موجودہ حالات میں قربانی کےایام میں ہم کیا کریں؟-مولانا طارق شمسی

ہندوستان ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہے۔ آئین ہند نے ملک کے تمام باشند گان کو رہنے سہنے اپنے مذہب پر آزادانہ طور پر عمل کرنے اور اپنے تمام مذہبی فریضوں و رسومات کو ادا کرنے کی بلا امتیاز مذہب و ملت پوری آزادی دی ہے جس کے مطابق یہاں کے تمام باشندگان اپنے مذہبی،معاشرتی فرائض و رسومات کو پورے طور پر ہمیشہ سےادا کرتے چلے آرہے ہیں۔ اس وقت ملک میں مسلمانوں کو جس طرح کے حالات درپیش ہیں ان میں کسی قسم کےاحساس کمتری میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ضرورت ہے کہ ان ناگفتہ بہ حالات میں ہم اپنے اسلامی اخلاق اور اپنے پیارے آقا حضرت محمد ﷺ کی پاکیزہ اور نورانی سیرت آپ ﷺ کے سچے عاشق اورجاں نثار صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) اور اولیاء عظام( رحمہم اللہ ) نے ہمدردی ،غم گساری،اخوت اور محبت کا جو درس دیا ہے اپنے کردار و عمل سے ان تعلیمات کا مظاہرہ اور عملی نمونہ پیش کرکے ہم دشمنان اسلام کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنادیں۔ عید قرباں کا یہ زریں موقع ہم کو دعوت دے رہا ہے کہ ہم یاد کریں سیدنا حضرت ابراہیم ؑکی قربانی کو، حضرت ہاجرہ کی قربانی کو، حضرت اسماعیلؑ کی قربانی کو، رسول اعظم ﷺ کی قربانی کو،حضرت حسنین کریمین رضوان اللہ علیہم کی قربانی کو، آپ کے پیارے ساتھیوں کی قربانی کو،اولیا ء اللہ اور بزرگان دین کی قربانی کو،اور پھر ان تمام قربانیوں کو ذہن میں رکھ کر ہم قربانی دیں اپنے جذبات کی، اپنے نفس کی، اپنی خواہشات کی،ان شاء اللہ حالات بدلیں گے۔ یہ اللہ کا نظام ہے ان مع العسر یسرا۔ ہر تنگی کے بعد آسانی ہے۔ یہ دور بھی گذر جائے گا۔ ان شاءاللہ عنقریب حالات سازگار ہونگے۔ موجودہ وبائی دور لاک ڈاؤن کے حالات میں مسلمانوں کو نہ تو گھبرانے کی ضرورت ہے اور نہ مایوس ہو کر بددل ہونے کی بلکہ پورے جوش و خروش اور جذبہ صادق کے ساتھ حفظان صحت کے اصولوں اور ماہرین اطباء کی ہدایات کی رعایت کرتے ہوئے شریعت مطہرہ کی روشنی میں اپنی عبادتوں کو حسب معمول انجام دیں۔ بلا ضرورت بازاروں میں جانے سے گریز کریں۔ کہیں مجمع اور بھیڑ نہ لگائیں۔ صفائی اور دوسری احتیاطی تدابیر کا خیال رکھیں۔

چونکہ اسلام میں قربانی کی حیثیت ایک مستقل عبادت کی ہے، قرآن کریم میں خود حضرت نبی کریم ﷺ کو قربانی کرنے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ حضورﷺ نے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد مسلسل دس سال قربانی کا اہتمام فرمایا۔ احادیث نبویہ میں بھی اس کی بڑی فضیلت آئی ہے، ایک حدیث میں ہے کہ حضرت نبی کریم ﷺ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ یہ قربانی کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا طریقہ ہے۔دوسری حدیث میں ہے کہ قربانی کا پہلا قطرہ زمین پر گرنے ہی سے گناہوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔

دوسری طرف وسعت کے باوجود قربانی نہ کرنے والوں پر حضور ﷺ نے سخت ناراضگی کا بھی اظہار فرمایا ہے، حدیث میں ہے کہ جو شخص قربانی کی گنجائش رکھے اور قربانی نہ کرے ، وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے۔ حکیم الامت مجدد الملت محی السنۃ الظاہرہ والباطنہ حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اپنی شہرہ آفاق کتاب حیاۃ المسلمین میں اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں کہ اس سے کس قدر ناراضگی ٹپکتی ہے؟ کیا کوئی مسلمان رسول اللہ ﷺ کی ناراضگی کی سہار کر سکتا ہے؟ اس لیے فقہاء کرام نے ہر عاقل بالغ مرد اور عورت اور مقیم جو صاحب نصاب ہو، اس پر قربانی کو واجب قرار دیا ہے۔

