مسلکی اختلافات:آپ شعوری طور پر آزاد ہیں یا لکیر کے فقیر ؟ ـ مسعود جاوید

پچھلے دنوں بعض احباب کی پوسٹ سے محسوس ہوا کہ واقعی وہ مسلکی اور مشربی اختلافات کے مخالف ہیں میں نے ان سے مراسلات کے ذریعے قربت بڑھانے کی کوشش کی اور بعض تجاویز پیش کیں کہ نئی نسل اس طرح کام کر کے اتحاد امت کی کوششوں کو تقویت بخش سکتی ہے۔ میں نے لکھا کہ دنیا میں بے شمار جماعتیں ہیں جو نظریاتی اختلاف کے باوجود اقل مقدار قدر مشترک minimum common agenda کے تحت اتحاد کرتی ہیں ہمیں ان کے تجربات سے مستفیض ہوتے ہوئے امت میں اتحاد کے لئے جو قدر مشترک ہے اس کو ایجنڈا بنا کر میدان میں آنا چاہئے۔ اس کے لئے سب سے پہلی ضرورت نئی نسل کو فکری اور شعوری طور پر آزاد کرنے کی ہے۔ بریلوی مسلک کے لوگوں کو دیوبندی مسلک سے کن باتوں میں اختلاف ہے اور کیا ان موضوعات کو پس پشت ڈال کر آگے بڑھنا ممکن نہیں ہے ؟
دیوبندی مساجد ہر ایک کے لئے کھلی ہوتی ہیں۔ کسی بھی مسلک و مشرب کے لئے کوئی روک ٹوک نہیں۔ نہ یہ کبھی لکھتے ہیں کہ یہ یہ دیوبندی مسجد ہے۔ دیوبند والوں نے بریلویوں پر کفر کا فتویٰ کبھی صادر نہیں کیا تو پھر آپ لوگوں کا حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی بعض تعبیرات کو بنیاد بنا کر دیوبندیوں کے کفر پر اصرار کیوں ہے ؟ چند روز قبل اخبار میں شائع خبر (تراشے کمنٹ باکس میں ملاحظہ ہو) کے مطابق رامپور کے ایک گاؤں سید نگر میں ایک دیوبندی بزرگ کے نماز جنازہ میں شرکت سے پچاس بریلویوں کا نکاح ٹوٹ گیا ان سب کا دوبارہ نکاح ہوا۔ راجستھان کے ایک گاؤں میں بریلویوں نے ایک خاتون کی لاش قبر سے نکال کر اس کے گھر میں ڈال دیا محض اس لئے کہ اس کا تعلق دیوبندی مکتبہ فکر سے تھا!
سلفیوں کے بعض نئے فارغین مسلکی اختلافات کو اپنے خطبوں تقریروں میں اس طرح بیان کرتے ہیں اور دیوبندیوں پر لعنت ملامت کرتے ہیں جیسے وہ درسگاہوں میں طلبا کو درس دے رہے ہوں۔ عام لوگوں کو عام فہم دین کی باتیں بتانے کی بجائے ائمہ اربعہ کی خامیاں گناتے ہیں۔ مدارس کی حد تک یہ روش مشترک ہے دیوبندی بریلوی اہل حدیث تینوں کے مدرسوں میں ان موضوعات پر خوب زور دیا جاتا ہے لیکن جیسا کہ میرے علم میں ہے دیوبند میں اساتذہ بعض مقامات پر صاف لفظوں میں اعتراف کرتے ہیں کہ ان کی تحقیق کے مطابق اس مسئلے میں ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا موقف کمزور ہے۔ عصبیت سے خالی ہوکر علمی تحقیق کرنا اور اس کا اعتراف اور تعلیم دینا ہی صحیح طریقہ تعلیم ہے۔
دارالعلوم دیوبند ایک فکر اور تحریک کا نام ہے بعض تصرفات سے اختلاف کی گنجائش ہو سکتی ہے مگر یہ بات بھی ذہن نشیں رہے کہ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے بعض مواقف سے دیوبندی مکتبہ فکر کو اختلاف ہے‌۔ جہاں تک جماعت اسلامی ہند بحیثیت مجموعی کا تعلق ہے اس کے بارے میں جو اختلافات منظرعام پر آتے رہتے ہیں اس کا تعلق جمعیت علما کے ساتھ سیاسی چپقلش کا نتیجہ ہو سکتی ہے اس لئے ہر بات کو دارالعلوم دیوبند کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا۔
دارالعلوم دیوبند کا موقف یہ رہاہے کہ ہندوستان جیسے کثیر الادیان کثیر اللسان اور مختلف تہذیبوں والے ملک میں رائج سیکولرازم جو حقیقی معنوں میں سیکولرازم ہو جس میں ریاست کا کوئی مذہب نہیں یعنی ریاست کسی مذہب کے فروغ کے لئے یا کسی مذہب کے خلاف کام نہیں کرے گی، یہاں کے تمام باشندوں کے لئے قابل قبول ہونا چاہیے۔ دنیا کے مختلف ممالک کے تجربات کا مطالعہ کرنے اور منفی و مثبت پہلوؤں کا بغور جائزہ لینے کے بعد دنیا کی بیشتر حکومتوں نے جمہوری نظام حکومت کو بہتر اور قابل عمل سمجھا ہے اسی لئے دنیا کے بیشتر ممالک میں یہ نظام رائج ہے۔ ہندوستان میں اس نظام کو طاغوتی نظام کہ کر عدم تعاون اور عدم اتباع ہندوستانی مسلمانوں کے لئے خودکشی کے مترادف ہے۔ نفاذ میں بعض کوتاہیوں کمیوں عملی طور پر تفریق اور زیادتیوں کے باوجود یہ ملک ہم سب کا ہے اور ہم سب نے اس ملک کے دستور کو اپنایا ہے خود اپنی رضا و رغبت سے اپنے آپ کو اس دستور کا پابند بنایا ہے۔ اس لئے دیوبند کا واضح موقف ہے کہ اس ملک کے مین اسٹریم میں شامل ہونا اس ملک کی تعمیر و ترقی میں ہاتھ بٹانا اور انتخابی عمل میں حصہ لینا نہ صرف ہمارا حق ہے بلکہ ہمارا وطنی اور ملی فریضہ ہے۔ جو لوگ اسے شرک اور طاغوتی نظام میں حصہ لینے کے مترادف سمجھتے ہیں ان کو نظر انداز کرنا بہتر ہے۔
حاصل کلام یہ "خذ ما صفا و دع الكدر” کے اصول پر عمل کرتے ہوئے نئی عام جلسوں میں مسجدوں میں مسلکی اختلافات کو ہوا دینے والوں کو سختی سے منع کریں۔ انہیں دین کی باتیں کرنے کی تاکید کریں اور مسلک کی باتیں کرنے سے روکیں۔
مسجد اللہ کا گھر ہے اس پر دیوبندی مسجد بریلوی مسجد اہلحدیث مسجد کے بورڈ نہ لگائیں۔
نئی نسل فکری اور شعوری غلامی سے آزاد ہو کر اتحاد امت کے لئے اٹھ کھڑی ہو۔ وہ لوگوں کو بتائیں کہ جنت جہنم کا فیصلہ کرنے کا اختیار اللہ نے اپنے پاس رکھا ہے وہ لوگوں کو بتائیں کہ اللہ نے آپ کو اس روے زمین پر داروغہ بنا کر نہیں بھیجا ہے کہ آپ دوسروں کے بارے میں فکر مند رہیں اور خواہ مخواہ مسلمانوں کو اسلام سے خارج کرتے رہیں ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*