متھراعیدگاہ تنازعہ پر10 دسمبرکوسماعت ہوگی

متھرا:بابری مسجدمعاملے پرطویل مدتی تنازعہ ختم ہونے کے بعدفرقہ پرست عناصرنے نیاتنازعہ کھڑاکرنے کی کوشش کی ہے۔بابری مسجدمعاملے کے وقت بھی یہی خدشہ ظاہرکیاجارہاتھاکہ اگرمصالحت ہوبھی گئی تووہ عناصرماننے والے نہیں ہیں جنھیں ہروقت مذہبی مدعے کی سیاسی ضرورت ہوتی ہے۔چنانچہ جیسے ہی بابری مسجدکاقضیہ حل ہوا،یہ عناصرنیاتنازعہ کھڑاکرنے لگے اورمتھراعید گاہ معاملے میں تنازعہ شروع کردیا۔اس معاملے پرآج سماعت ہونی تھی۔13.37 ایکڑ اراضی کی ملکیت کے تنازعہ میں ڈسٹرکٹ جج سدھانا رانی ٹھاکر کی عدالت میں سماعت کے 5 منٹ بعد ہی سماعت کی اگلی تاریخ دی گئی۔ دراصل ، آج چارفریق عدالت میں پیش ہونے تھے۔ لیکن کرشنا ٹرسٹ کے ممبران عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ سنی سنٹرل وقف بورڈ،شاہی عیدگاہ مسجد ٹرسٹ اور سری کرشنا جنم بھومی سنستھان کے وکلاء عدالت میں پیش ہوئے ، انھوں نے ان اعتراضات کوداخل کرنے کے لیے عدالت سے وقت مانگے۔عدالت نے اس پرسماعت کے لیے نئی تاریخ دی ہے۔یہ مقدمہ 12 اکتوبر کو ضلعی جج کی عدالت میں دائر کیا گیا تھا۔ تاہم اس سے قبل عدالت نے سماعت کومستردکرتے ہوئے کہاتھاکہ عقیدت مندوں کو مقدمہ دائر کرنے کا حق نہیں ہے۔ مدعیوں نے اس حکم کو چیلنج کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ جج کی عدالت منتقل کردی۔ جسے قبول کرلیا گیا۔