھ سے ایک خطبہ دینے کی خواہش کی اور ‘ موجودہ دور میں فکرِ اسلامی کے اہم موضوعات ‘ کا عنوان بھی طے کردیاـ میرے لیے کسی عذر کا موقع نہ تھا ـ

لیکچر ہال پہنچا تو پورا ہال طلبہ سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھاـ چند اساتذہ بھی موجود تھےـ ابتدائی تعارف کے بعد مجھ کو اظہارِ خیال کرنے کی دعوت گئی ـ میری گفتگو درج ذیل نکات پر مشتمل تھی :

(1) اللہ کے رسول کا ارشاد ہے : ” اللہ تعالیٰ ہر صدی میں اس امّت کے لیے ایسے لوگوں کو اٹھائے گا جو اس کے لیے اس کے دین کی تجدید کریں گے ـ ” (أبو داود :4291) تجدید کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ دین کے قدیم ہوجانے پر اس میں نئی باتیں شامل کرکے اسے نیا بنائیں گے ، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اسے بیرونی آمیزشوں سے پاک کریں گےـ

(2) اسی بات کو دوسری حدیث میں تھوڑی وضاحت سے کہا گیا ہےـ اللہ کے رسول نے فرمایا ہے : ” یہ علم ایک سے دوسرے تک ایسے معتبر لوگوں کے ذریعے پہنچے گا جو اسے غلو کرنے والوں کی تحریفات ، اہلِ باطل کی بے بنیاد باتوں اور جاہلوں کی تاویلات سے محفوظ رکھیں گے ـ ” ( الثقات لابن حبّان : 4/10)

(3) فکرِ اسلامی کا مطلب مجرّد طور پر اور سپاٹ انداز میں اسلام کی کسی تعلیم کو پیش کرنا نہیں ہے ، بلکہ اس سے مراد تین پہلوؤں سے اسلام کی علمی خدمت کرنا ہے : اسلام کو غیر اسلامی افکار و نظریات سے مُمَیّز کرنا ، اسلام پر کیے جانے والے اعتراضات کا جواب دینا اور اسے غلو اور انحرافات سے محفوظ رکھناـ

(4) عہدِ نبوی کے تھوڑے عرصے کے بعد ہی جب لوگ بڑے پیمانے پر دائرۂ اسلام میں داخل ہونے لگے تو ان کی صحیح طریقے سے تربیت نہیں ہوپائی ، چنانچہ ان کے ذہنوں میں سابقہ افکار و نظریات باقی رہے ، اس وقت علما کو ان کی اصلاح کے لیے آگے آنا پڑاـ اسی طرح جب مسلمانوں کا اختلاط دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے ہوا تو اہلِ اسلام کو دیگر مذاہب کے مقابلے میں اسلام کی برتری ثابت کرنے کے لیے میدان میں آنا پڑاـ اسلام کے بعض نام لیواؤں کی طرف سے بسا اوقات غلو پر مبنی افکار کا اظہار کیا گیا تو علماء کو ان کی تردید کرکے صحیح اسلامی فکر پیش کرنی پڑی ـ

(5) مسلمانوں میں بہت سے فرقے وجود میں آئے ، مثلاً خوارج ، معتزلہ ، جہمیہ ، مُرجئہ ، قدریہ ، جبریہ ، وغیرہ ـ ان کے افکار انحراف اور غلو پر مبنی تھےـ علما نے ان کا رد کیا اور درست افکار پیش کیےـ

(6) اسلامی مفکرین کی کہکشاں ہے ، جس نے اسلام کے چشمۂ صافی کو گدلا ہونے سے بچانے کے لیے انتھک کوششیں کی ہیں ـ ہر صدی میں ایسے علماء پائے جاتے رہے ہیں ـ بہ طور مثال چند نام ذکر کیے جاتے ہیں : عمر بن عبد العزيز ، ابن شہاب زہری ، حسن بصری ، ابو حنیفہ ، مالک بن انس ، شافعی ، احمد بن حنبل ، ابو الحسن اشعری ، ابو منصور ماتریدی ، ابن حزم اندلسی ، امام الحرمین جوینی ، غزالی ،رازی ، عز بن عبد السلام ، نووی ، ابن تیمیہ ، ابن قیّم ، شاطبی ، سیوطی ، سرہندی ، شاہ ولی اللہ ، محمد بن عبد الوہاب ، شوکانی ، صدیق حسن ، محمد اقبال ، وغیرہ ، رحمہم اللہ

