ماسٹر محمد جاوید اقبال کی رحلت پر علمائے کرام کا اظہار تعزیت 

 

کشن گنج : (نامہ نگار) ماسٹر محمد جاوید اقبال ڈہواباڑی کی رحلت سے کشن گنج کے علمی حلقوں میں غم کاماحول ہے، ایک علمی شخصیت کے انتقال کے بعد علمائے کرام کی طرف سے اظہار تعزیت کا سلسلہ جاری ہے، جمعہ کی نماز کے بعد تجہیز و تدفین عمل میں آئی۔ اس موقع پر اقصیٰ ایڈورٹائزنگ کشن گنج کے ڈائریکٹر اور امن انسانیت فاؤنڈیشن کے صدر مولانا ابو سالک شہید ندوی نے ماسٹر محمد جاوید اقبال کی رحلت پر تعزیتی بیان دیتے ہوئے کہا کہ ماسٹر جاوید اقبال کشن گنج کی علمی و ادبی شخصیات میں ممتاز مقام رکھتے تھے، ان کے چلے جانے سے کشن گنج ایک صاحب قلم ادیب سے محروم ہوگیا۔ ماسٹر جاوید اقبال کے ادب آمیز قلم سے "لمحات جاوید” نگارشات جاوید” نقوش جاوید” ارض مقدس” مجاہد آزادی کے دو گمنام مستان” بیگنا کے دو ولی” اور” خواب اور تعبیر” جیسی سات عمدہ کتابیں نکل کر قارئین کی نگاہوں میں مقبول ہوچکی ہیں۔ 25 جنوری 1951 کو کشن گنج کے ڈہواباڑی گاؤں میں ان کی پیدائش ہوئی، وہ تعلیمی اعتبار سے بی اے آنرس تھے، سونتھا ہائی اسکول میں ہیڈ ماسٹر کے عہدے سے ریٹائرڈ تھے، انہیں یوم اساتذہ ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ مساجد کی تعمیر اور خیر کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ پابند صوم و صلٰوۃ تھے، حکیم تجمل حسین علیہ الرحمہ سے مرید تھے نیز مولانا غلام محمد یحییٰ علیہ الرحمہ (خانقاہ صوفیاء بیگنا) کے خلیفہ تھے۔ مولانا ابوسالک ندوی نے کہا کہ ایسے صاحب علم لوگ جو بیک وقت دین و دنیا کی سعادتوں سے سرفراز ہوں بہت مشکل سے ملتے ہیں۔