لہذا مسلمانوں کو ایام قربانی میں قربانی کی عبادت پورے اہتمام اور خوش دلی کے ساتھ انجام دینی چاہیے،حدیث میں ہے کہ تم لوگ جی خوش کر کے قربانی کرو۔ قربانی کے ایام میں دوسری کسی عبادت کو قربانی کا بدل سمجھنا غلط ہے، حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ قربانی کے دن میں آدمی کا کوئی عمل اللہ تعالی کے نزدیک قربانی کرنے سے زیادہ پیارا نہیں ہے۔

فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ جیسے نماز پڑھنے سے روزہ اور روزہ رکھنے سے نماز کا فریضہ ادا نہیں ہوتا، اسی طرح اگر کوئی شخص قربانی نہ کر کے یہ چاہے کہ وہ جانور یا اس کی قیمت صدقہ کر دے، تو اس کی قربانی ادا نہیں ہوگی اور وہ تارک عبادت سمجھا جائے گا اور گنہگارہوگا، لہذا جن مسلمانوں پرقربانی واجب ہے، ان کے لیے ہر سال کی طرح امسال بھی قربانی کا اہتمام کرنا لازم اور ضروری ہے، اس سلسلے میں کسی طرح کی غفلت برتنا اسلام اور اہل اسلام کے لیے نقصان دہ ہے، قربانی ایک ایسی عبادت ہے، جو شعائر اسلام میں سے ہے، یہ محض جانور کو ذبح کرنا نہیں ہے؛ بلکہ اسلام کے شعار کے طور پر اس عبادت کو انجام دیا جاتا ہے، اس عبادت کا کوئی بدل نہیں ہو سکتا، لہذا قربانی کے بجائے اتنی رقم غرباء مساکین کو صدقہ کرنے کی بات قطعا درست نہیں ہے، یہ سراسر نا واقفیت ہے، اسلام میں غرباء اور مساکین کی مدد کا مستقل تاکید ی حکم ہے، جس کے لیے صدقات واجبہ اور نافلہ دونوں طرح کا نظام موجود ہے۔ یہ بھی بہت بڑی غلط فہمی کی بات ہے کہ اس واجب کی ادائیگی کا مقصد یہ سمجھا جائے کہ قربانی غیر مسلموں یا دیگر اقوام کی دلآ ٓزاری کے لئے کی جاتی ہے یا اس سے صرف تفریحی رسم و رواج یا کھیل کود یا گوشت کا کھانا کھلانامقصود ہے ۔

موجودہ وبائی صورت حال اور اس کی پابندیوں کے پیش نظر قربانی کسی چہار دیواری کے اندر ہی کرائیں،محلوں یا گلیوں میں کھلی اور عوامی جگہوں پر نہ کرائیں تاکہ کسی کو شر انگیزی کا موقع نہ مل سکے۔گوشت کو ادھر ادھر کھول کر نہ لے جائیں ،باقاعدہ ڈھانک کر لے جائیں۔قربانی کے گوشت کی تقسیم بھی نظم و ترتیب کے ساتھ کریں، مجمع اور بھیڑ نہ لگائیں۔ اپنی جانب سے حتی الامکان کوئی ایسی بات نہ ہونے دیں جس سے شر پسندوں کو فتنہ انگیزی کا موقع ملے اور وہ اسکو بنیاد بناکر وہ مسلمانوں کو نقصان پہنچا کر اپنا ناپاک منصوبہ کامیاب بنا سکیں۔

مسلمانوں کو چاہئے کہ حسب استطاعت اچھے سے اچھا اور اعلی قسم کا جانور ذبح کرنے کی کوشش کریں ، شریعت میں عیب دار جانور کی قربانی کو منع کیا‌گیا ہے۔ اسی طرح جانور ذبح کر تے وقت ہر ایسے طریقے سے احتراز کیا جائے جس سے جانور زیادہ تکلیف ہو، پہلے ہی سے سارے انتظامات کر لیے جائیں، جانور کو تکلیف پہنچانا گناہ ہے، حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی نے ہر چیز کے ساتھ حسن سلوک کو فرض قرار دیا ہے، اس لیے کسی جانور کو ذبح کر و تو اچھی طرح کرو۔

ہم اپنے علاقوں اور محلوں میں صفائی کا خاص اہتمام رکھیں۔ پیغمبر کائنات حضرت رسول مقبول ﷺ نے اپنی تعلیمات میں پاکی اورصفائی کو نصف ایمان بتایا ہے،اپنی ذاتی صفائی کے ساتھ ساتھ گلی کوچوں اور اپنے محلوں و کالونیوں کی صفائی کا خاص اہتمام چہ جائیکہ ہم کو عام دنوں میں بھی رکھنا چاہئے لیکن عید قرباں کے اس مقدس اور محترم موقع پر ہماری اسلامی تہذیب اور اسلامی تعلیمات کا یہ عملی نمونہ ابنائے وطن کے لئے ان شاء اللہ ہدایت کا ذریعہ بنے گا۔

