مشہور عالم دین مولانا رضوان نسیم کا انتقال

دیوبند:علاقہ کی مشہور و معروف دینی درسگاہ جامعہ مفتاح العلوم جلال آباد کے شیخ الحدیث(ثانی) مولانا رضوان نسیم کا آج دوران علاج میرٹھ کے ایک ہسپتال میں انتقال ہوگیاہے،انا للہ و انا الیہ راجعون۔ان کی وفات کی خبر سے علاقہ کا علمی ماحول مغموم ہوگیا اور کثیر تعداد میں علماء،طلبہ اوراطراف کے عوام نے مرحوم کی آخرت زیارت کرکے نم آنکھوں کے ساتھ بعد نماز عشاء انہیں سپرد خاک کردیا۔مولانا رضوان نسیم تقریباً 53؍ سال تھے اورگزشتہ تیس سال سے وہ قرآن وحدیث کا درس دے رہے تھے۔ان کا درس طلبہ میں نہایت مقبول تھااور علاقہ میں ان کا علمی،اصلاحی اور تربیتی فیض عام تھا،مرحوم خالص علمی شخصیت تھے اور انہیں علماء،طلبہ اور عوام میں یکساں طورپر قدو منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے،آج اچانک ان کے انتقال سے متعلقین، عزیز و اقارب،تلامذہ کے علاوہ علاقہ کے لوگوں کو بھی گہرا صدمہ پہنچاہے۔ مدرسہ انبہٹہ پیر کے استاذ مولانا محمداحسان قاسمی نے بتایا کہ مرحوم مولانا رضوان نسیم گزشتہ کچھ دنوں سے سخت علیل تھے،علاج کے لیےانہیں پہلے سہارنپور اور پھر میرٹھ کے ہسپتال میں داخل کرایاگیا، جہاں آج انہوں نے داعیٔ اجل کو لبیک کہہ دیا۔ مرحوم نہایت مشفق استاذ تھے اور طلبہ کو اپنی اولاد کی طرح پڑھاتے اور سمجھاتے تھے،مرحوم عوام میں بھی بہت مقبول تھے اور ہمیشہ اصلاح معاشرہ کے لئے متفکر اور کوشاں رہتے تھے۔ان کے اچانک چلے جانے سے بڑا علمی خلا پیدا ہوگیاہے، مرحوم سادگی پسند، ملنسار اور مہمان نواز شخصیت کے مالک تھے۔ پسماندگان میں بیوہ کے علاقہ تین بیٹیاں اور ایک بیٹاہے۔ تدفین بعد نماز عشاء آبائی موضع سونتہ رسولپور(تھانہ بھون) میں عمل میں آئی،نماز جنازہ میں بڑی تعداد میں علماء اور علاقہ کے عوام نے شرکت کی۔ مولانا رضوان نسیم کے انتقال پر دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی، دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم مولانامحمد سفیان قاسمی،جامعہ مظاہر علوم سہارنپور کے امین عام مولانا سید شاہدالحسنی سہارنپوری، اور دارالعلوم زکریا دیوبند کے مہتمم مفتی محمد شریف خان قاسمی نے گہرے رنج و غم کااظہا رکرتے ہوئے مرحوم کے انتقال کو بڑا علمی خسارہ قرار دیا اور کہاکہ مولانا رضوان نسیم نے عرصہ تک علم حدیث کا درس دیا ہے ،وہ عوام او رعلماء میں یکساں مقبولیت رکھتے تھے، اللہ پاک ان کی خدمات کو قبول فرماکر ان کے درجات بلند فرمائیں۔ علاوہ ازیں دارالعلوم وقف دیوبند کے شیخ الحدیث مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی، نامور عالم دین مولانا ندیم الواجدی،دارالعلوم وقف دیوبند کے استاذ حدیث مولانا نسیم اختر شاہ قیصر،جمعیۃ علماء ہند کے ضلع صدر مولانا ظہور احمد قاسمی،مدرسہ انبہٹہ پیر کے مہتمم مولانا حبیب اللہ مدنی،جامع مسجد کلاں سہارنپور کے منیجر مولانا فرید مظاہری نے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے انتقال کو بڑا علمی خسارہ قرار دیا اور ان کے لئے دعاء مغفرت کا اہتمام کیا۔