مسئلہ فلسطین کی تاریخ: جدید تناظر میں ـ ابوالاعلی سید سبحانی

(پہلی قسط)

(قضیہ فلسطین کا پس منظر، صہیونی عزائم، عرب اور مغربی حکومتوں کا کردار، تحریک آزادی فلسطین، اور فلسطین میں اسلامی تحریک کی جدوجہد)

فلسطین کی سیاسی اور مذہبی تاریخ کیا رہی ہے، نیز مسئلہ فلسطین کی شرعی اور دینی حیثیت کیا ہے، ان امور پر گفتگو کے بجائے اس تحریر میں "مسئلہ فلسطین کی تاریخ کے حوالہ سے جدید تناظر میں مختصراَ کچھ تاریخی حقائق بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس مضمون میں بیشتر اعداد وشمار اور تاریخی حوالہ جات کے سلسلے میں فلسطینی امور کے ماہر ڈاکٹر محسن صالح کی تصنیف ’حقائق وثوابت فی القضیۃ الفلسطینیۃ‘ سے خصوصی استفادہ کیا گیا ہے۔

یہودی ریاست کے قیام کا پس منظر

گزشتہ صدیوں میں یہودیوں کے درمیان یہودی ریاست کے قیام کا خیال مضبوط ہوتا چلا گیا، اس خیال کو چار عناصر نے خاص طور سے تقویت پہنچائی:

(1) یہودیوں کا مخصوص سازشی مزاج: یہودیوں کا مخصوص سازشی مزاج معروف ہے، وہ کسی بھی سماج میں گھل مل کر نہیں رہ سکتے، ان کے درمیان معروف روشن خیال تحریک ’ہسکلا‘ کے قیام کا ایک بنیادی ہدف یہ بھی تھا کہ وہ اس مزاج کے برخلاف سماج میں مل جل کر رہنے کا مزاج پیدا کریں، تاہم یہ تحریک مکمل طور سے ناکام رہی، اس تحریک کی ناکامی کے بعد سے ہی ان کے درمیان اس قسم کے خیالات تیزی کے ساتھ ابھر کر سامنے آنے لگے تھے کہ انہیں اپنی ایک الگ ریاست تشکیل دینی ہوگی، جہاں وہ سکون اور اطمینان کے ساتھ رہ سکیں۔

(2) جدید قومی نظریات: یورپ میں گزشتہ صدیوں بالخصوص انیسویں صدی میں جب قومی نظریات پر مبنی حکومتوں کا قیام عمل میں آنا شروع ہوگیا، اور عیسائی ریاستیں مضبوط ہونے لگیں، اس وقت یہودیوں کے درمیان بھی قومی نظریات انگڑائی لینے لگے تھے، پروٹسٹنٹ چونکہ سولہویں صدی سے اس کا نعرہ لگارہے تھے، چنانچہ انہوں نے بھی اس موقع کو غنیمت سمجھا اور بہت ہی منصوبہ بندی کے ساتھ اس خیال کو حقیقت کا جامہ پہنانے کی کوششیں شروع کردیں۔ بعد میں اس کے لیے1897ء میں صہیونی تحریک کا قیام عمل میں لایا گیا، اس تحریک نے فلسطین میں اسرائیلی ریاست کے قیام کی عالمی پیمانے پر بہت ہی پرزور اور بہت ہی منصوبہ بند تحریک چلائی۔

(3) مغربی دنیا کی سازش: ایک اہم چیز مغربی دنیا کی سازش بھی تھی، مغربی دنیا ان کے سازشی مزاج اور حکومتوں کے خلاف ان کی ریشہ دوانیوں سے اچھی طرح واقف تھی، چنانچہ اس نے یہودیوں کی الگ ریاست کی تشکیل کے لیے نہ صرف راہ ہموار کی، بلکہ اس ریاست کی سرپرستی بھی کھل کر قبول کی۔ مغرب کا خیال تھا کہ اس طرح جہاں ایک طرف اسے اُن کی حرکتوں سے نجات مل جائے گی، وہیں اُن کو مسلم دنیا سے ٹکرا کر عیسائی دنیا سے ان کی قدیم دشمنی کا باب بھی بند کیا جاسکے گا۔

