موجودہ دور میں دعوتِ دین کے تقاضے-مولانا سید جلال الدین عمری

انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز نئی دہلی کی جانب سے آج مؤرخہ 20 جون 2021 کو دعوتِ اسلامی کے موضوع پر چودھواں شاہ ولی اللہ ایوارڈ مولانا سید جلال الدین عمری نائب صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ و سابق امیر جماعت اسلامی ہند کو تفویض کیا گیا ۔ اس موقع پر مولانا نے جو کچھ اظہارِ خیال فرمایا اسے سطورِ ذیل میں پیش کیا جارہا ہے :

الحمد للّٰہ رب العالمین ، والصلوٰۃ والسلام علی رسولہ الأمین
محترم صدرمجلس اور سامعین کرام!
انسٹی ٹیوٹ آف آبجکٹیو اسٹڈیز کی بڑی متنوع خدمات ہیں۔ یہ ایک پلیٹ فارم ہے، جس نے مختلف مکاتب ِفکر کے لوگوں کو جمع کیااور انھیں اظہارِ خیال کے مواقع فراہم کیے، تاکہ مسائل کو حل کرنے اور انھیں نتیجہ خیز بنانے میں آسانی ہو۔ اس کی خدمات کا ایک اہم پہلو شاہ ولی اللہ ایوارڈ ہے۔ یہ ایوارڈ اصحابِ علم و دانش اور مختلف میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔ یہ ایک باوقار ایوارڈ ہے۔ اب کی بار آئی او ایس نے اسلام کی دعوت کو موضوع بنایا اور اس ایوارڈ کے لیے اس عاجز کا انتخاب کیا۔ اس کے لیے میں اس کے چیئر مین ڈاکٹر محمد منظور عالم اور اس کے ذمہ داروں کا شکر گزار ہوں۔

اس عاجز کو تصنیفی زندگی کے آغاز ہی سے جن موضوعات سے دل چسپی رہی ہے ان میں دعوت کا موضوع بھی ہے۔اس پر اس کی پانچ کتابیں چھپ چکی ہیں۔ ’معروف و منکر‘ میں اس نے دعوت کی مختلف جہات پرخالص علمی انداز سے بحث کی ہے۔ بعض دوسری کتابوں میں بھی حسبِ ضرورت اس موضوع پر اظہارِ خیال کیا ہے۔ اس کے علاوہ اپنے خطابات اور تقریروں میں بھی ملّت کو اس اہم خدمت کی طرف متوجہ کیا ہے۔

دعوت کی اہمیت کے کئی پہلو ہیں۔اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ یہ ایک اہم دینی فریضہ ہے۔ قرآن میں کہا گیا ہے:
کُنتُمْ خَیْْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّہِ (آل عمران:110)
یہ امت انسانوں کی ہدایت اور رہ نمائی کے لیے اور ان کو راہِ راست دکھانے کے لیے برپا ہوئی ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اس کا دینی فریضہ ہے۔ اسے بہر حال اس کوانجام دینا ہوگا۔اس میں کوتاہی اور غفلت کا کوئی جواز نہیں ہے۔ قرآن مجید نے وضاحت کی ہے کہ دنیا میں جتنے پیغمبر آئے انھوں نے’لسانِ قوم‘ میں خطاب کیا:وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلاَّ بِلِسَانِ قَوْمِہِ لِیُبَیِّنَ لَہُمْ(ابراہیم:4)۔ اس کا مقصد یہ بتایا کہ اس سے ان کا مقصد، مدعا اور غرض و غایت اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے اور اس کے بعد آدمی اس کو قبول یا رد کرنے میں آزاد رہتا ہے۔ اس پہلو سے اس کی خاص اہمیت ہے۔ لیکن ہماری مجبوری یہ ہے ، خاص طور پر اس عاجز کی کہ وہ لسانِ قوم سے واقف نہیں ہے۔ لسانِ قوم سے مراد ہے کہ مخاطب، اس کی زبان، کلچر، تہذیب، اس کے عقائد و افکار اوراس کے تاریخی پس منظر، سب سے واقف ہونا چاہیے۔ آج کے حالات میں یہ آسان نہیں معلوم ہوتا۔ ہندوستان کا معاملہ یہ ہے کہ یہاں ایک کلچر اور ایک زبان نہیں ہے، مختلف زبانیں ہیں، مختلف کلچر ہیں، مختلف تہذیبیں ہیں اور ہر علاقے کا خاص ذوق اور رجحان ہے، ان کا ادب اور لٹریچر ہے۔ یہ اللہ کا کرم ہے کہ اس سلسلے میں میری کتابوں کے ملک کی مختلف زبانوں میں ترجمے موجود ہیں اور وہ پھیل بھی رہے ہیں۔ اس طرح لسانِ قوم سے خطاب کا مقصد کسی نہ کسی طور پر حاصل ہو رہا ہے۔

