مشہور ادیب گلشن کھنّہ کی یاد میں کتاب کا اجرا اورمحفلِ مشاعرہ

 

سرونج:(استوتی اگروال)انتساب پبلی کیشنز اور سد بھاؤنا منچ کی جانب سے سیفی لائبریری میں لندن کے مشہورادیب،شاعر اور افسانہ نگار گلشن کھنّہ کی تیسری برسی پر آفاق سیفی کی کتاب ’گلشن کھنّہ:یادوں کے آئینے میں‘ کا اجرا اور مشاعرہ منعقد کیا گیا۔اِس پروگرام کی صدارت بھوپال کے مشہور شاعر ظفر صہبانی نے کی، مہمان ِ خصوصی کے طور پر بدر واسطی، سلیمان مزاج،شعیب علی خاں اور عارف علی عارف نے شرکت کی۔نظامت کے فرائض ڈاکٹر ظفر سرونجی نے بحسن و خوبی انجام دیے۔رسمِ اجرا کے موقع پر ظفر صہبائی نے کہا کہ گلشن کھنّہ کی شاعری اور افسانے’انتسا ب عالمی‘ میں میں پڑھتا رہا ہوں۔ انھیں شاعری اور افسانے پر یکساں عبور حاصل تھا۔ گلشن کھنّہ لندن میں مقیم تھے،لیکن آج ہم اُن کی برسی کے موقع پر سرونج میں پروگرام کرکے انھیں یاد کر رہے ہیں۔ سیفی سرونجی نے کہا کہ میں جب بھی لندن جاتا تھا گلشن کھنّہ کے گھر ہی ٹھہرتا تھا۔اِس سے پہلے میں‘انتساب‘اور ’عالمی زبان‘ کا گلشن کھنّہ نمبر بھی شائع کر چکا ہوں اور یہ پروگرام پرم جیت کھنّہ کے ایماء پر ہی منعقد کیا جا رہا ہے اور ہر سال اُن کی برسی پر منعقد کیا جاتا رہے گا۔ انل اگروال نے بھی گلشن کھنّہ کو یاد کرتے ہوئے اظہار ِ خیال کیا۔ اس کے بعد خبر مدھیہ پردیش کے نمائندے محمد فرحان اور سعید خان کو سد بھاؤنا منچ کے صدر انل اگروال نے سپاس نامہ پیش کیا۔ مشاعرے کا آغاز نعتِ پاک سے کیا گیا۔ اس مشاعرے میں مقامی شعراء کے ساتھ بھوپال، کوروائی،لٹیری اور دیگر علاقائی شعراء نے بھی شرکت کی۔ ان کے علاوہ محی الدین انجم، اقبال منظر،نعمان غازی، سلیمان آزر، عبدالعلیم مضطر، حامد سرونجی، آصف سرونجی، ایاز اسلم،ظفر سرونجی، صادق ناداں سرونجی، الیاس رضا،سعد ہاشمی،قمر علی قمر،جگدیش چکرورتی،اطہر سرونجی اورباصر سرونجی نے بھی اپنے کلام پیش کیے۔ سامعین کے طور پر نعیم منصوری، ایوب قریشی، عبدالسبحان منصوری، قیصر میاں، فہمید بھائی، جمشید خان، عتیق خان، اشوک ٹھاکُر،صابر غوری،رحمان غوری،عارف غوری، نعمان خان کے علاوہ بڑی تعداد میں سامعین موجود تھے۔