(4) یہودی قوم کی مظلومیت: یہودیو ں کے اپنے مزاج اور حرکتوں کے سبب کسی بھی حکومت کے لیے ان کو زیادہ دیر برداشت کرنا ممکن نہ تھا، ان کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ اپنے اس مزاج کے سبب کہیں بھی سکون کے ساتھ زیادہ دن تک نہیں رہ سکے، بعد کے زمانے میں روس اور دیگر ممالک نے ان کے اوپر کافی مظالم ڈھائے، اور پھر ہولوکاسٹ کے ڈرامہ کے ذریعہ نہ صرف ان کی مظلومیت کا خوب خوب چرچا کیا گیا، بلکہ عالمی سطح پر علیحدہ یہودی ریاست کے قیام کے لیے راہ بھی ہموار کی گئی۔

فلسطین ہی کا انتخاب کیوں؟

یہودیوں کے پاس اسرائیلی ریاست کے قیام کے لیے ایک سے زائد آپشن موجودتھے، تاہم انہوں نے فلسطین کو اس کے لیے منتخب کیا، اور برطانیہ نے بھی اس کی بھرپور تائید اور ہر ممکن مددکی۔ اس کی جہاں ایک مذہبی بنیاد ہے،یعنی مذہبی تعلیمات کے مطابق ہیکل سلیمانی کی تعمیر ہے، وہیں اس کے پیچھے مغربی دنیا کی کچھ خطرناک قسم کی سیاسی سازشیں بھی رہی ہیں۔ مغرب کو معلوم ہے کہ اگر اپنے عزائم کے مطابق یہودی عظیم اسرائیل کا خواب پورا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، تو وہ مسلم دنیا کی سیاست میں ایک خطرناک رول ادا کر سکتے ہیں، وہ جہاں افریقی اور ایشیائی مسلم ممالک کے درمیان ایک حدفاصل ہوں گے، وہیں اس پورے خطے کو اپنی سازشوں کا شکار بھی بنائے رہیں گے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعد سے پوری مسلم دنیا عجیب وغریب قسم کے خلفشار اور مصیبتوں سے دوچار ہے۔ یہ ایک تفصیلی موضوع ہے کہ یہودی ریاست کے قیام کے مشرق وسطی یا مسلم دنیا کے ممالک کی سیاست پر کیا خطرناک اثرات رونما ہوئے، تاہم یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ اسرائیلی ریاست اس وقت مسلم دنیا کی سیاست میں ایک خطرناک اور موثرکردار ادا کررہی ہے۔ خواہ وہ مصرکی منتخب جمہوریت کا تختہ پلٹنے کا مسئلہ ہو، عالم اسلام کی عظیم اسلامی تحریکات پر دہشت گردی کے الزام اور ان کے کارکنوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاری کا مسئلہ ہو، عالم اسلام میں جمہوری اور خودمختار حکومتوں کے قیام میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا مسئلہ ہو، یا عالم اسلام کی حکومتوں کو معاشی طور پر دوسروں پر منحصر بنائے رکھنا کامسئلہ ہو، ان تمام ہی امور میںاسرائیل ایک نمایاں کردار ادا کررہا ہے۔ ڈاکٹر محسن صالح کے بقول ’’صورتحال اب یہ ہوگئی ہے کہ اسرائیل کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ اطراف کے مسلم ممالک کو کمزور سے کمزور کردیا جائے، اور عالم اسلام کی مضبوطی، بیداری اور اتحاد کے لیے شرط ہے کہ اسرائیل کے ذریعہ عالم اسلام پر مسلط کردہ صہیونی منصوبے کو کمزور سے کمزور تر کردیا جائے‘‘۔ (ثوابت وحقائق فی قضیۃ فلسطین)

