موجودہ مسلم قیادت کو کوسنا کتنا درست ہے؟ ـ ابو فہد

موجودہ دور کی جو مسلم قیادت ہے، وہ دو طرح کی ہے، ایک مذہبی اور دوسری سیاسی ۔ بے شک دونوں کی طرح کی قیادت پر صحت مند نقدکرنا او احتساب کرنا ضروری ہے۔تاہم قیادت کو لعن طعن کرنا درست نہیں ، ایسا کرنے سے پہلے مسلم قیادت جس طرح کے حالات کی ایک طویل زمانے سے شکار رہی ہےان حالات کو سامنے رکھنا بھی ضروری ہے۔
یہ بھی عجیب بات ہے کہ لعن طعن کا زیادہ مستحق مذہبی قیادت کو ہی سمجھا گیاہے۔ سیاسی قیادت کے حصے میں کوسنے اور گالیاں بالعموم نہیں آتیں، ان کے لیے یہ دلیل لائی جاتی ہے کہ وہ تو ہیں ہی بے ایمان اور رشوت خور۔جبکہ مجموعی طور پر امت کو حاصل قدرتی وسائل پر اُنہی کا قبضہ ہے، سیاسی قیادت سے وابستہ افراد عالیشان ایوانوں میں رہتے ہیں ، ان کے پاس وسائل کی فراوانی ہے۔اور ان کے چشم وابرو کے اشاروں پر فوجوں کے دل کے دل حرکت کرتے ہیں، عسکری طاقت جتنی بھی ہے وہ سب انہی کے پاس ہے حتیٰ کہ ایٹمی طاقت بھی ، اب وہ جتنی بھی ہےاور جیسی بھی ہے۔عالمی پیمانے پر مسلم سیاسی قیادت میں تبدیلی کے نام پر اور اصلاح کے نام پر اب تک جو کچھ ہوا ہے وہ بس یہی ہے کہ باپ کے بعد بیٹا آجا تاہے اور ایک کمزور بد دماغ کے بعد دوسرا بڑا والا…پھر طرفہ یہ ہے کہ ان کا احتساب کرنے والی امت کے پاس کوئی مجموعی قوت نہیں ہے۔ یہ اپنی من مانیاں کرنے میں پوری طرح آزاد ہیں۔
یہ جو پس ماندگی ہے ، جس کے لیے موجودہ مذہبی قیادت کو کوسنے اور گالیاں دی جاتی ہیں ،یہ ان شکشتوں اور ہزیمتوں کا نتیجہ ہے جو صدیوں سے امت کو یکے بعد دیگرے اٹھانا پڑی ہیں اوردنیا کے بیشتر حصوں میں اٹھانا پڑی ہیں ۔ان پے درپے ہزیمتوں نے ایسی لہر پیدا کی ہے ، جس میں وقت کے ساتھ ساتھ مزید قوت پیدا ہوتی چلی گئی ہے۔یہی وہ لہر ہے جو موجودہ امت کے وجود کوادھر ادھر لڑھکائےپھر رہی ہے اور کسی بھی صورت سنبھلنے کا موقع نہیں دے رہی ہے، پس ماندگی یا زوال کی یہ نابکارلہر محض موجودہ قیادت کی نادانیوں ، بے عملیوں اور غیردانشمندیوں کی وجہ سے پیدا نہیں ہوئی ہے۔ اور صرف اور صرف مذہبی قیادت ہی کو اس کے لیے ذمہ دار نہیں ٹہرایا جاسکتا۔ بلکہ یہ امت کی سیاسی قیادت کی پیدا کردہ ہے ۔کیونکہ کم وبیش ایک ہزار سال امت کی تقدیر اسی سیاسی قیادت کے ہاتھوں میں ہے۔ مذہبی قیادت کی کارگزاریاں تو بس دین کی تبلیغ وتعلیم اور بعض دیگرچھوٹی بڑی سماجی ذمہ داریوں تک ہی محدود رہی ہیں۔ہاں یہ درست ہے کہ اس نے بھی اپنی ذمہ داریاں پوری طرح ادا نہیں کی ہیں۔