(7) مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ نے ‘تاریخِ دعوت و عزیمت’ میں ان علما کا تذکرہ کیا ہے جنھوں نے اسلام کی اشاعت اور تفہیم کی خدمت انجام دی ہےـ پروفیسر محمد اجتبا ندوی نے اپنی کتاب ‘تاریخ فکر اسلامی’ میں فکر اسلامی کا تعارف کرایا ہے اور اس کی تاریخ پر روشنی ڈالی ہے ، اس کے بعد فکر اسلامی پر کام کرنے والی 50 شخصیات کا تعارف کرایا ہےـ پروفیسر محمد نجات اللہ صدیقی نے اپنے کتابچے ‘ معاصر اسلامی فکر’ میں ان موضوعات کی نشان دہی کی ہے جن پر موجودہ دور میں کام کرنے کی ضرورت ہےـ انجینیر سید سعادت اللہ حسینی امیر جماعت اسلامی ہند نے بھی اپنی کتاب ‘ بدلتی ہوئی دنیا اور فکر اسلامی’ میں اس موضوع کے مختلف پہلوؤں سے بہت اچھی بحث کی ہےـ

(8) موجودہ دور میں مختلف ممالک میں ایسے علما پائے گئے ہیں جنھوں نے اپنی تصنیفات کی شکل میں قیمتی دینی ورثہ چھوڑا ہے ، جس میں فکر اسلامی کی بھرپور ترجمانی کی ہےـ ان کے ناموں کا تذکرہ تفصیل طلب ہےـ البتہ خصوصیت سے مولانا سید ابو الاعلی مودودی رحمہ اللہ کا تذکرہ کرنا چاہوں گا ، جن کی بیش تر تصنیفات فکر اسلامی کے دائرے میں آتی ہیں ، مثلاً الجہاد فی الاسلام ، سنّت کی آئینی حیثیت ، اسلامی ریاست ، اسلامی قانون ، تجدید و احیائے دین ، قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں ، تنقیحات ، تفہیمات ، اسلام اور ضبطِ ولادت ، پردہ ، سود ، مرتد کی سزا اسلامی قانون میں ، حقوق الزوجین ، رسائل و مسائل ، قادیانی مسئلہ ، معاشیاتِ اسلام ، مسئلہ جبر و قدر ، اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی ، وغیرہ ـ

(9) موجودہ دور میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں ضرورت ہے کہ صحیح رہ نمائی کی جائے ، انحرافات کا تدارک کیا جائے ، اعتراضات کا جواب دیا جائے اور اسلام کا صحیح تعارف کرایا جائےـ

(10) جن موضوعات پر آج کے دور میں کام کرنے کی ضرورت ہے ان میں سے چند کا تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے :
الحاد کا محاکمہ : کیا خدا کی ضرورت نہیں؟
اسلام ہی کیوں؟
اسلامی عقائد کا عقلی اثبات ـ
وحدتِ ادیان کا ابطال ـ
آواگون کا رد اور عقیدۂ آخرت کا اثبات ـ
حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائے بغیر اخروی نجات ممکن نہیں ـ
رسول اللہ ﷺ کا اسوہ مثالی بھی ہے ، کامل بھی ـ
رسول اللہ ﷺ کی تشریعی حیثیت
کلچر اور سنّت کا فرق
گھر سے باہر مسلمان عورت کے لیے شرعی حدود
جنس کے منحرف رویّوں کا تجزیہ اور محاکمہ
مسلمان خاتون اور معاشی سرگرمیاں
حجاب اور اختلاط : شرعی حدود
اسلام میں خواتین کے سیاسی حقوق
مرد کے اختیارِ طلاق کو بعض آداب کا پابند بنانے کی ضرورت
عورت کے حقِ خلع کی تعبیرِ نو کی ضرورت
یتیم پوتے کے حق میں جبری وصیت کے امکانات
تکثیری سماج میں دیگر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ تعامل (تہنیت ، تحائف کا تبادلہ ، تقریبات میں شرکت)
اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کے سیاسی حقوق
غیر اسلامی ریاست میں مسلمان کی خدمات کا دائرہ
عقیدۂ حاکمیتِ الہ اور سیکولرزم و جمہوریت
جدید تجارتی شکلوں کا جائزہ
انشورنس کی مروّجہ صورتیں اور اسلام کا نظامِ تکافل
سودی قرضے اور ان سے استفادہ کا حکم
فیملی پلاننگ کے بارے میں شرعی احکام

یہ چند موضوعات بہ طور مثال ذکر کیے گئے ہیں ـ تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں زندگی کے مختلف میدانوں میں موضوعات کی بھر مار ہےـ ان پر کام کرنے اور اسلامی نقطۂ نظر پیش کرنے کی ضرورت ہےـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*