دوسری بات یہ کہ اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں ایک بڑی تعداد مسلمانوں کو اپنا حریف سمجھتی ہے۔ اگر آپ اس کے حریف ہیں تو وہ آپ کو زیر کرنے کی کوشش کرے گی۔ آپ کی باتوں کی طرف اس کی توجہ نہیں ہوگی۔ ہمیں اس بات کی کوشش کرنی ہوگی اور سمجھانا ہوگا کہ ہم اس کے حریف نہیں، خیر خواہ اور ہمدرد ہیں۔ہمیں کہنا ہوگا کہ ہمارے پاس ایک پیغام ہے، اس پیغام کو آپ سنیے۔ تب آپ کو اندازہ ہوگا کہ ہم ملک کے کسی بھی طبقے کے خلاف نہیں ہیں، بلکہ اللہ کا دین آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ جب تک یہ دوری ختم نہیں ہوگی، اس وقت تک مسلمانوں کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ہم سیاسی طور پر اپنے مطالبات رکھیں گے تو وہ انھیں حریف کے مطالبات سمجھیں گے، مجبور ہوں تو آپ کے مطالبات کوکسی درجہ میں تسلیم بھی کر لیں گے۔مسلمان یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم مختلف میدانوں میں آپ سے پیچھے ہیں، لیکن ہمارے پاس آپ تک پہنچانے کے لیے اللہ کا پیغام ہے۔ آپ اس کی طرف توجہ کریں۔ یہ بہت ضروری ہے، ورنہ ہمارے مسائل کبھی اس ملک میں حل نہیں ہو سکتے۔ اب یہ بات کہ ہم دنیا کے سامنے اسے پیش کریں، یا ملک کے سامنے،یا اس کے کسی خاص طبقے کے سامنے، بہر حال یہ سوال باقی رہے گا کہ لوگ اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔

قرآن مجید کی تعلیم یہ ہے کہ کوئی اللہ کے دین کو قبول کرے یا نہ کرے، یہ اس کی مرضی ہے، لیکن بہر حال ہمیں یہ کام جاری رکھنا ہوگا۔مخاطب کو اللہ کے دین کی دعوت دینا اور بلانا اور یہ بتانا کہ ہم نوعِ انسانی کی بھلائی کے لیے یہ کام کر رہے ہیں۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ اس کو ماننا یا ماننا ان کی ذمہ داری ہے۔اس کا امکان ہے کہ بعض علاقے اور بعض طبقات آپ کی بات کی طرف توجہ کریں اور بعض آپ کی طرف توجہ نہ کریں، لیکن اس کام سے ہم پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ اس کے بغیر ملک میں مسلمانوں سے جو نفرت اور دوری ہے وہ ختم نہیں ہو سکتی۔یہ حکمِ خدا وندی بھی ہے اور حالات کا تقاضا بھی۔

اسلام نے شروع ہی سے یہ بات بتادی ہے کہ یہ ایک فکر ہے، اس میں انسانوں کی ہدایت کا سامان ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے کسی کو مجبور نہیں کیا ہے۔ اللہ نے انسان کو فکرو نظر کے لحاظ سے آزاد پیدا کیا ہے، اسے آزادی دی ہے اور وہ بہر حال چاہتا ہے کہ یہ آزادی باقی رہے اور یہی انسان کی امتیازی خصوصیات ہے، ورنہ اس کا شمار بھی جمادات، نباتات اور زیادہ سے زیادہ حیوانات میں ہوتا۔

قرآن نے شروع ہی سے یہ بات بتا دی کہ حق اور باطل واضح کر دیاگیا ہے،اس کو قبول کرنا یا نہ کرنا آپ کے اختیار میں ہے۔ سورۂ الدھر ابتدائی دور کی سورہ ہے۔ اس میں کہا گیا ہے: إِنَّا ہَدَیْْنٰہُ السَّبِیْلَ إِمَّا شَاکِراً وَإِمَّا کَفُوراً (الدھر:3)۔”ہم نے انسان پر سیدھا راستہ کھول دیا۔اس کے بعد وہ یا تو اللہ کا شکر گزار بندہ ہو اور اس کی ہدایات پر عمل کرے یا ناشکری کا رویہ اختیار کرے۔ یہ اس کے اختیار کی چیز ہے۔“ یہ بات قرآن میں بار بار دہرائی گئی ہے۔ وہ انسان کی آزادی کو بہر حال باقی رکھنا چاہتا ہے اور رکھا ہے۔

ہماری ساری کوشش کے باوجود یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کوئی طبقہ ہماری بات قبول کر رہا ہے یا نہیں کر رہا ہے اور اس کی مخالفت ہو رہی ہے یا نہیں ہو رہی ہے۔ امکانات اس بات کے بھی ہیں کہ بعض علاقوں میں لوگوں کی تائید حاصل ہو اور بعض جگہ مخالفت کا سامنا ہو، لیکن بہر حال ہم پر دعوتِ دین کی جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ملک کو یہ بات سمجھائی جائے کہ ہم اس کے حریف نہیں ہے، بلکہ ایک پیغام کے حامل ہیں اور آپ سے اتنی گزارش ہے کہ اس کو سنیں اور اس پر غور کریں۔

میرا خیال یہ ہے کہ دعوت کا یہ عمل بہت طویل عمل ہے۔ یہ ملک تقریباً ایک سو چالیس کروڑ کی آبادی پر مشتمل ہے، جو مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک کئی ہزار کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس میں کون لوگ اور کس طبقے کے لوگ اسلام قبول کریں گے،اس کا فیصلہ پہلے سے نہیں کیا جا سکتا۔ ہو سکتا ہے، کہیں اس کا استقبال ہو اور کہیں اس کی مخالفت ہو۔ کسی خاص حلقے کو دیکھ کر ہم کو فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ بہر حال یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور اس پر عمل کرنا ہماری ذمہ داری ہے، دنیا اسے قبول کرے یا نہ کرے۔ یہ اس ملک کی خیر خواہی ہے اور دنیا والوں کی خیر خواہی بھی۔

اس موقع پر میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے یہ اعزاز بخشا۔اس کے بعد میں ڈاکٹر محمد منظور عالم، چیئرمین آئی او ایس اور انسٹی ٹیوٹ کے کارکنوں کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے اس ایوارڈ کے لیے اس عاجز کاانتخاب فرمایا۔ جس محبت کا اظہار آپ حضرات کی طرف سے ہوا ہے اس کا اظہار ضروری معلوم ہوتا ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*