قربانی کے بعد جانوروں کی گندگی،خون اور آلائش وغیرہ گلیوں میں ادھر ادھر نہ ڈالیں ، بلکہ ان کی صفائی پورے اہتمام اور ذمہ داری کے ساتھ کرائیں۔ اس سلسلہ میں میونسپلٹی کے افسران اور علاقائی کارپوریٹر صاحبان کی مدد سے خصوصی انتظام کرواکر صفائی کا نظم کرالیں۔ اپنے پڑوس اور محلہ کے لوگوں کی سہولت کا بھی خیال رکھیں۔ موجودہ وبائی ماحول اور موسم باراں میں صفائی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ لیکن چونکہ صفائی اور پاکی کی جوہدایات اور اس کاجو واضح تصور ہمیں اسلام نے دیا ہے وہ دنیا کے کسی مذہب کے پاس نہیں ہے۔طہارت کا صحیح ترجمہ دنیا کی کوئی زبان اس لئے نہیں کر سکتی کہ کسی غیر اسلامی تہذیب میں طہارت کا تصور ہی نہیں ہے۔ اس لئے اس پہلو پر خاص توجہ دیکر ہم ایک اچھی مثال قائم کر سکتے ہیں۔ یہ بھی ہمارے ذہن نشین رہے کہ اسلامی تعلیمات کو عملی طور پر پیش کرنا ہی مسلمانوں کی کامیابی کی ضامن ہے۔

کسی علاقہ میں اگر شرپسند کوئی فتنہ پروری اور شر انگیزی کی کوشش کریں تو فوری طور پر اسکی اطلاع مقامی پولیس افسران اور حکام کو دینے کے ساتھ ساتھ ملی وسماجی کارکنوں اور ملت کے سربرآوردہ حضرات کو دیں۔ خود قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کریں تاکہ قربانی کے فریضہ کو ہم سب خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دے سکیں۔یہی اس صورت حال کا صحیح اور مناسب حل ہے۔

قربانی کے جانوروں کی چرم(کھالوں) کو ہمارے علاقوں میں دینی مدارس، مراکز اور رفاہی اداروں کہ عطیہ کرنے کا سلسلہ چلا آرہاہے جو کہ ان اداروں کے لئے فراہمی مالیات کا اہم ذریعہ ہوتا ہے۔ گذشتہ کچھ سالوں سے عالمی بازار میں خام چمڑے کی قیمتوں میں بے تحاشہ گراوٹ کے سبب عام دنوں میں کھالوں کی قیمت برائے نام رہ گئی ہے اور نتیجتاً قربانی کی کھالیں بھی بے قیمت ہو گئی ہیں اور ان کے خریدار نہیں مل رہے ہیں۔ایسے حالات میں دین کی خدمت کرنے والے ان اداروں کے سامنے بھی مالیات کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ رمضان المبارک میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے مدارس کی سالانہ وصولیابی بھی نہیں ہو سکی ہے۔ ان حالات میں مدارس کے وجود کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ ان مدارس میں بر سر خدمت علماء، اساتذہ اور ملازمین کے مشاہرہ جات کی ادائیگی متأثر ہو گئی ہے۔ یہ دینی ادارے اور دینی مدرسے عام مسلمانوں کے گرانقدر تعاون سے ہی زندہ ہیں اور دین کی خدمت کر رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں ان اداروں کا وجود اور بقاء کس حد تک ضروری ہے اس کا احساس بھی یقیناً آپ سب کو ہوگا۔ عالمی استعماری طاقتوں کے ساتھ ساتھ ملک میں فرقہ پرست عناصر اور ارباب اقتداربھی دینی مدارس کی بیخ کنی کے لئے تمام حربے بروئے کارلا رہے ہیں۔ ان کے تحفظ اور بقاء کےسلسلہ میں اہل ثروت اپنے دست تعاون کو دراز کریں اور مدارس دینیہ کی خدمت کے ذریعہ اپنی آنےوالی نسلوں کے دین،ایمان اور عقائد کی حفاظت کا سامان کریں اور اپنے لئے صدقہ جاریہ بنائیں ۔ دینی اداروں کے تئیں آپ کی یہ محبت،تعاون اور قربانی ان شاء اللہ رائیگاں نہیں جائے گی اور اس پر آپ ان شاءاللہ اجر عظیم کے مستحق ہونگے۔

اللہ تعالیٰ نیک مقاصد میں ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور ہم سب کو اخلاص کے ساتھ قربانی و دیگر تمام اسلامی احکام وہدایات پر عمل کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین و خاتم النبین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم و علی آلہ و صحبہ و اہل بیتہ اجمعین

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*