مرثیہ بر وفات حضرت مولانا عبدالخالق صاحب سنبھلی ـ آفتاب اظہر صدیقی

عبدِ خالق سنبھلی بھی رب کی جانب چل بسے
علم و فن میں دوسروں پر تھے جو غالب چل بسے

رب تعالیٰ نے انہیں اوصاف بخشے تھے بھلے
لے کے آئے تھے جو رب سے حسنِ قالب چل بسے

راہگیروں کو دکھاتے تھے وہ سیدھا راستہ
علم کی دنیا میں جو تھے ذی مراتب چل بسے

کیا حسیں انداز تھا، حسنِ تکلم خوب تھا
جن کے چہرے پر چمکتے تھے کواکب چل بسے

دل نشیں تقریر تھی اور طرزِ انشا دل پذیر
زندگی کے ہم کو سمجھاکر مطالب چل بسے

کیا ہی شانِ مخلصی تھی آپ کی ہر بات میں
تَشنگانِ علمِ نبوی کے مخاطِب چل بسے

یا خدا جنت عطا کر حضرتِ مرحوم کو
جنت الفردوس کے وہ ہوکے طالب چل بسے

کیوں نہ ہو ماتم کناں ہر ذرۂ دارالعلوم
طالبانِ حق کے اظہر اک مصاحب چل بسے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*