مسئلہ فلسطین کی تاریخ: جدید تناظر میں ـ ابوالاعلی سید سبحانی

(چوتھی قسط)

(قضیہ فلسطین کا پس منظر، صہیونی عزائم، عرب اور مغربی حکومتوں کا کردار، تحریک آزادی فلسطین، اور فلسطین میں اسلامی تحریک کی جدوجہد)

فلسطین میں اسلامی تحریک

فلسطین میں برطانوی استعمار کے آغاز سے ہی جدوجہد آزادی کا بھی آغاز ہوگیا تھا، ابتدا میں اس جدوجہد آزادی کی قیادت موسی کاظم اور امین الحسینی نے کی۔ تاہم فلسطین میں منظم طور سے اس تحریک جدوجہد آزادی کا آغاز عظیم اسلامی تحریک اخوان المسلمون کی کوششوں سے ہوا۔

اخوان نے اپنے پروگرامس میں مغربی استعمار کے مقابلے اور عظمت مسلم کی بازیافت کو اہم مقام دیا تھا۔ چنانچہ ان کے یہاں مسئلہ فلسطین ہمیشہ ترجیحات میں داخل رہا۔ اخوان اس مسئلے سے کئی طرح سے گہری وابستگی رکھتے ہیں:

اول: وہ اسے ہر مسلم کا مسئلہ قرار دیتے ہیں اس پہلو سے وہ خود کو بھی اور پوری امت کو بھی بیدار کرنے کا پروگرام رکھتے ہیں۔

دوسرا: اخوان کا مرکز مملکت مصر رہی ہے، اور مصر کا کردار مسئلہ فلسطین کے حق میں ہمیشہ سے کلیدی رہا ہے، چنانچہ ملک کی حکومت کو صحیح رخ پر رکھنا، اور مصری عوام کو اس سلسلے میں نہ صرف دینی وشرعی نقطہ نظر سے بیدار کرنا، بلکہ سیاسی طور سے بھی ان کے اندر اس مسئلے کے سلسلے میں حساسیت پیدا کرنا، اخوان کے پروگرام کا کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔

تیسرا: اخوان نے ہمیشہ سے مسئلہ فلسطین کے حل میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے، 1948ء کا جہاد فلسطین ہو، یا اس کے بعد کے مراحل، ہمیشہ سے اخوان نے مسئلہ فلسطین کو اپنا مسئلہ سمجھا اور اس میں فلسطین، اردن، مصراورشام کے ساتھ ساتھ پورے عالم میں پھیلے ہوئے اخوانیوں نے بھی مختلف سطحوں پر اہم کردار ادا کیا ۔

فلسطین میں تحریک اسلامی کا نقطہ آغاز

فلسطین میں باقاعدہ اسلامی تحریک کا آغاز 1935ء سے ہوا، جبکہ اخوان المسلمون کی جانب سے امام حسن البنا شہید کے بھائی عبدالرحمن الساعاتی اور محمد اسعد الحکیم کو فلسطین، سیریا اور لبنان کے دورے پر بھیجا گیا۔ یہ وفد 3؍اگست 1935ء کو فلسطین پہنچا اور وہاں فلسطینی قائدین، بالخصوص امین الحسینی سے مسئلہ فلسطین پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس ملاقات میں اول تو امین الحسینی کو فلسطینی اخوان کا غیررسمی طور پر رہنما مقرر کردیا گیا، دوسرا یہ کہ اس وفد کی مصرواپسی کے بعد سے اخوان کا ہیڈکوارٹر فلسطینی تحریک مزاحمت کا مرکز بن گیا۔ اس کے آئندہ سال1936 ء میں اخوان نے کئی ایک اہم کام کئے:

(1) اہل فلسطین کی مدد کے لیے امام حسن البنا شہید کی قیادت میں مرکزی سیل قائم کیا گیا۔

(2) نوجوانوں میں بیداری لانے کے لیے طلبہ کی ایک کونسل تشکیل دی گئی، جو مسئلہ فلسطین کے سلسلے میں طلبہ اور نوجوانوں کے درمیان حساسیت کو عام کرنے کا کام کرتی تھی۔

(3) 1945ء میں اخوان نے مصر کے ریٹائرڈ فوجی افسر محمود لبیب اور کچھ افراد کو فلسطینی نوجوانوں کی ٹریننگ کے لیے فلسطین روانہ کیا۔ اس دوران فلسطین کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کے بڑے حصے میں اخوان کی نہ صرف دعوت پہنچ گئی تھی، بلکہ ہر جگہ اخوان کا ایک بڑا کیڈر منظم بھی ہوگیا تھا۔

اخوان کا ماننا تھا کہ مسئلہ فلسطین کا حل مسلم امت کے جیالے ہی نکال سکتے ہیں، اس جدوجہد آزادی کے لیے انہیں آگے آنا ہوگا۔1945 ء تک اخوان کی شاخیں دنیا بھر میں قائم ہوگئیں، فلسطین کے اہم شہروں میں سے حیفا، یافا، غزہ، قدس، اور خلیل وغیرہ کے علاقوں میں اخوان کا مضبوط اسٹرکچر قائم ہوگیا۔ اس دوران اخوان کے دستوں نے مصری اور فلسطینی افواج کے ساتھ مل کر صہیونی ایجنڈے کو ناکام بنانے کے لیے اپنی استطاعت بھر کوششیں بھی شروع کردیں۔

