مسئلہ فلسطین اور ہندوستانی ڈپلومیسی- معصوم مرادآبادی

 

سن 2000 میں باجپئی کے دورحکومت میں جسونت سنگھ اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے ہندوستانی وزیرخارجہ تھے۔انھوں نے یروشلم میں دیوارگریہ کابوسہ لے کر کہا تھاکہ’’ اقلیتوں کی منہ بھرائی کی پالیسی کی وجہ سے ہندوستان کو اسرائیل کے ساتھ سفارتی رشتے قایم کرنے میں تاخیر ہوئی۔‘‘ یہ باجپئی حکومت کے ایک ذمہ دار وزیر کا انتہائی غیرذمہ دارانہ اور مذموم بیان تھا۔حالانکہ جب باجپئی نے خود1977میں جنتا پارٹی سرکار میں وزیرخارجہ کی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں تو انھوں نے نئی دہلی کے رام لیلا گراؤنڈ میں ایک عوامی استقبالیہ کے دوران خم ٹھونک کرکہا تھا کہ’’ فلسطین کے تعلق سے ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اور ہم پہلے کی طرح فلسطینی کاز کی حمایت کرتے رہیں گے۔‘‘ یہ الگ بات ہے کہ اس دوران اسرائیل کے وزیردفاع موشے دایان نے ہندستان کا دورہ کیا اوراس وقت کے وزیراعظم مرارجی ڈیسائی سے ملاقات کی۔اسے خفیہ ملاقات کا نام بھی دیا جاتا ہے۔اس دورے کی صورت گری میں جنتاپارٹی حکومت میں شامل مرکزی وزیر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کا ہاتھ تھا ، جو آج بھی ہندوستان میں اسرائیل کے سب سے پرانے اور معتمددوست تصور کئے جاتے ہیں۔بہرحال یہ سب پرانی باتیں ہیں اور تب سے اب تک جمنا میں ڈھیروں آلودہ پانی بہہ چکا ہے۔
اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ہندوستان نے ہمیشہ فلسطینی کاز کی حمایت کی ہے ۔ وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرونے اس حوالے سے جو پالیسی وضع کی تھی، وہ اس پر مضبوطی سے قایم رہے اور انھوں نے ہمیشہ عربوں سے اپنے تعلقات کو ترجیح دی۔آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ 1948میں ہندوستان ان 13ملکوں میں اکیلا غیرعرب ملک تھا جس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کی تقسیم کے منصوبے کے خلاف ووٹ دیا تھا۔جواہر لال کے بعدان کی بیٹی اندراگاندھی نے بھی اس پالیسی کی پیروی کی۔یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ تنظیم آزادی فلسطین(پی ایل او)کے سربراہ یاسرعرفات اندراگاندھی کو اپنی منہ بولی بہن کہا کرتے تھے اور انھوں نے ہندوستان کو اپنا وطن ثانی قرار دیا تھا۔وہ بار بار ہندوستان آتے تھے اور یہاں ان کا والہانہ خیرمقدم کیا جاتا تھا۔ان کے آخری سفر کے دوران نئی دہلی کے تاج پیلس ہوٹل میں جو استقبالیہ دیا گیا تھا ، اس میں راقم بھی مدعو تھا اور یہیں ان سے معانقہ کرنے کا موقع بھی ملا تھا۔ یہ بات سبھی کو معلوم ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ان کے داخلی مسائل کی طرح ایک مسئلہ رہا ہے۔ہر مسلم تنظیم کے اجلاس میں جہاں ہندستانی مسلمانوں کو درپیش داخلی مسائل کا ذکر ہوتا تھا، وہیں ان میں فلسطین کے باشندوں سے اظہار یکجہتی اور فلسطین کی آزادی اور اسرائیل کی مذمت میں بھی قرارداد پاس ہوتی تھی۔یہی وجہ ہے کہ نئی دہلی میں سب سے زیادہ عرصہ تک تعینات رہنے والے فلسطینی سفیر خالد الشیخ کی حیثیت مسلم تنظیموں اور قائدین کے لیے ایک فردخاندان کی سی ہوگئی تھی۔
1992 میں کانگریسی وزیراعظم نرسمہاراؤ کے دور حکومت میں اسرائیل کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات قایم ہوئے اور نئی دہلی میں اسرائیلی اور تل ابیب میں ہندوستانی سفارتخانے وجود میں آئے۔ ہرچند کہ بمبئی میں اسرائیلی قونصل خانہ 1953میں قائم ہوگیا تھا ، لیکن اس کا کام بمبئی میں مقیم یہودیوں اورعیسائیوں کو ویزا جاری کرنے تک محدود تھا۔ ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات قایم ہونے سے قبل ہندستانی باشندوں کو جو پاسپورٹ جاری ہوتے تھے ،ان میں واضح طورپریہ لکھا ہوتا تھا کہ’ اس پاسپورٹ سے آپ اسرائیل کا سفر نہیں کرسکتے۔‘ خود ہم نے جب پہلا پاسپورٹ بنوایا تھا تو اس پر بھی یہ عبارت نمایاں لفظوں میں تحریر تھی، لیکن آج ایسا کچھ بھی نہیں ہے اور اسرائیل سے ہمارے رشتے اتنے گھنے ہیں کہ ان کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ خوداسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کہہ چکے ہیں کہ ہندوستان کے ساتھ ان کے رشتوں کی حد آسمان ہے۔ان رشتوں میں وزیراعظم نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد جو گرم جوشی پیدا ہوئی ہے ، اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔آج اسرائیل دفاعی امور میں ہندستان کا سب سے بڑا پارٹنر ہے اور ہندستان سب سے زیادہ ہتھیار اسی سے خرید رہا ہے۔ زرعی ، انٹلی جینس اور دیگر ضرورتوں کے لیے بھی ہندستان بہت حد تک اسرائیل پر انحصار کرتا ہے۔مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد ہندستان نے اسرائیل سے اب تک662 ملین ڈالر کے ہتھیار خریدے ہیں۔اگر یہ کہا جائے کہ اسرائیل کے تعلق سے ہماری خارجہ پالیسی یکسر تبدیل ہوچکی ہے تو بے جا نہیں ہوگا۔
