مسئلہ فلسطین کی تاریخ: جدید تناظر میں ـ ابوالاعلی سید سبحانی

(‌‍ چھٹی  قسط)

(قضیہ فلسطین کا پس منظر، صہیونی عزائم، عرب اور مغربی حکومتوں کا کردار، تحریک آزادی فلسطین، اور فلسطین میں اسلامی تحریک کی جدوجہد)

ایک نئی تحریک کی ضرورت اور حماس کا قیام

’فتح‘ کا قیام اخوان اور آزادی پسند فلسطینی عوام کے دلوں کی آواز تھا، لیکن فتح بہت دیر تک اپنےوجود کو کماحقہ برقرار نہ رکھ سکی۔ چنانچہ فلسطینی عوام کا عام رجحان بننے لگا کہ وہ محض سیاسی مفادات کی خاطر جدوجہد کررہی ہے۔

اس سے مایوس ہوکر چند سالوں کے اندر ہی فلسطین میں متعدد چھوٹی بڑی تحریکوں کا آغاز ہونے لگا تھا، جن کا مقصد فلسطین کی جدوجہد آزادی کو زندہ رکھنا تھا۔ تاہم ایک ایسی تحریک کی ضرورت پھر بھی باقی تھی، جو فلسطینی عوام کی نمائندہ آواز بن سکے، چنانچہ اخوان کی کوششوں سے اور شیخ احمد یاسین شہید کی پیش رفت سے 14؍دسمبر 1987ء کو حرکۃ المقاومۃ الاسلامیۃ (حماس) کا قیام عمل میں آگیا۔

شیخ یاسین شہید ایک عرصے سے فلسطین میں سرگرم تھے، حماس سے پہلے 1983ء میں انہوں نے ’المجمع الاسلامی‘ کی بنیاد بھی رکھی تھی، جس نے اہل فلسطین کے درمیان کافی کام کیا تھا۔

حماس 1987ء میں میدان میں آئی، اور 1987ء سے 1993ء کی پہلی انتفاضہ تحریک میں اس نے نمایاں رول ادا کیا۔ یہ وہ دور تھا جب ’فتح‘ منظمۃ التحریر الفلسطینیہ کی سربراہی میں اسرائیل کو نہ صرف قبول کرچکی تھی، بلکہ اس نے اسرائیل کے ساتھ کچھ ایسے معاہدے بھی کرڈالے تھے، جس نے فلسطینی کاز کو خطرناک چوٹ پہنچائی تھی۔ اس کے بعد دوسری انتفاضہ تحریک میں بھی حماس نے غیرمعمولی طور سےاپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔

حماس اخوان المسلمون کا فلسطینی باب کہی جاتی ہے، اس کے تاسیسی ارکان میں بہت حد تک اخوان سے وابستہ افراد تھے۔ تاہم رسمی طور پر اس کا اخوان سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے امور اور فیصلوں میں مکمل طور سے آزاد ہے ۔حماس مزاحمت پر یقین رکھتی ہے، اسرائیل کے وجود کو اس نے کسی بھی صورت قبول کرنے سے نہ صرف انکار کردیا، بلکہ پورے فلسطین کی آزادی کو اس نے اپنے ایجنڈے میں بنیادی حیثیت دی ہے۔

گزشتہ فلسطینی انتخابات میں حماس فلسطین کی سب سے بڑی اور سب سے مضبوط سیاسی پارٹی بن کر سامنے آئی۔ حماس اپنے موقف میں بہت ہی مضبوط اور اصولی مانی جاتی ہے۔ اس نے ہمیشہ فلسطین کے عوام کے جذبات اور ان کے دکھ دردکا خیال رکھا ہے۔ وہ کسی بھی صورت اسرائیل کے وجود کوقبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔ وہ فلسطین کے مسئلہ کو سرحدوں کا مسئلہ نہیں مانتے کہ ان پر مصالحت کرلی جائے، بلکہ اس کو وہ فلسطینی عوام کے وجود کا مسئلہ مانتے ہیں۔

کتائب القسام حماس کی عسکری تنظیم ہے، اس کے رہنما حماس کے تاسیسی ممبر ’محمد الضیف‘ہیں۔ کتائب القسام نے اس وقت اپنے آپ کو عسکری لحاظ سے اس قدر مضبوط کر رکھا ہے کہ اسرائیل بری طرح پریشان ہے، اور وہ اس سے فوری نجات حاصل کرلینا چاہتا ہے۔ قسام کی جانب سے نہ صرف یہ کہ بہت ہی ترقی یافتہ راکٹ اور توپ تیار کرلیے گئے ہیں، بلکہ میزائیل اور آئرن ڈوم بھی تیار کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ اس کی سب سے بڑی کامیابی سرنگوں کا وہ جال ہے جو اسرائیل کے لیے صحیح معنوں میں وبال جان بنا ہوا ہے، اور اسرائیل اپنی تمام تر قوت کے باوجود اس کا سامنا نہیں کرپارہا ہے۔

پہلی اور دوسری انتفاضہ تحریک کے بعد 2008ء، 2012ء، 2014ء اور پھر 2021ء کے حالیہ معرکے میں کتائب القسام کے کارناموں کا پوری دنیا میں اعتراف کیا گیا۔ اسی کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ اسرائیل نہ صرف یہ کہ حماس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوگیا، بلکہ حماس کے ساتھ مذاکرات کی ٹیبل تک آنا اس کی مجبوری بن گیا۔

تعجب ہوتا ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اس آزادی پسند عوامی تحریک کو دہشت گرد قرار دینے میں کوئی تکلف نہیں کرتیں، چنانچہ حماس اور کتائب القسام کو بھی مختلف طاقتوں کی جانب سے دہشت گرد قرار دیا گیا۔ امریکہ، چین، جاپان، یورپی اتحاد، کناڈا وغیرہ اس کو دہشت گرد جماعت قرار دیتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ انتخابات اور گزشتہ جنگی معرکوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ حماس عوام کے دل کی آواز ہے اور حماس نے تحریک آزادی فلسطین کا جو بیڑہ اٹھایا ہے، فلسطینی عوام مکمل طور سے اس کی تائید کرتے ہیں۔

(جاری)