مرثیہ بروفات حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی۔مولانا فضیل احمد ناصری

 

تاریک ہوئی دنیائے جنوں، خوش رنگ نظارا ڈوب گیا

خورشید کو جو شرماتا تھا، اب وہ ہی ستارہ ڈوب گیا

 

جس نور کے بل اربابِ سفر، راہوں کا تعین کرتے تھے

صد آہ کہ نیلے گنبد سے، اے دوست وہ تارا ڈوب گیا

 

مسمار ہوا ایوانِ ادب، اوندھے ہیں غموں سے قصرِ سخن

اک فرد کی میت کیا اٹھی، گویا کہ ادارا ڈوب گیا

 

وہ جسکے قلم کی ہیبت تھی، اس خاک سے نیل کے ساحل تک

وہ نازشِ ہندی ڈوب گیا، وہ رشکِ بخارا ڈوب گیا

 

بے شاہ ہوا اقلیمِ سخن ، بے رنگ جہانِ لوح و قلم

یہ موت کسی عامی کی نہیں، اسکندر و دارا ڈوب گیا

 

دل درد سے بوجھل ہے اپنا، روتا ہوں تو رونے دو مجھ کو

فرقت سے امینی کے یارو، اب صبر کا یارا ڈوب گیا

 

ہاتھوں سےگیا امکانِ خوشی، اب پاس کہاں دامانِ سکوں

اس بار ہماری ملت کا مضبوط سہارا ڈوب گیا

 

جذبات کا جو اک زمزم تھا، افکار کا جو اک قلزم تھا

ماضی جو ہمیں پڑھواتا تھا، وہ تازہ شمارا ڈوب گیا

 

وہ جس کی نوائے مشکیں سےرونق تھی بِہاری گلشن میں

دیوبند کے مغرب میں عنبر! بلبل وہ دلارا ڈوب گیا

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*