مسئلہ فلسطین کی تاریخ: جدید تناظر میں ـ ابوالاعلی سید سبحانی

(دوسری قسط)

(قضیۂ فلسطین کا پس منظر، صہیونی عزائم، عرب اور مغربی حکومتوں کا کردار، تحریک آزادی فلسطین، اور فلسطین میں اسلامی تحریک کی جدوجہد)

ناجائز اسرائیلی ریاست کا قیام اور عرب ممالک کا رول

آخرکار 14؍مئی 1948ء کو وہ دردناک واقعہ پیش آہی گیا، جس کے لیے ایک عرصے سے مختلف عالمی طاقتوں کے تعاون سے سازشیں رچی جارہی تھیں، تاہم اس وقت عرب حکومتوں کی جانب سے جو کردار سامنے آیا، وہ یک گونہ تشویشناک تھا۔ 14؍مئی 1948ء کو عرب افواج کو یہودی افواج کے سامنے اپنی ناتجربہ کاری، قلت معلومات اور منظم نہ ہونے کے سبب خطرناک شکست کا سامنا کرنا پڑا، اور یہودی افواج نے اسرائیل کے قیام کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے 77؍فیصد فلسطینی اراضی پر قبضہ کرلیا، اور آٹھ لاکھ فلسطینیوں کو بے گھر ہونے پر مجبور کردیا، جبکہ اس وقت فلسطین کی مکمل آبادی تقریبا 14؍لاکھ تھی۔ اسی طرح 585؍ فلسطینی آبادیوں میں سے 478؍آبادیوں کو مکمل طور پر تباہ کردیا۔ اس موقع پر 34؍بڑے قتل عام بھی کئے گئے۔ اس موقع پر فلسطین کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے باقی ماندہ فلسطین کے مغربی حصے کو اردن کے زیرِانتظام دےدیا گیا، اور غزہ پٹی کے علاقے کو مصر کے زیرِانتظام، اور جفا پر جفا یہ ہوئی کہ 1949ء ہی میںاسرائیل کو اقوام متحدہ کی ممبرشپ دے دی گئی۔

اسرائیلی استعمار کے قابض ہوجانے کے بعد 1948ء سے 1967ء تک لاچار اور مظلوم فلسطینی عوام کی جانب سے مستقل آزادی اور انصاف کے لیے جدوجہد جاری رہی، اس دوران جمال عبدالناصر نے عرب ممالک کی رسمی طور پر نمائندگی کی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عرب ملکوں کی جانب سے اس سلسلے میں بہت ہی غیرذمہ دارانہ اور عدم سنجیدگی کا رویہ اختیار کیا گیا۔ فلسطینی عوام کا مسلسل جذباتی استحصال کیا جاتا رہا، اور آئندہ معرکہ کے لیے کوئی بھی منصوبہ بندی یا تیاری نہیں کی گئی، جبکہ اس دوران اسرائیل زبردست تیاریوں میں لگا رہا۔

1948ء سے 1964ء کے نازک حالات کے پیش نظر فلسطین میں باقاعدہ کوئی علانیہ تحریک آزادی شروع نہیں کی جاسکی، اس دوران اخوان المسلمون کی کوششوں سے بعض خفیہ و نیم خفیہ تحریکیں آزادی وانصاف کے لیے عوامی بیداری کا کام کرتی رہیں، اسی سلسلے کی ایک کڑی 1957ء میں ’الفتح ‘ کا قیام ہے، جو اس وقت مسلح جدوجہد پر یقین رکھتی تھی، اور1948ء کے علاقوں تک واپسی اس کےپروگرام کا بنیادی حصہ تھا۔ ان تمام تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے جمال عبدالناصر نے 1964ء میں احمد قشیری کی قیادت میں منظمۃ التحریر الفلسطینیہ کے قیام کے لیے پیش رفت کی۔ عام فلسطینیوں کی جانب سے اس پیش رفت کو بہت ہی سراہا گیا، اور چند سال کے اندر 1968ء تک فلسطین کے مختلف گروپس اس سے وابستہ ہوگئے، الفتح نے بھی اس میں شمولیت اختیار کرلی، اور فروری 1969ء میں ’یاسر عرفات‘ اس کے صدر منتخب ہوئے۔ یہ فلسطینیوں کی متحدہ آوازبن کر سامنے آئی، اور 1974ء میں عرب ممالک نے اس کو فلسطین کی واحد قیادت کے طور پر قبول کرلیا، چنانچہ اسی سال اس کو اقوام متحدہ میں آبزرور ممبر کے طور پر شریک ہونے کا موقع بھی مل گیا۔