2104 میں وزیراعظم مودی کے اقتدار سنبھالنے کے کچھ ہی دنوں بعد اسرائیل نے غزہ پر بمباری کرکے دوہزار فلسطینی باشندوں کو شہید کردیا تھا۔ اس دوران یہاں پارلیمنٹ کا اجلاس جاری تھا۔راجیہ سبھا میں اپوزیشن نے اسرائیل کی مذمت میں ایک قرار داد پیش کی اور اسے ایوان سے پاس کرانا چاہا ، لیکن مودی سرکار نے اس کو ناکام بنانے کے لیے ایڑی سے چوٹی تک کا زور لگادیا اور قرارداد پاس نہیں ہوسکی۔ اس وقت کی وزیرخارجہ آنجہانی سشما سوراج نے اپنی تقریر میں ظالم اورمظلوم کو ایک ہی پلڑے میں رکھنے کی جان توڑ کوشش کی۔اس دوران راجیہ سبھا میں جو گرما گرم بحث ہوئی تھی ، اس کا مشاہدہ میں نے خود پریس گیلری میں بیٹھ کر کیا تھا۔
اب آئیے تازہ صورتحال کا رخ کرتے ہیں جو رمضان کے آخری عشرے میں اس وقت پیدا ہوئی جب اسرائیلی فورسز نے مسجد اقصیٰ میں عبادت گزاروں کی تعداد محدود کرنے کے سوال پر وہاں یورش برپا کی اور سینکڑوں نمازیوں کو زخمی کردیا۔مسجد اقصیٰ کے خلاف صہیونی فورسز کی اس کارروائی نے فلسطینی باشندوں میں غم وغصہ کی لہر پیدا کردی اور اس کا ردعمل غزہ میں بھی ہوا۔اسرائیل کا اصل ہدف مشرقی یروشلم میں اپنا مکمل تسلط قایم کرنا ہے اور وہ اس مقصد کے تحت مسلسل اشتعال انگیز کاروائیاں کررہا ہے، جس کے تحت فلسطینیوں کو ان کے مکانوں سے بے دخل کرکے وہاں یہودیوں کو بساناہے۔ اس کارروائی کا مقصد مشرقی یروشلم میں یہودی آبادی کو بڑھانا اور اسے وہاں کی اکثریت میں تبدیل کرنا ہے۔اسرائیل کی انہی اشتعال انگیزیوں کے نتیجے میں گزشتہ دس روز کے دوران غزہ میں کی گئی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں اب تک دوسو سے زیادہ بے گناہ فلسطینی شہری ہلاک ہوچکے ہیں اور درجنوں کثیر منزلہ عمارتیں زمیں بوس ہوچکی ہیں۔پچاس ہزار سے زیادہ باشندے غزہ سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ادھر حماس نے بھی غزہ سے اسرائیلی بستیوں پر راکٹوں کی بارش کی ہے۔مجموعی طور پر حالات دھماکہ خیز ہیں اور اسرائیل مزیدفضائی حملوں کی دھمکیاں دے رہا ہے۔دنیا کے کئی ممالک کشیدگی کم کرنے اور دونوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کررہے ہیں، لیکن امریکہ نے ہمیشہ کی طرح اسرائیل کی سرپرستی جاری رکھی ہے اور تازہ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر بائیڈن نے اسرائیل کو پانچ ہزار کروڑ ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کو منظوری دی ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ وہ اس کے باوجودجنگ بندی کے خواہاں ہیں۔ایسا تضاد آپ کو شاید ہی کہیں دیکھنے کو ملے۔
اب آئیے اس تقریر دل پذیر کا رخ کرتے ہیں جو گزشتہ اتوار کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں ہندوستانی ایلچی ٹی ایس تری مورتی نے کی ہے اور جس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر یہ کہہ کر بہت خوشی کا اظہار کیا جارہا ہے کہ ہندوستان نے فلسطین کی کھلی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔اگر آپ غور سے دیکھیں توانتہائی شاطرانہ انداز میں قلم بند کی گئی اس تقریر میں ہندوستانی ایلچی نے اسرائیل پرحماس کے راکٹ حملوں کی تو پرزور مذمت کی ہے ، لیکن غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کی مذمت نہیں کی اور اس کے بارے میں بہت محتاط ردعمل ظاہر کیا ہے ۔یہی دراصل مودی سرکار کا اصل رخ ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہندستانی ایلچی نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں فلسطین کے جائز مطالبات کی حمایت کی ہے، لیکن اس بیان میں کہیں بھی واضح طور پر اس اسرائیلی بربریت کو تذکرہ نہیں ہے جس کے نتیجے اب تک غزہ میں 200 سے زائد بے گناہ فلسطینی دردناک موت کا شکار ہوچکے ہیں ۔ ان میں تقریباً آدھی تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہندوستان اسرائیل کی ناراضگی مول نہیں لینا چاہتااور وہ ’ باغباں بھی خوش رہے اور راضی رہے صیاد بھی‘ کی پالیسی پر عمل پیرا رہنا چاہتا ہے۔شاید اسی کا نام ڈپلومیسی ہے۔