پس ماندگی کی یہ جو نابکار لہر ہے اور جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید طاقتور ہوتی چلی گئی ہے ،اس کا آغاز تو اسی وقت ہوگیا تھا، جب مسلمانوں نے ایک دوسرے کے خلاف تلواریں نکال لیں تھی،پھر اس میں مزید زور اور قوت اس وقت پیدا ہوئی جب امت غیر اقوام کے مقابلے میں عسکری اورسیاسی میدانوں میں پچھڑ گئی ۔پھر جب اسلامی حکومت ذاتی ملکیت جیسی چیز ہوگئی اور وراثتوں میں بٹنے لگی،پھر جب مسلم حکومتیں ایک دوسرے ہی سے نبرد آزما ہونے لگیں، پھر جب سلطنت عثمانیہ کا زوال ہوا تب اس نابکار لہر میں مزید زور پیدا ہوا، پھر جب دنیا کے بیشتر حصےپر نوآبادیاتی نظام برپا ہوا ،پھر جب ہندوستان میں انگریزوں نے مغلوں کو اپنے بھاری بوٹوں تلے مسل دیا تو اس نابکار لہر میں مزید زور پیدا ہوا،پھر جب ہندوستان کا بٹوارا ہوا،پھر جب اسرائیل ایک ملک کے طورپر دنیا کے نقشے پر ابھرا…پھر جب نوآبادیاتی نظام سے چھٹکارے کا وقت آیا تو مسلم ممالک نے باہم مل کرکوئی مضبوط قوت پیدا کرنے کے بجائے اپنے درمیان چھوٹی بڑی اور آڑی ترچھی سرحدی لکیریں کھینچنے کو ترجیح دی۔جس طرح جائیدادیں اور کھیت کھلیان وارثوں کے درمیان تقسیم ہوجاتے ہیں، اسی طرح مسلم ممالک دو سیاسی گروہوں اور حکمرانوں میں تقسیم ہوگئے، پاک وبنگلہ تقسیم اس کی منہ بولتی اور بالکل قریب کی مثال ہے۔
آپ دیکھیں گے کہ سال بہ سال اور صدی بہ صدی اس نابکار لہر میں زور پیدا ہوتا چلا گیا، یہاں تک کہ یہ نابکار لہر بیسویں اور اکیسویں صدی کی چوکھٹ تک آپہنچی ۔ اس لہر نے امت کی موجودہ نسل کی پشت پر پے بہ پے دھکے دیے اور کچھ اس طرح دیے کہ موجودہ مسلمان امت کو اور اس کی قیادت کو سنبھلنے کے لائق بھی نہیں چھوڑا۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج کی مسلمان امت صدیوں سے چلی آرہی اس نابکار لہر کے پے بہ پے دھکوں میں ادھر ادھر رُلتی پھررہی ہے۔
ایسی سچویشن میں تخلیقی، جارح اور دور تک کی سوچنے والے ذہن آسانی سے پیدا نہیں ہوتے، جو ہوتے ہیں وہ محض نقال ہوتے ہیں یا پھر محض لعن طعن کرنے والے۔ تخلیقی ذہن جو تھوڑے بہت پیدا ہوتے بھی ہیں تو ان کا کردار اور اثرمحدود ہوکر رہ جاتا ہے۔اس لیے آپ جب بھی قیادت پر بات کریں تو صدیوں سے چلی آرہی ہزیمت وپس ماندگی کی اس نابکار لہر کو اور سب زمینی حقائق کو ضرور سامنے رکھیں۔
البتہ نقد اور احتساب ہر حال میں ضروری ہے، کہ یہی چیز ہے جو قیادت کو راہ راست پر قائم رکھ سکتی ہے۔حضرت ابوبکرؓ نے اس کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے فرمایا تھا (وإِنْ أَسَأْتُ فَقَوِّمُوني) اگر میں غلط چلوں تو مجھے سیدھا کردینا۔
اس سے معلوم ہوا کہ امت میں کچھ ایسے افراد بھی کثرت کے ساتھ ہمیشہ رہنے چاہئیں جو اپنی قیادت اور قائدیں کو سیدھا کرنے کی اہلیت اور لیاقت رکھتے ہوں۔ مگر انہیں سیدھا کرنے کی یہ ذمہ داری قیادت کے لیے لعن طعن اور گالی گلوچ کو واجب نہیں کرتی۔ بلکہ دانشوری، سوجھ بوجھ اور صبروحوصلے اور مثبت وتخلیقی ذہن کا تقاضہ کرتی ہے۔ ورنہ خالی ذہن کے ساتھ شورمچانے سے کچھ نہیں ہوتا ۔ پھر اگر اس ذہن میں تعصب یا نفرت بھری ہوتو اس خالی ذہنوں کا شورشرابہ الٹا کام بگاڑنے کا ہی کام کرے گا۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)