معاشی بدحالی کا الزام بھگوان پر لگاناہندوتواکی توہین:شیوسینا

ممبئی:شیوسیناکے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے اتوار کے روز مرکزی وزیر خزانہ نرملاسیتارمن پر الزام لگایا کہ وہ ملکی معیشت کی بدحالی کاالزام بھگوان کو دے رہی ہیں۔ شیو سینا کے ترجمان ’سامنا‘میں اپنے ہفتہ وار مضمون میں راوت نے کہا کہ وزیر اعظم نریندرمودی تمام معاملات پر بات کرتے ہیں ، لیکن گرتی ہوئی معیشت اور اس سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کرنے سے انکارکرتے ہیں۔ سیتارمن نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ کوویڈ19 کی وجہ سے معیشت کو نقصان پہنچا ہے ، جو ایک ایکٹ آف گاڈہے اور موجودہ مالیاتی صورتحال پر دباؤ مزید بڑھ جائے گا۔ اس کے جواب میں راوت نے لکھاہے کہ جب بھگوان کومجرم قرار دیا جاتا ہے ، تو پھر کس عدالت میں مقدمہ چل سکتا ہے؟نوٹ بندی سے لے کرلاک ڈاؤن تک ، معیشت مکمل طورپرمنہدم ہوگئی ہے۔ لیکن مرکزی وزیر خزانہ اس کے لیے براہ راست بھگوان پرالزام لگارہی ہیں۔یہ ہندوتواکی توہین ہے۔یہ کس قسم کا ہندوتواہے؟ راوت نے کہاہے کہ وزیرکاتبصرہ ایسے ہندوستان کے قابل نہیں ہے جوخودکوایک ابھرتامعاشی سپر پاورکہتاہے۔انہوں نے کہاہے کہ کوویڈ 19 کی وبا سے پہلے ہی ملکی معیشت خراب ہورہی تھی۔ راوت نے کہا کہ انسانی غلطی اور لاپرواہ رویے کی وجہ سے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی میں 23.9 فیصدکی کمی واقع ہوئی ہے۔راوت نے لکھاہے کہ کوروناوائرس کی وبا اور کمزور معیشت خداکی مرضی ہے ، پھر حکومت اور فوج کی کیاضرورت ہے۔ خدا سب کچھ دیکھ لے گا۔