موجودہ حالات میں ذرائع ابلاغ پر توجہ ایک قومی فریضہ-مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

ہندوستان پر حالیہ برسوں میں مغربی تہذیب و ثقافت جس قوت کے ساتھ حملہ آور ہوئی ہے اور جس تیزی سے مغربی فیشن ہندوستان کے مشرقی سماج کو اپنی گرفت میں لیتا جارہا ہے ، وہ ایک کھلی حقیقت ہے اور شاید ہی کوئی حساس دل ہو، جو اس کی کسک کو محسوس نہ کرتا ہو ۔
اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان ذرائع ابلاغ کی طرف توجہ دیں اورمیڈیا تک رسائی حاصل کریں ، ہندوستانی میڈیا پر سنگھ پریوار کے غلبہ کی وجہ سے مسلمانوں کو گذشتہ پون صدی میں جو نقصان اُٹھانا پڑا ہے، وہ ناقابل تلافی اور ناقابل بیان ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ ذرائع ابلاغ میں مسلمان اپنا اثر و رسوخ بڑھائیں ، اس کے لئے منصوبہ بند طریقہ پر چند کام کرنے ہوں گے : اول ملک کے مختلف علاقوں سے ذہین و باصلاحیت مسلمان طلباء کو جرنلزم کا کورس کرانا اور انھیں انگریزی اور مقامی زبانوں کے اخبارات وغیرہ میں داخل کرنا ، دوسرے جو لوگ صحافت کے پیشہ سے وابستہ ہیں ، یا جو دوسرے ذرائع ابلاغ میں مصروفِ کار ہیں ، وقتاً فوقتاً مختلف عنوانات سے انھیں دعوت دینا اور مسلمانوں کے مسائل اوراسلام کے بارے میں ان کو صحیح معلومات فراہم کرنا اور ان کی غلط فہمیاں دور کرنا ، تیسرے اپنے مسائل آپ پیش کرنے کے لئے ایسے چینل قائم کرنا جس کی پالیسی مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو ، اس کا خوشگوار تجربہ قطر کا الجزیرہ چینل ہے ، جو غلط فہمیوں کو دور کرنے اور حقائق کو پیش کرنے میں بہتر کردار ادا کر رہا ہے اور خود مغربی ممالک تک بھی حقائق کو پہنچانے میں اس نے کسی قدر کامیابی حاصل کی ہے ، ہندوستان میں بھی مسلمانوں کو ایسی تدبیر اختیار کرنی ہوگی؛ تاکہ برادرانِ وطن کے قلوب میں شکوک و شبہات کے جو کانٹے چبھوئے جارہے ہیں، وہ انھیں نکالنے میں کامیاب ہوسکیں ،اور موجودہ حالات میں پرنٹ میڈیا سے بھی زیادہ اہمیت الکٹرانک میڈیا کو حاصل ہو گئی ہے، اور اس میدان میں قدم رکھنا اور اپنی کوششوں کو آگے بڑھانا نسبتہََ آسان ہے، گذشتہ دنوں مرکز نظام الدین کے مسئلہ کو جس طرح میڈیا نے اُٹھایا، اور اس سے نفرت کا ماحول جس تیزی کے ساتھ گرم ہوا، یہ سب کے سامنے ہے، اس کا جواب صرف احتجاج، لعنت وملامت یا اظہار افسوس نہیں ہے؛ بلکہ اجتماعی کوششوں کے ذریعہ انصاف پسند اور راست گو چینلوں کو کھڑا کرنا ہے، جو سچائی کو پیش کرے، بروقت پروپیگنڈہ کا جواب دے اور دروغ گوئی کے اندھیرے میں سچ کا چراغ جلائے۔
ہندوستان میں مسلمانوں کا انگریزی اخبار ایک خواب ہے ، نہ معلوم کہ تعبیر اس کی قسمت میں ہے یا نہیں ؟ یہ بات نسبتاً آسان ہے کہ مختلف علاقوں کی مقامی زبان میں مسلمان اپنا اخبار نکالیں ، جیسا کہ اس وقت ملیالم اور گجراتی زبان میں مسلمانوں نے اپنا اخبار نکالنے میں کامیابی حاصل کی ہے ، گجرات کے گذشتہ فساد میں ظلم و جور کا جو رقص ہوا ہے ، اس میں بعض شرپسند گجراتی اخبارات کا بنیادی کردار ہے ، جنھوں نے واقعات کو توڑمروڑ کر غلط طریقہ پر پیش کیا اور ہندو عورتوں کی عصمت ریزی کی غلط اطلاع نے آگ پر تیل چھڑکنے کا کام کیا ہے ، ان حالات میں اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ مسلمان مقامی زبانوں خاص کر ہندی میں اپنا اخبار نکالیں ، کم سے کم ہندی ، تمل ، مراٹھی ، اُڑیا اور بنگالی زبانیں ایسی ہیں کہ صرف مسلمان قارئین کے ذریعہ اخبار کو زندہ رکھا جاسکتا ہے ۔
غرض ذرائع ابلاغ عصر نو کا طاقتور ہتھیار ہے اور اس میں اپنا اثر و رسوخ پیدا کرنا اوراس رسوخ کو دینی اور قومی مفادات کے لئے استعمال کرنا وقت کا بہت بڑا جہاد !

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)