مسئلہ فلسطین کو بعض لوگ یہودیوں کا مذہبی مسئلہ قرار دیتے ہیں، یقینا اس میں مذہبی رنگ بھی موجود ہے، تاہم گزشتہ ایک صدی سے اس مسئلہ میں جو مدوجذر سامنے آئے ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک مذہبی مسئلے سے زیادہ سیاسی مسئلہ ہے، اور اس کی بنیاد اسلام دشمن سیاسی ایجنڈا ہے، جس میں مغربی دنیا یہودیوں کو محض ایک کارڈ کے طور پر استعمال کررہی ہے۔

صہیونی تحریک کا آغاز اور مغرب کا کردار

1880ء سے اسرائیل کے قیام کے لیے راہیں ہموار کرنے کا کام شروع کردیا گیا تھا، اس کے لیے عالمی سطح پر تحریک چلائی گئی کہ یہودی دنیا کے مختلف علاقوں سے ہجرت کرکے فلسطین جائیں اور وہاں آباد ہونا شروع کریں، اور فلسطین میں برطانوی استعمار کے ذریعے بڑے پیمانے پر زمینوں کی خریداری کا کام بھی شروع کردیا گیا۔اس کے بعد 1897ء میں مشہور یہودی لیڈر تھیوڈو ہرزل نے صہیونی تحریک کا باقاعدہ آغازکیا،تاکہ عظیم اسرائیل کا قیام عمل میں لایا جاسکے، اور ہیکل سلیمانی کی تعمیر کا کام بھی سرانجام دیا جائے۔ تاہم پہلی جنگ عظیم تک صہیونی تحریک اپنے مقاصد میں کوئی نمایاں کامیابی نہیں حاصل کرسکی۔1914ء میں جب پہلی جنگ عظیم ہوئی تو اس موقع پر ڈاکٹر وائزمین جو اس وقت یہودیوں کے قومی وطن کی تحریک کا علمبردار تھا، اس نے عالمی طاقتوں سے رابطہ کرنا شروع کردیا، ابتدا میں جرمنی سے سازباز ہوئی لیکن اس میں کوئی خاص کامیابی ملتی نظر نہ آئی، چنانچہ صہیونی تحریک کی جانب سے برطانیہ کے ساتھ معاہدہ کیا گیا کہ پوری دنیا کے یہودی اس جنگ میں ہر طرح سے برطانیہ کا تعاون کریں گے، اس شرط پر کہ وہ فتحیاب ہونے کے بعد فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن بنانے کی ضمانت دے دے۔

دوسری طرف برطانیہ اور یہودیوں کی خفیہ ایجنسیوں کو معلوم تھا کہ ترکی حکومت کے برقرار رہتے ہوئے اسرائیلی حکومت کا قیام آسان نہیں ہوگا۔ جنگ عظیم اول کے زمانے میں ترکی حکومت اپنے رہے سہے حالات میں بھی کافی مضبوط تھی، اور مسلم دنیا کی قوت اور شکوہ کی ایک علامت سمجھی جاتی تھی۔ اس رکاوٹ سے نبٹنے کے لیے ترک اور عرب قومیت کا فتنہ کھڑا کیا گیا، اس سے اول تو دونوں کو آمنے سامنےلے آیا گیا، دوسرے برطانیہ کے ذریعہ شریف مکہ کو اس بات کا تحریری وعدہ دے دیا گیا کہ ترکی حکومت سے الگ ہونے پر اُن کی ایک خودمختار عرب ریاست بنائی جائے گی، چنانچہ عربوں نے ترکوں سے بغاوت کرکے فلسطین، عراق اور شام پر برطانیہ کا قبضہ کرادیا۔

