مسئلۂ فلسطین کی تاریخ: جدید تناظر میں ـ ابوالاعلی سید سبحانی

(پانچویں قسط)

(قضیۂ فلسطین کا پس منظر، صہیونی عزائم، عرب اور مغربی حکومتوں کا کردار، تحریکِ آزادیِ فلسطین اور فلسطین میں اسلامی تحریک کی جدوجہد)

جمعیۃ الاخوان اور پھر جمعیۃ التوحید کا قیام

اخوان پر پابندی کے بعد غزہ کے عوام نے جمعیۃ الاخوان المسلمین کے نام سے کام شروع کردیا۔ جمعیۃ نے فلسطین میں آزادی اور انصاف کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس نے بہت ہی منظم انداز میں فدائی حملے کرنے اور اسرائیل کو ممکنہ حد تک نقصان پہنچانے کی پالیسی اختیار کی۔ لیکن 1950ء میں اس پر بھی مصری حکومت کی جانب سے پابندی عائد کردی گئی (اس وقت غزہ کا علاقہ مصر کے زیرانتظام تھا)۔

اخوان اور پھر جمعیۃ الاخوان پر پابندی کے بعد فلسطین کے اخوانیوں نے جمعیۃ التوحید کے نام سے ایک اور محاذ تشکیل دیا، اس کی قیادت عمر صوان اور ظافر الشوا نے کی۔ اس جمعیت نے اخوان کے بکھرے ہوئے افراد کے دوبارہ منظم ہونے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم کا کام کیا۔ تاہم جمعیۃ التوحید سیاسی امور سےعلیحدہ رہتے ہوئے دعوت وارشاد ، خدمت خلق اور کلچرل سرگرمیوں میں مصروف رہی، بعد میں اخوان سے پابندی ختم ہونے کے بعد بھی یہ اپنے کام میں لگی رہی۔

اخوان نے سیاسی حالات اور حکومت کے رویے کے پیش نظر اس کی سرگرمیوں کو برقرار رکھا، چنانچہ مختلف چیلنجز کے باوجود یہ اپنی جگہ قائم اور متحرک رہی، اور عوام کے درمیان بیداری لانے کا کام کرتی رہی۔ لیکن مصری حکومت کو اس کے بارے میں دھیرے دھیرے اندازہ ہوگیا، ابتدا میں اس کی قیادت کو تعذیب اور ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا، اور پھر1958ء میں اس پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔

1952ء کے مصری انقلاب کے بعد ایک مرتبہ پھر اخوان کو ابھرنے کا موقع ملا۔ چنانچہ اس دوران انہوں نے کئی ایک اہم کام کیے، اس میں ایک بڑا کام 1954ء میں غزہ سے اخوان کے ایک ہفت روزہ اخبار کا اجراء تھا، جو 1961ء تک پابندی کے ساتھ شائع ہوتا رہا۔

’فتح‘ اور تحریک اخوان

’فتح‘ تحریک کا آغاز پچاس کی دہائی میں اخوان کے حلقے سے ہی ہوا تھا، اور اس کی بنیادی فکر وہی تھی جو اخوان کی تھی کہ مسئلہ فلسطین کے لیے تحریک مزاحمت کے علاوہ کوئی حل نہیں ہے۔

فتح تحریک کا آغاز ’رابطہ طلاب المسلمین‘ سے ہوتا ہے، یہ ایک طلبہ تنظیم تھی، جسے 1950ء کے آغاز میں اخوانیوں کے ذریعہ قاہرہ میں قائم کیا گیا تھا، اخوان کی خواہش تھی کہ اس کا نفوذ مصر اور غزہ دونوں ہی علاقوں میں طلبہ اور نوجوانوں کے درمیان مضبوط سے مضبوط تر کیا جائے۔

فتح کا آغاز کرنے والے وہی افراد تھے، جو اس طلبہ تنظیم سے شروع سے وابستہ رہے اور اس میں کافی نمایاں مقام کے حامل رہے، خاص طور سے یاسر عرفات وغیرہ اس کی مرکزی قیادت میں موجود تھے۔ اس تنظیم کو عالمی سطح پر مصر وغزہ کے طلبہ ونوجوانوں کی نمائندگی کا خوب موقع ملا، عرب ممالک کی جانب سے بھی اس کو سپورٹ حاصل ہوا، اور فلسطینی قیادت بالخصوص امین الحسینی جو فلسطین میں اخوانی رہنما مانے جاتے تھے، ان کی جانب سے بھی ان کو خوب تعاون اور حوصلہ افزائی حاصل رہی۔

اس تنظیم کے افراد نے 1955ء میں فلسطین میں ایک چھوٹی سی اجتماعیت تشکیل دی، جس میں تنظیم کے نوجوان اور ذہین افراد کو شامل کیا گیا تھا، تاکہ وہ فلسطین کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہوں۔ اس اجتماعیت میں یاسرعرفات کے علاوہ عبدالفتاح حمود، کمال عدوان، صلاح خلف اور خمیس شاہین کانام قابل ذکر ہے۔

