مشہور افسانہ نگار انجم عثمانی کا انتقال

نئی دہلی: (رضوان الدین فاروقی) دور درشن کے سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور ٹی وی کے معروف ادبی پروگرام بزم کے پروڈیوسر اور مشہور افسانہ نگار انجم عثمانی رضائے الٰہی سے وفات پا گئے ـ
انجم عثمانی 1952 میں دیوبند ضلع سہارنپور کے مشہور علمی، دینی و ادبی خانوادے میں پیدا ہوئےـ ان کے پردادا مولانا فضل الرحمن رحمہ اللہ دارالعلوم دیوبند کے بانیوں میں سے تھے اور فارسی اور اردو کے بہت اچھے شاعر بھی تھےـ ان کے دادا فقیہ الامت مفتی عزیز الرحمن عثمانی رحمہ اللہ دارالعلوم دیوبند کے پہلے مفتی اور غیر منقسم ہندوستان کے پہلے مفتی اعظم تھےـ مشہور مفسر قرآن، دانشور، مجاہد آزادی مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ آپ کے دادا کے بھائی تھےـ زمانۂ طالب علمی میں ہی دیوبند کے پندرہ روزہ جریدے "دیوبند ٹائمز” کی ادارت سے وابستہ رہےـ 1968 میں دار العلوم دیوبند سے تعلیمی فراغت حاصل کرنے کے بعد مختلف علمی و ادبی جریدوں کی ادارت سے وابستہ رہےـ اسی دوران آپ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے پی یو سی کا امتحان بھی پاس کیاـ 1971 میں دلی آگئے اور آخر تک یہیں رہےـ 1978 میں آپ نے دہلی یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے امتیاز کے ساتھ پاس کیا اور اسی سال پہلا افسانوی مجموعہ "شب آشنا ” منظر عام پر آیاـ اس کے علاوہ آپ کے تین افسانوی مجموعے اور منظر عام پر آئےـ سفر در سفر 1984، ٹھہرے ہوئے لوگ 1998اور کہیں کچھ کھو گیا ہے 2011ـ معروف افسانہ نگار سید محمد اشرف انجم عثمانی کے حوالے سے رقم طراز ہیں :
” اپنی تہذیبی و ثقافتی وراثت کی امانت، زبان و بیان پر مہارت، سمعی و بصری ذرائع ابلاغ کی تکنالوجی پر قدرت، شخصی شرافت اور اپنی ذات کے بیابانوں میں کھوئے ہوؤں کی جستجو کی خواہش و حسرت… یہ سب یکجا ہوجائیں تب انجم عثمانی کی کہانی وجود میں آتی ہے. تخلیقی نثر فکشن کی جان ہوتی ہے، اس بارےخاص میں انجم عثمانی اپنے بیشتر معاصرین میں ممتاز ہیں. موضوعات کا انتخاب بھی ان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں. رہا افسانے میں کہانی پن کا سوال تو پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ افسانے کی تاریخ کا مورخ جب اردو افسانے کی تاریخ لکھے گا تو انجم عثمانی کا نام ان معدودے چند افسانہ نگاروں میں شامل ہوگا جن کے کارن افسانے میں روٹھا ہوا کہانی پن واپس آیا ہے”ـ ان کی رحلت سے ادبی دنیا میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہےـ