موجودہ عصری نظام تعلیم اور علما و دانشوران کی ذمے داری-شعیب عالم قاسمی 

 

اسلام نے علم کو جو اہمیت دی ہے وہ کسی دوسرے مذہب میں نہیں ملتی۔سب سے پہلی وحی جو نبیﷺ پر نازل ہوئی علم ہی سے متعلق تھی۔پھر مالک الملک اور قادر مطلق کا ہمیں دنیا میں بھیجنے کا مقصد ابتلاء اور آزمائش ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:الذی خلق الموت والحیاۃ لیبلوکم ایکم احسن عملا۔ لہذا اللہ کے اوامر پر عمل اور منھیات سے پرہیز اسی وقت کیا جاسکتا ہے جب ہمیں یہ معلوم ہو کہ اللہ نے کیا حکم دیاہے؟ اور اللہ کے حکم کی معرفت کے لیے قرآن کریم اور احادیث شریفہ سے واقفیت ناگزیر ہے اس لیے علم کو اسلام نے اول درجہ کی چیز قراردیا۔

متعدد آیات اور روایات علم کی فضیلت کے سلسلے میں وارد ہوئی ہیں، بلکہ اللہ رب العزت خود قرآن کریم میں قلم کی قسم کھاتے ہیں اس سے زیادہ فضیلت و برتری کی اور کیا بات ہوسکتی ہے۔قرآن کریم میں اللہ کا ارشاد ہے ھل یستوی الذین یعلمون والذین لایعلمون۔کیا خواندہ اور ناخواندہ برابر ہوسکتے ہیں؟ ۔دوسری جگہ ارشاد ہے: فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لاتعلمون۔اسی طرح حدیث شریف کے اندر اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا: طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم۔اور بھی بہت سی آیات اور احادیث علم کی فضیلت میں وارد ہوئی ہیں۔

آج کل عصری علوم کے سلسلے میں بہت شور اور ولولہ ہے۔یہ بات بالکل درست ہے کہ اسلام کسی بھی علم کے حصول سے نہیں روکتا بشرطیکہ عقائد شرکیہ سے پاک اور توحید کے منافی نہ ہو، لیکن مسئلہ یہ ہے عصری تعلیم کا نظام تعلیم ، تعلیم کے نام پر تخریب کاری کا کام انجام دے رہا ہے ۔ مخلوط نظام تعلیم نے معاشرہ کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے، ان عصری تعلیم گاہوں کا اصل مقصد اسلام کی تعلیمات میں شکوک وشبھات پیدا کرنا اور مسلمان بچوں سے اسلام کی روح کو ختم کرنا ہے، چناچہ کوئی بھی ذی عقل اور انصاف پسند انسان اگر جائزہ لیں تو اس کا اقرار کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ عصری تعلیم یافتہ طبقہ علماء کے تئیں بدظنی رکھتا ہے اور بہت سے احکام اسلام کا مذاق اڑاتا ہے علماء کو دقیانوسی، بیوقوف اور اسلام کے احکام کو نعوذ باللہ فرسودہ سمجھتا ہے، دین اسلام کو اپنی کم فہم عقل پر پرکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

اسی لیے ضروری ہے کہ عصری تعلیم سے قبل دینی تعلیم بچوں کو دی جائے تاکہ بچہ اپنے عقائد سے واقف ہو علامہ اقبال مرحوم نے اسی کو یوں کہا ہے

جوہر میں ہو لاالہ تو کیا خوف

تعلیم ہو گو فرنگیانہ

المیہ یہ ہے کہ ہرکس و ناکس آج مدارس کے نصاب میں تبدیلی کی تو بات کرتا ہے لیکن عصری تعلیم گاہوں پر ان کی آنکھ نہیں کھلتی کہ کس قدر خطرناک نتائج سامنے آرہے ہیں بے پردگی، بے حیائی ایک عام بات بن چکی ہے۔کتنی عجیب بات ہے خیرون القرون میں اور وہ بھی صحابیات جن کی پاکیزگی میں اللہ قرآن نازل کرتا ہے ان کو پردہ کا حکم دیا جا رہا ہے اور آج کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ وطالبات کہتے ہیں کہ سب کچھ اپنے سے ہوتا ہے آدمی خود صحیح ہو تو پردہ اور حجاب کی کوئی ضرورت نہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے آج ریپ اور جنسی زیادتی کا کوئی شمار نہیں،اور ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ۶؍لاکھ لڑکیاں مرتد ہوچکی ہیں۔ اقبال نے کہا ہے۔

 

جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن

کہتے ہیں اسی علم کو ارباب نظر موت

معاشعرہ کو اگر صحیح راہ پر لانا ہے تو عصری تعلیم گاہوں کے اس نظام کو بدلنا ہوگا، مخلوط نظام تعلیم معاشعرہ کے لیے کسی زہر سے کم نہیں ہے۔المیہ یہ ہے کہ عصری علوم کے تعلیم یافتہ طبقے نے اورملت کا یہی طبقہ اکثر اہل ثروت لوگوں میں بھی شمار کیا جاتا ہے، آج تک کوئی ایسا نظام تعلیم قائم نہیں کیا جس میں کم از کم عقائد اسلام اور اہم ارکان اسلام کا ہی پاس ولحاظ ہوبلکہ اگر کسی نے اسکول اور کالج قائم بھی کیا تو وہ بھی غیروں کے شانہ بشانہ ہے اوراس کا مقصد بھی صرف پیسہ اینٹھنا ہے اور کچھ نہیں ۔دانشوران قوم وملت خصوصا علما کرام کو چاہیے کہ اب وہ صرف۲،۳ فیصد کے بارے میں ہی نہ سوچیں (جومدرسوں میں تعلیم حاصل کرنے ہیں)بلکہ امت کے اکثر حصہ کی فکر کریںاورایسے اسکول،کالج اور یونیورسٹیز کے قیام کی داغ بیل ڈالیں جن میں عصری علوم وفنون اسلامی ماحول میں پڑھائے جائیں۔