یہ وہ دور تھا جب اخوان کے اوپر مظالم کا سخت ترین دور گزر رہا تھا، اور اخوانی قیادت یا تو جیلوں میں بند تھی، یا پھر ہجرت کرنے پر مجبور تھی، الغرض 1967ء تک اخوان فلسطین کے سلسلے میں کھل کر کوئی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔

اس دوران اخوان سے وابستہ فلسطینی نوجوانوں نے اخوان کی مرکزی قیادت سے فلسطین میں کام کے آئندہ مرحلے سے متعلق رہنمائی حاصل کرنے کی کافی کوشش کی، تاہم کوئی جواب نہیں مل سکا۔

اس دوران الجزائر میں انقلاب آچکا تھا، اس انقلاب نے امت کے نوجوانوں کو امید اور حوصلہ دیا تھا، چنانچہ یاسرعرفات اور ان کے ساتھیوں نے الجزائر کے انقلاب کو سامنے رکھتے ہوئے فلسطینی کاز کے لیے ایک مستقل تنظیم کے قیام کا نظریہ پیش کیا، تاکہ فلسطین میں موجود مختلف افراد اور تنظیمیں مشترکہ طور پر آزادی کی جدوجہد کو جاری رکھ سکیں۔ چنانچہ ان ہی افراد کی کوششوں سے 1957ء میں خفیہ طور سے ’فتح‘ کا قیام عمل میں آگیا۔ غزہ کی اخوانی قیادت نے اول روز سے ہی ’فتح‘ کی سرپرستی قبول فرمائی، اور اس کی مرکزی شوری میں ان کی جانب سے تین افراد کی تقرری کا معاملہ بھی خاص کیا گیا، اور یہ سلسلہ تقریبا 1963ء تک چلتا رہا۔ اس دوران ’فتح‘ اخوان کی رائے اور ہدایات کی مکمل طور سے پابند رہی، لیکن 1963ء میں فتح کی جانب سے کچھ ایسی حرکتیں سامنے آئیں، جن کے پیش نظر اخوان نے اپنے افراد کے لیے اس سے علیحدگی کا حکم نامہ جاری کردیا، اور اس سے مکمل طور پر تعلقات ختم کرلیے۔

اس کے بعد دھیرے دھیرے فتح کا رخ تبدیل ہوتا چلا گیا، قومی، اشتراکی اور مصالحت پسند غرض ہر قسم کے افراداس میں شامل ہونے لگے، اور ان کے اثرات میں روزافزوں اضافہ ہونے لگا۔ اسی دوران 1967ء کا خطرناک حادثہ پیش آیا، جس نے بری طرح سے اہل فلسطین کی کمر توڑ کر رکھ دی، اس حادثے کے بعد اخوان نے دوبارہ فلسطین کی عوام میں اعتماد اور حوصلہ پیدا کرنے کے لیے جنگی پیمانے پر کوششیں شروع کردیں، اور گھر گھر جاکر لوگوں سے ملنا، مساجد اور اسکولوں تک پہنچنا، اور مختلف تربیتی کیمپ لگانا شروع کردیا۔

ان ہی حالات میں 1968ء میں امین الحسینی کی کوششوں سے دوبارہ فتح اور اخوان کے تعلقات بحال ہوگئے، اور ایک بار پھر فلسطینی کاز کے لیے اخوان نے اپنی پوری طاقت لگادی، اور آس پاس کے ممالک سے اپنے مجاہدین کو فلسطین کی جدوجہد آزادی میں لگادیا۔ لیکن یہ تعلقات بھی زیادہ دنوں تک نہیں رہ سکے اور جیسے جیسے حالات تبدیل ہوتے گئے، فتح کی حکمت عملی میں بھی نمایاں تبدیلیاں آتی گئیں، مختلف رجحانات کے حامل افراد نے اس میں جگہ بنالی، اور بالآخر جس بنیاد پر اخوان نے اس کی تائید کی تھی، وہ بنیاد منہدم ہوکر رہ گئی، اور فتح نے نہ صرف اسرائیل کو تسلیم کرلیا، بلکہ مزاحمت کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرلیا۔

1993ء اوسلو معاہدہ، اور 2006ء کے انتخابات میں حماس کی کامیابی، اور پھر اسرائیل سے ’فتح‘ کے بڑھتے تعلقات نے اس کی عوامی اور سیاسی ساکھ کو کافی نقصان پہنچایا۔ صورتحال یہ ہے کہ آج ’فتح‘ مجبور محض بن کر رہ گئی ہے، اس کے اندر نہ امید کی کوئی کرن ہے اور نہ آزادیٔ فلسطین کے لیے کچھ حوصلہ۔

(جاری)