اسی دوران 1967ء کی بھیانک جنگ کا سامنا ہوا، عرب ممالک کی جانب سے عدم سنجیدگی کا نتیجہ یہ ہوا کہ چند دنوں کے اندر اسرائیل نے عرب افواج کو بری طرح شکست سے دوچار کردیا، اور پورے فلسطین پر قابض ہوگیا، مغربی کنارے اور غزہ پٹی کے علاقے پر بھی اس نے اسرائیلی پرچم لہرا دیا، اسی طرح گولان کی پہاڑیاں (سیریا) اور مصر کا سینائی علاقہ بھی اس نے اپنے تسلط میں لے لیا۔

اسرائیل کی بڑھتی جارحیت

1948ء سے اب تک اسرائیل فلسطین کو یہودی رنگ میں رنگنے کے لیے مسلسل کوشش کررہا ہے، ایک طرف فلسطینی آثار کو مٹانے، نئی آبادیاں بسانے، نئی تعمیرات کرانے، اور دنیابھر سے یہودیوں کو یہاں لا کر بسانے کا عمل جاری ہے، دوسری طرف اہل فلسطین پر عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے، مغربی کنارے کے عوام کو مجبور محض بناکر چھوڑ دیا گیا ہے، جبکہ غزہ پٹی کے علاقے کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کردیا گیا ہے، جہاں بنیادی انسانی ضروریات کی حصولیابی تک بہت مشکل ہے۔

اسرائیل کی اس دوران ایک اور خطرناک حرکت قدس کے علاقے میں یہ سامنے آئی کہ اس نے قدس کے 86؍فیصد علاقے پر یہودی بستیاں تعمیر کرلیں، مسجد اقصی پر مکمل طور سے قبضہ کرلیا، 1969ء میں مسجد اقصی میں آگ لگانے کا پہلا واقعہ پیش آیا، اس کے بعد سے مسلم جذبات کو بھڑکانے کے لیے مستقل کچھ نہ کچھ واقعات پیش آرہے ہیں۔ اسی طرح قدس کو اسرائیل کا مستقل دارالسلطنت قرار دینے کی بات بھی کہی جارہی ہے۔

پناہ گزینوں کا مسئلہ اور اقوام متحدہ کی قراردادیں

اس وقت ایک بہت بڑا مسئلہ فلسطینی پناہ گزینوں کا ہے، 2012ء تک کے اعدادوشمار کے مطابق اس وقت 58؍لاکھ فلسطینی دیگر ممالک میں پناہ گزیں ہیں، جبکہ 19؍لاکھ بیس ہزار غزہ اور مغربی علاقے میں پناہ گزیں ہیں۔ اسی طرح ڈیڑھ لاکھ فلسطینی 1948ء سے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں، اوران کو اب تک کوئی ٹھکانہ نہیں مل سکا ہے۔ جس طرح فلسطین کا مسئلہ انسانی دنیا کا سب سے قدیم اور خطرناک سانحہ ہے، اسی طرح یہ تعداد دنیا بھر میں پناہ گزینوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ ان کی واپسی کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی جانب سے اب تک 110؍سے زائد قراردادیں پاس کی جاچکی ہیں، تاہم اب تک ان کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آسکا۔ اسرائیل اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور عالمی طاقتیں معمول کے مطابق خاموشی کی سیاست یا عدم سنجیدگی کی سیاست کھیل رہی ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ میں پناہ گزینوںکا مسئلہ 1949ء سے ہے، اور1974ء سے باقاعدہ اقوام متحدہ کی جانب سے بڑی اکثریت کے ذریعہ اس کے سلسلے میں قراردادیں پاس کی جارہی ہیں، لیکن اب تک ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا، اسرائیل نے اس کا ممبر ہونے کے باوجوداب تک ان میں سے کسی ایک کو بھی نہ مانا، اور اس سے بھی زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ امریکہ اور دوسرے ویٹو پاور رکھنے والے ممالک نے تمام ہی انسانی اور اخلاقی اصول و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسرائیل کے حق میں باربار ویٹو پاور کا استعمال کیا، تاکہ ان قراردادوں کا نفاذ ممکن نہ ہوسکے۔ (جاری)