مسجد اقصیٰ روتی ہے ـ نازش ہما قاسمی

۱۹۴۷میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کی تقسیم کا فیصلہ کیا اور اسکے پچپن فیصد حصہ پر ایک آزاد شیطانی ریاست کے قیام کا فارمولا پیش کیا گیا، ۱۹۴۸میں بن گوریان نے اسرائیل کی آزادی کا اعلان کردیا اور اس طرح پہلی مرتبہ دنیا میں اورخصوصاََقلب عرب میں یہ ناسور وجود میں آیا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے نہتے فلسطینیوں کو موت کے گھاٹ اتار کر اپنے ناپاک عزائم سے انسانیت نواز طبقے کو سوچنے پر مجبور کردیا، بے شمار غریب افراد ان دجالیت کے پرستاروں کے ظلم و ستم سے تنگ آکرارض فلسطین سے ہجرت کر کے مختلف عرب ممالک میں قیام پذیر ہو گئے، ۱۹۴۷میں قائم کی گئی شیطانی ریاست اسرائیل اب دنیا کے طاقتور ممالک میں شمار کی جا رہی ہے ۔ اسرائیل کا وجود در اصل امریکہ اور برطانیہ کا مرہون منت ہے، برطانوی سامراج کے زمانہ میں ہی پہلی جنگ عظیم کے بعد لعنتی قوم یہودیوں کو فلسطین میں بسانے کا عمل شروع کر دیا گیا تھا؛ کیونکہ یہ ممالک یہودیوں کے مکر و فریب سے واقف تھے اور یہ انہیں اپنے ملک میں بسانے کی غلطی نہیں کر سکتے تھے، چنانچہ اس آباد کاری کو مذہبی رنگ دیدیا گیا اور تاریخ سے انحراف کرتے ہوئے ہیکل سلیمانی کا رنگ چڑھا دیا گیا، نتیجہ میں آج تک اسرائیل مسلسل اہل فلسطین پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہا ہے، اسرائیل نے فلسطین پرصرف قبضہ ہی نہیں کیا؛ بلکہ ظلم کی ایک ایسی تاریخ مرتب کردی جسے چنگیز خان کی درندہ صفت فوج بھی سن کر شرما جائے، وہ توصحرا بیاباں میں رہتے تھے جو انسانی دنیا کے اخلاق و عادات سے ناواقف تھے؛ لیکن یہ درندے انسانی دنیا کے ٹھیکیدار بنے بیٹھے ہیں، خود کو تہذیب و تمدن کا خالق تصور کرتے ہیں۔ ہٹلر نے کیوں ان یہودیوں کا قتل عام کیا تھا وہ بھی سمجھ میں آجاتا ہے ان مکار فریب یہودیوں کی شیطانیت دیکھ کر۔
۱۹۴۸کی پہلی جنگ میں اسرائیل نے فلسطین کی بستیوں پر ٹینک چلادیے اور نہتے فلسطینیوں کو موت کے گھاٹ اتاردیااورجو باقی زندہ بچ گئے انہیں بندوق کی نوک پر ملک چھوڑنے کیلئے مجبور کردیا اور چار سو سے زائد عرب دیہاتوں کو مکمل طور پر کھنڈر میں تبدیل کر دیا گیا ۱۹۶۷کی جنگ میں اسرائیلی درندوں نے عرب کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا، بعد ازاں ۱۹۷۷میں دوبارہ یہودیوں کی آبادکاری کا سلسلہ شروع کیا گیا جس میں زبردستی کئی ہزار اہل فلسطین بے گھر کر دئیے گئے، ۱۹۸۲میں دجال کے ان پجاریوں نے ایک فلسطینی کیمپ پراندھادھندفائرنگ کر کے ایک ہزار سے زائد افراد کو شہید کردیا اور اب تک ظلم و ستم کا بازار گرم ہے اور کوئی بھی ان بے سہارا فلسطینیوں کی مدد کےلیے تیار نہیں ہے، ہردوسے چار سال بعد دجال کے پجاری معصوم فلسطینیوں پر ہیلی کاپٹر، ٹینک اور جدید قسم کے اسلحہ سے تیار ہو کر حملہ آورہوتے ہیں، دنیا کے چند ممالک میں صداء احتجاج بلند کی جاتی ہے، ہنگامی طور پر اقوام متحدہ کا اجلاس طلب کیاجاتاہے، امریکہ اور اس کے حوارین دجال کے پرستاروں کے حق میں بولتے ہیں اور پھر ثالثی کاڈرامہ شروع کیاجاتاہے، چندقراردادیں پیش کی جاتی ہیں، کچھ نئے منصوبے بنتے ہیں، دو چار کمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں اور کانفرنس کا اختتام ہوجاتا ہے۔ فلسطین میں جاری یہ جنگ عالم انسانیت کی سب سے عجیب جنگ ہے، ایک طرف جنگی ہتھیاروں سے لیس شیطانی لشکر ہے، دوسری طرف نہتے، لاچار اور غریب عوام ہیں جو خدا وحدہ لاشریک لہ کے پرستار ہیں، ایک طرف میزائل،ٹینک، مشین گن، اور حفاظتی وردی میں ملبوس خدا کے دشمن ہیں تو دوسری طرف غلیل، پتھر اور اینٹ کو ہتھیار بناکر لڑنے والے دجالیت کے منکرہیں، ایک طرف سے بم برسائے جاتے ہیں تو دوسری طرف سے ارض فلسطین کے ننھے منے گلاب معصوم چہرے والے بچے فتح و شکست کی رسم دنیا سے بے نیاز پتھر لیکر بموں کے مقابلے کیلئے آجاتے ہیں۔ نہ جانے کب تک یہ کھیل کھیلا جاتا رہے گا ، کب تک معصوم فلسطینیوں کے گھر بار اجاڑے جائیں گے، کب تک خون میں لپٹی معصوم بچوں کی لاشیں ہمیں رلائیں گی۔ کیا یہ سلسلہ یوںہی چلتا رہے گا یا پھر اس کی روک تھام کےلیے کچھ ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔امریکہ اور اس کے حواریین یا پھر اس کی زرخرید لونڈی اقوام متحدہ کے پاس اس مسئلہ کا صرف ایک ہی حل ہے اوروہ ہے عظیم تر اسرائیل کا وجود جہاں بیٹھ کر دجال کے پجاری پوری دنیا پر حکومت کر سکیں۔ مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کو آئے دن نماز پڑھنے سے روکا جاتا ہے، مصلیوں پر طرح طرح کے الزامات لگا کر زنداں کی تاریک کوٹھریوں میں ڈھکیل دیاجاتاہے، زیر زمین کھدائی اور مسلسل گولی باری اور بمباری کی وجہ سے اقصیٰ کی دیواریں کمزور سے کمزور تر ہوتی جارہی ہیں، غریب و نادار فلسطینی آج بھی اپنا سب کچھ اقصیٰ کی حفاظت کی خاطر لٹانے کیلئے تیار بیٹھے ہیں؛ لیکن جن کے پاس دفاع کےلیے کوئی مضبوط طاقت نہ ہو وہ محض قوت ارادی و اعتمادی کی بنا پر کب تک مقابلہ میں کھرے رہ سکیں گے، جو خود برباد کر دیے گئے ہیں وہ دوسروں کو کب تک آباد رکھیں گے، پھر بھی یہ محض ایمانی حرارت ہے کہ مسلسل سات دہائیوں سے فلسطینی آج بھی دیوار آہنی بنے ہوئے ہیں اور اقصی کی حفاظت اپنے آخری سانس تک جاری رکھنے کا عزم کرچکے ہیں۔ اقصی سے مسلمانوں کا مذہبی عقیدہ وابستہ ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے سفر معراج کی شروعات کی تھی، چودہ سو سالہ تاریخ میں ہمیشہ مسلمانوں نے اقصی ٰکی حفاظت کی ہے اور مسلمان ہی اس کے ذمہ دار رہے ہیں، حفاظت کرنے والے یہ وہی فلسطینی ہیں جو کئی ہزار سال سے اقصیٰ کے ارد گرد آباد ہیں، اس طویل عرصہ میں صرف نوے سال کا عرصہ گزرا ہے جس میں صلیبیوں نے اقصی پر قبضہ کر لیا تھا جس کی سرکوبی کےلیے صلاح الدین ایوبی کوتیس سے ۳۵ سال تک مسلسل جنگ کے میدان میں رہنا پڑا اور اب ایک مرتبہ پھر صلیبیوں کی ہی مدد سے دنیا کی ذلیل ترین قوم اور دجال کے پجاری حملہ آور ہیں جن کی سرکوبی کی خاطر پھر اقصی کی دیواریں ایوبی کو صدائیں دے رہی ہیں۔ چیخ چیخ کر پکار رہی ہیں۔اے مسلمانو! آئو اقصی کی بیٹیوں کی چادریں چیھنی جارہی ہیں۔مسجد اقصی میں انہیں بے حرمت کیا جارہا ہے۔شب قدر میں بموں کی برسات کی جارہی ہے۔عید کی خوشی کو ماتم میں تبدیل کیا جارہا ہے۔معصوم بچے ننھے ننھے ہاتھوں میں غلیل و پتھر لیے ہماری حفاظت پر مامور ہیں۔کیا اب بھی ہم اقصیٰ کی ٓاواز پر لبیک نہیں کہیں گے؟ ۔کیا ہمارا فرض نہیں بنتا کہ ہم ان کے حق میں آواز اٹھائیں؛ لیکن ہمیں کیا فرق پڑتا ہے مسجدوں کے شہید ہوجانے سے. ارے ان سے پوچھو اقصی کی حقیقت کیا ہے جو آئے دن صحن اقصی میں غاصب یہودیوں سے پنجہ آزمائی کرکے جام شہادت نوش کرتے ہیں، ہم سے تو اپنی بابری مسجد بچائی نہ گئی ہم اقصی کی کیا خبر لیں گے۔ اے مسلمانو! یاد رکھو۔اسی طرح ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے اور دعا کرتے رہے تو تاریخ گواہ ہے اللہ کسی ایسی قوم کو مسلط کردے گا تم پر جو تمہیں تاتاریوں کی طرح تہہ تیغ کردیں گے اور پھر ان ہی میں سے کسی کو پاسباں منتخب کریں گے۔آزمائش اور عذاب کے فرق کو سمجھو۔حالات کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے اپنے اندر تبدیلی لائیں، اقصی کی بازیابی کے لیے تن من دھن سے اٹھیں، خدا قسم یہودی بڑی ذلیل قوم ہے اللہ ہمیں اس پر غلبہ عطا فرمائیں گے۔ان شاء اللہ۔ اے فلسطینی شیر دل مجاھدو ہم مجبور ہیں؛ لیکن تمہارے غم میں برابر کے شریک ہیں، اقصٰی صرف تمہارا ہی قبلہ اول نہیں؛ بلکہ ہم تمام کا ہے ان شاء اللہ اس پہ کوئی آنچ نہ آنے دیں گے۔اور مجھے آپ کے ان داؤدی پتھروں پہ مکمل یقین ہے کہ وہ پتھر ان کافروں کو تہہ تیغ کردے گا ان شاء اللہ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)