جنگ عظیم اول کے بعد برطانیہ نے یہودیوں سے کئے گئے معاہدے کے مطابق اپنا وعدہ پورا کردیا، اور 2؍نومبر1917ء کووہ خطرناک اعلان کیا گیا جو ’اعلان بالفور‘ کے نام سے مشہور ہے، جو فی الواقع اسرائیلی ریاست کی پہلی اینٹ تھی۔ اس طرح ایک سال سے بھی کم مدت میں یعنی ستمبر 1918ء تک برطانیہ نے خفیہ طور پرخاموشی کے ساتھ فلسطین پر یہودیوں کا قبضہ کرادیا۔ دوسری جانب شریف مکہ سے کئے گئے وعدے کے برخلاف مئی 1916ء کے سائیکس پیکو معاہدے کی رو سے شام اور عراق کو برطانیہ اور فرانس کے درمیان تقسیم کردیا گیا، جبکہ فلسطین کو عالمی علاقہ قرار دے دیا گیا، اور پھر اپریل 1920ء کے ’سان ریمو‘ معاہدے کے مطابق برطانیہ نے فلسطین کو بظاہر اپنے قبضے میں لے لیا۔ 1922ء میں مجلس اقوام (لیگ آف نیشن) نے مخصوص شرائط کے ساتھ فلسطین کا اقتدار برطانیہ کے سپرد کردیا، چنانچہ اب مجلس اقوام کی جانب سے باقاعدہ برطانیہ کو مکمل طور سے اسرائیلی ریاست کے قیام کے لیے راہیں ہموار کرنے کا موقع فراہم کردیا گیا۔ مولانا مودودی علیہ الرحمہ مجلس اقوام کے اس فیصلے پر لکھتے ہیں کہ ’’مجلس اقوام نے برطانیہ کو انتداب کا پروانہ دیتے ہوئے پوری بے شرمی کے ساتھ یہ ہدایت کی کہ اس کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن بنانے کے لیے ہر طرح کی آسانیاں فراہم کرے۔ صہیونی تنظیم کو سرکاری طور سے باقاعدہ تسلیم کرکے اسے نظم ونسق میں شریک کرے اور اس کے مشورے اور تعاون سے یہودی قومی وطن کی تجویز کو عملی جامہ پہنائے۔ اس کے ساتھ وہاں کے قدیم اور اصل باشندوں کے لیے صرف اتنی ہدایت پر اکتفاء کیا گیا کہ ان کے مذہبی اور مدنی (سول) حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ سیاسی حقوق کا اس میں سرے سے کوئی ذکر نہ تھا۔ یہ تھا مجلس اقوام کا انصاف جسے دنیا میں امن قائم کرنے کا نام لے کر وجود میں لایا گیا تھا۔ اس نے یہودیوں کو باہر سے لاکر بسانے والوں کو تو سیاسی اقتدار میں شریک کردیا اور ملک کے اصل باشندوں کو اس کا مستحق بھی نہ سمجھا کہ ان کے سیاسی حقوق کا برائے نام بھی تذکرہ کردیا جاتا‘‘۔(یہودیوں کا منصوبہ)

1918ء سے 1948ء کے درمیان برطانیہ نے یہودیوں کو فلسطین میں آبادکاری کا پورا موقع فراہم کیا، 1918ء میں یہاں یہودیوں کی آبادی 55؍ہزار تھی، اور 1948ء میں یہ بڑھ کر 646؍ہزار تک یعنی 8؍فیصد سے بڑھ کر تقریبا 32؍فیصد تک پہنچ گئی۔ اسی طرح بڑے پیمانے پر فلسطینی اراضی پر بھی یہودیوں کو قبضہ دلایا گیا۔ یہ 30؍سال فلسطین کی مسلم آبادی کے لیے کسی بھی طور سے ایک سخت ترین آزمائش سےکم نہ تھے، اس دوران ان کو ہر طرح سے دبا کر رکھنے اور کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے برعکس یہودیوں کو معاشی، سیاسی، عسکری ، تعلیمی اور سماجی ہر پہلو سے مضبوط کیا گیا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 1948ء میں جب عالمی طاقتوں کی نگرانی اور سرپرستی میں پوری تیاری کے ساتھ یہودیوں نے اسرائیلی ریاست کے قیام کا اعلان کیا، اس وقت ان کے پاس اپنی سترہزار سے زائد تربیت یافتہ افواج موجود تھیں۔

