مسجد انڈیا گیٹ سے متعلق افواہوں پر دھیان نہ دیں ـ ابوالاعلی سید سبحانی

ادھر چند دنوں سے انڈیا گیٹ کی قدیم جامع مسجد (مسجد ضابطہ گنج) کے تعلق سے یہ افواہ عام کی جارہی ہے کہ سنٹرل وسٹا پروجیکٹ کے پیش نظر مسجد کو شہید کرنے کی تیاری ہے، اور ایک دو دن کے اندر ہم 1740 میں تعمیر شدہ اس مسجد سے محروم ہوجائیں گے۔

اس خبر کو طرح طرح سے سرخیوں میں لانے کی کوشش ہورہی ہے۔ میری نظر آج اس سے متعلق کچھ پوسٹوں پر پڑی۔ یقیناً اس مسئلہ پر بے چینی میرے لیے بالکل فطری تھی۔ اس مسجد میں مولانا ابوالکلام آزاد، اے پی جے عبدالکلام، اور حامد انصاری جیسی شخصیات نماز پڑھنے آیا کرتی تھیں۔ عام دنوں میں جمعہ کی نماز کے لیے اس مسجد میں کئی کئی ایم پی اور مرکزی وزراء تک کو نماز پڑھنے کے لیے آتے ہوئے دیکھا جاسکتا تھا۔

خبر ملتے ہی میں نے مسجد کے امام مولانا اسد خان فلاحی صاحب سے رابطہ کیا۔ دیرینہ تعلقات کے باوجود موصوف کی مصروفیت اور دوڑ بھاگ کی وجہ سے رابطہ ہونے میں کافی وقت لگ گیا۔ اس دوران دہلی کی متعدد قدآور سماجی شخصیات سے رابطہ ہوا۔ سب نے اس سلسلہ میں فکرمندی ظاہر کی۔

ابھی ابھی چند منٹ قبل میری مولانا اسد خان فلاحی صاحب سے بات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ اندیشے تھے جن کو لے کر اعلی افسران سے ملاقات کی گئی اور افسران نے اس سلسلہ میں پورا اطمینان دلایا۔ حکومتی ذمہ داران سے بھی رابطہ کیا گیا، وہاں سے بھی اطمینان بخش جواب ملا۔ تعمیرات سے متعلق تمام نقشہ جات وغیرہ حاصل کر لیے گئے ہیں، مسجد الحمدللّٰہ محفوظ ہے اور ان شاء اللہ محفوظ رہے گی۔

اسد فلاحی صاحب نے سخت افسوس اور تشویش کا اظہار کیا کہ مسئلہ کو صحیح طور سے جانے بغیر کچھ لوگوں نے اس مسئلہ کو سوشل میڈیا پر غیرضروری طور پر اچھالنے اور سرخیوں میں لانے کا کام کیا۔ اس قسم کے مسائل سے چونکہ مذہبی جذبات جڑے ہوتے ہیں، اس لیے اس جیسے مسائل کے سلسلہ میں ہمیشہ بہت ہی سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

تصور کیجیے، ایک ایسے وقت میں جبکہ ملک کے حالات تیزی سے مذہبی منافرت کی طرف جا رہے ہیں، مسلمانوں کو چہار جانب سے چیلنجز درپیش ہیں، ایسے ماحول میں اس قسم کی افواہوں کو بڑھاوا دینے سے کس کو نقصان اٹھانا پڑے گا؟ جو مسجدیں پہلے سے خطرات سے دوچار ہیں ان کے تحفظ کے تعلق سے ہمارے پاسُ کوئی لائحہ عمل نہیں ہے اور ہم ملک کی راجدھانی میں پرائم لوکیشن پر موجود ایک محفوظ مسجد کے تعلق سے کس قدر غیرسنجیدگی اور لاپرواہی کاُ ارتکاب کررہے ہیں۔

اس پوسٹ میں مسجد کے فوٹو کے ساتھ اس مقام پر ہونے والی تعمیرات کے نقشے بھی ایڈ کیے جارہے ہیں، ان نقشوں کی فراہمی بڑے بھائی مازن خان (ملی گزٹ) نے کرائی۔ اللہ تعالی ان تمام حضرات کو اجر عظیم سے نوازے جنہوں نے اس مسئلہ کی حقیقت تک پہنچنے میں تعاون کیا۔