مرثیہ بر وفات ادیبِ زماں مولانا نور عالم خلیل امینی ـ آفتاب اظہر صدیقی

 

نوحہ گر ہے سارا عالم، نور عالم چل بسے
ہر طرف ہے رنج و ماتم نور عالم چل بسے

ان کی رحلت کا ہوا ہے مادر علمی کو سوگ
ان کے ہر شاگرد کو اور ان کے ہر ساتھی کو سوگ
صاحبانِ علم کو، ہر اک بڑی ہستی کو سوگ
سب ادب کے نکتہ بینوں، عربی و عجمی کو سوگ

وہ ادیب مثل نیلم نور عالم چل بسے
ہر طرف ہے رنجم و ماتم نور عالم چل بسے

تھی طبیعت میں ذرا سی نازکی موصوف کی
سب کو بھاتی تھی ادائے صندلی موصوف کی
راج کرتی تھی دلوں پر خامشی موصوف کی
دیکھنے لائق تھی علمی برتری موصوف کی

کرکے اپنا کام محکم، نور عالم چل بسے
ہر طرف ہے رنج و ماتم نور عالم چل بسے

نام "الداعی” ہے جس کا وہ مجلہ آپ تھے
یعنی اس کی روح اصلی، جسم و جثہ آپ تھے
اس کی تحریروں کا مستحکم حوالہ آپ تھے
علم کے پیاسوں کی خاطر ایک دریا آپ تھے

ہے ہماری چشم پر نم، نور عالم چل بسے
ہر طرف ہے رنج و ماتم نور عالم چل بسے

"حرف شیریں” کے مصنف، آپ تھے شیریں زباں
"کوہ کن کی بات” میں ہے آپ کی خوبی عیاں
آپ کی ذات مکرم ہے "عیاں را چہ بیاں”
اٹھ گیا ہم سب کے سر سے علم کا اک سائباں

زخم سے ہے درد مدغم، نور عالم چل بسے
ہر طرف ہے رنج و ماتم نور عالم چل بسے

وہ امینی شان کا حامل خلیل نام دار
وہ ادیب ہند، فخر انجمن، قرطاس کار
وہ قلم کا بادشاہ بے نظیر و بے غبار
اس کے جانے سے ہے اظہر سارا عالم سوگوار

کرکے اونچا دیں کا پرچم، نور عالم چل بسے
ہر طرف ہے رنج و ماتم نور عالم چل بسے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*