فلسطینی مزاحمت کی ابتداء

اس خطرناک اور گہری سازش کے باوجود، جبکہ طاقت اور قوت کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے فلسطین پر قبضہ کیا گیا، اور عالمی طاقتوں کی جانب سے اس کی کھل کر تائید کی گئی، فلسطین کی خوددار عوام نے نہ تو کبھی برطانوی استعمار کو قبول کیا، اور نہ ہی صہیونی منصوبوں کے سامنے گھٹنے ٹیکے، فلسطین کی خوددار عوام نے ہمیشہ ہی آزادی کا علم بلند کئے رکھا۔ 1920ء کے بعد ہی سے فلسطینی عوام نے موسی کاظم، امین الحسینی اور ان کے ساتھیوں کی قیادت میں آزادی کے لیے جدوجہد کا آغاز کردیا تھا، چنانچہ 1920، 1921ء، 1929ء، 1933ء میں زبردست تحریکیں چلائی گئیں، 1936ء تا 1939ء میں اس تحریک آزادی کی قیادت عزالدین القسام اور عبدالقادر الحسینی نے کی، اور اس قدر عوامی دباؤ بنایا کہ مئی 1939ء میں برطانیہ کو دس سال کے اندر فلسطینی حکومت کے قیام کے سلسلے میں معاہدہ کرنا پڑگیا، اس معاہدے میں یہ بات بھی شامل تھی کہ برطانوی حکومت مخصوص علاقوں کو چھوڑ کر فلسطین کی اراضی یہودیوں کے ہاتھ فروخت نہیں کرسکتی، اور پانچ سال کے اندر اندر یہودیوں کے فلسطین آنے پر مکمل پابندی لگائی جائے گی۔ تاہم نومبر 1945ء میں برطانیہ نے معاہدہ شکنی کرتے ہوئے اس مسئلے سے علیحدگی اختیار کرلی، اور امریکہ نے اسرائیل کی سرپرستی کا ذمہ لے لیا۔

اقوام متحدہ کا خطرناک موقف

برطانیہ کی اس معاہدہ شکنی سے خطرناک واقعہ نومبر1947ء میں پیش آیا، جبکہ اقوام متحدہ کی جنرل کونسل نے اپنے 181؍ نمبر کے فیصلے کے تحت فلسطین کو عرب اور یہودی دو حصوں میں تقسیم کردیا۔ اس قدر کھلی دھاندلی کی گئی کہ ملک کا 54؍فیصد علاقہ یہودی مملکت کے لیے متعین کیا گیا، اور محض 45؍فیصد علاقہ عرب مملکت کے لیے،جبکہ قدس والے ایک فیصد علاقے کو انٹرنیشنل ایریا شمار کیا گیا۔ ڈاکٹر محسن صالح کے مطابق ’’خود اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق یہ لازمی فیصلہ نہیں تھا، اور دوسری بات یہ کہ اقوام متحدہ کی بنیاد سے یہ فیصلہ ٹکرارہا تھا، اقوام متحدہ کی بنیاد ہی یہی ہے کہ آزادی ہر ملک اور ہر قوم کا بنیادی حق ہے،اور اس آزادی کا فیصلہ ملک اور اس کی عوام خود کریں گے۔ اس کے علاوہ ایک بڑی غلطی اس میں یہ ہوئی کہ اس فیصلے سے پہلے فلسطینی عوام جو اس مسئلے کا کلیدی حصہ تھے، ان سے نہ تو مشورہ لیا گیا، اور نہ ہی ملک میں کوئی عوامی ریفرنڈم کرایا گیا۔اس طرح یہودی صہیونی اقلیت جو بعد میں یہاں آکر آباد ہوئی ان کو زمین کا اہم اور بڑا حصہ دے کر اقوام متحدہ کی جانب سے ظلم اور چیرہ دستی کا بدترین مظاہرہ کیا گیا‘‘۔
(جاری)