فلسطین کے جنوبی علاقے میں کامل شریف کی قیادت میں ایک اہم فوجی دستہ تشکیل دیا گیا، اس میں اخوان کے افراد تقریباَ چوتھائی کے قریب تھے۔ اسی طرح یافا میں اخوان نے مجاہدین کی تربیت کے لیے ایک خفیہ مرکز قائم کیا، اور اس کے تحت مجاہدین کی تیاری کا کام تیزی کے ساتھ شروع کردیا۔

1948ء کا فلسطینی جہاد اور اخوان کا کردار

1948ء کے فلسطینی جہاد میں اخوان کی شرکت اور ان کے کارہائے نمایاں فلسطین میں اسلامی تحریکات کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوئے۔ اس نے فلسطینی مجاہدین کو نہ صرف حوصلہ دیا، بلکہ انہیں اس بات کا یقین دلادیا کہ آہنی عزائم کے ساتھ اگر اس محاذ پر کوشش کی جائے تو دشمن کو پسپا کرنا، اور ملک چھوڑنے پر مجبور کرنا بہت مشکل نہیں۔ عرب ممالک اور حکومتوں کی مستقل پسپائی اور ان کے پست حوصلوں کو دیکھتے ہوئے 9؍اکتوبر 1947ء کو امام حسن البنا شہیدؒ نے عرب قیادت کو یہ پیغام بھیجا کہ وہ پہلے دستے کے طور پر دس ہزار اخوانی مجاہدین کو فلسطین جہاد کے لیے روانہ کرنا چاہتے ہیں، اس وقت مصر میں نقراشی کی حکومت تھی، اس نے اجازت دینے سے صاف انکار کردیا، چنانچہ 15؍دسمبر 1947ء کو اخوان کی جانب سے حکومت مصرکے خلاف زبردست احتجاج اور مظاہرے ہوئے، اس موقع پر امام حسن البنا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اخوان کے مجاہدین رضاکارانہ طور پر اس جہاد میں شرکت کے لیے جانا چاہتے ہیں، اور فلسطینی جنگ شروع ہونے سے ایک ماہ قبل یعنی اکتوبر 1947ء سے ہی بہت سے اخوانی فلسطین جہاد میں عملی شرکت کے لیے روانہ ہو بھی چکے ہیں۔

اخوان کی جانب سے روانہ ہونے والے پہلے باقاعدہ فوجی دستے کی قیادت معروف اخوانی رہنما محمد فرغلی نے کی، اس دستے میں مصر کے علاوہ لیبیا، تیونس، سوڈان، مراکش اور یمن وغیرہ کے اخوانی بھی شریک رہے، البتہ مصری حکومت کی جانب سے کھڑی کی جانے والی رکاوٹوں کے سبب بڑی تعداد جانے سے محروم رہ گئی۔

مصری حکومت کی جانب سے عائد پابندیوں کے سبب بعد میں اخوان نے مجبوراَ سینائی علاقے کو استعمال کیا، اور وہاں سے خاموشی کے ساتھ فلسطین کے غزہ پٹی علاقے میں پہنچنا شروع کیا، وہاں دوسرے عرب ممالک سے بھی کافی بڑی تعداد میں لوگ آ آ کر اخوان کے قافلے میں شامل ہوتے گئے، اس کے علاوہ سیریا، اردن وغیرہ سے بھی اخوان نے کافی بڑی تعداد میں تربیت یافتہ افراد کو جمع کرلیا، چنانچہ اس قافلہ جہاد نے فلسطین جنگ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اور ایک وقت یہ بھی آیا کہ صہیونی فوج پسپائی اختیار کرنے لگی، کئی ایک علاقے صہیونیوں سے خالی کرالیے گئے، چنانچہ اس موقع پر اسرائیل کے حق میں جہاں مغربی طاقتیں فوراَ ہی حرکت میں آگئیں، وہیں مصری حکومت نے بھی بدترین کردار ادا کیا، پہلے تو مصری حکومت نے اخوانیوں سے مصر واپسی کا مطالبہ کیا، ان کی جانب سے عین معرکہ سے اس طرح پیچھے ہٹ جانے سے انکار کئے جانے پر ان کا دانہ پانی سب بند کردیاگیا۔ بالآخر اخوان کو پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا۔

اس محاذ سے واپسی کے بعد اخوان کو سخت ترین آزمائشی دور سے گزرنا پڑا، امام حسن البنا کو کھلے عام شہید کردیا گیا، اخوان پر پابندی عائد کردی گئی، اور پھربڑے پیمانے پر اخوانیوں کی گرفتاری اور ان پر تعذیب کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس دوران بھی اخوان اہل فلسطین بالخصوص اہل غزہ سے رابطے میں رہے، رابطے کی شکل رب کائنات کی جانب سے اس طرح نکل گئی کہ جنگ بندی کے بعد حکومت مصر نے جو وفود غزہ بھیجنا شروع کئے تاکہ وہ وہاں جاکر وعظ وارشاد کا کام کریں اور لوگوں کے جذبات کو ٹھنڈا کریں، ان میں اتفاق سے کافی افراد اخوانی فکر کے بھی تھے، چنانچہ حکومت کے عزائم کے برخلاف ایک طرف انہوں نے غزہ کی عوام میں آزادی اور جہاد کی روح پھونکنے کا کام کیا، وہیں دوسری طرف اخوان کی مرکزی قیادت اور فلسطینی قیادت کے درمیان رابطے کا ذریعہ بھی رہے۔
(جاری)