معروف ہسپانوی ناول نگار خوآن مارسے انتقال کر گئے

بارسلونا:اسپین کے شہر بارسلونا میں خوآن مارسے کے لٹریری ایجنٹ کارمین بالسیلز نے بتایا کہ اس ادیب کا انتقال اتوار انیس جولائی کو  ہوا۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کی موت کس وجہ سے ہوئی۔ خوآن مارسے کا شمار اسپین کے ان ادیبوں میں ہوتا تھا اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا، جن کا بہت زیادہ احترام کیا جاتا ہے۔
وہ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران سب سے زیادہ شہرت حاصل کرنے والے ہسپانوی ادیبوں میں سے ایک تھے۔ انہیں 2008ء میں سَیروانٹیس پرائز بھی دیا گیا تھا، جو عالمی سطح پر ہسپانوی زبان میں لکھے گئے ادب کا اعلیٰ ترین انعام ہے۔
مارسے کا مشہور ترین ناول 1965ء میں شائع ہونے والا ‘ٹیریسا کے ساتھ آخری سہ پہریں‘ (Last Afternoons with Teresa) تھا، جس کا ہسپانوی زبان میں عنوان Ultimas tardes con Teresa ہے۔ یہ ناول اسپین کے علاقے کاتالونیا کے دارالحکومت اور سب سے بڑے کاتالان شہر بارسلونا کے رہنے والے اور محنت کش طبقے کے ایک ایسے نوجوان کی کہانی ہے، جو اسی شہر کے ایک امیر علاقے کی رہنے والی ایک لڑکی کا دل جیتنے کی کوشش کرتا ہے۔
خوآن مارسے خود بھی پیدائشی طور پر بارسلونا کے شہری تھے اور ان کا انتقال اسپین کے اسی شہر میں ان کے گھر پر ہوا۔ انہوں نے ‘ٹیریسا کے ساتھ آخری سہ پہریں‘ کے بعد کئی دیگر ناول بھی لکھے تھے۔ ان کے ناولوں کو دوسری عالمی جنگ کے بعد، خاص کر بیسویں صدی کے دوسرے نصف حصے میں اسپین میں آنے والی ‘سماجی تبدیلیوں کا عکاس نثری ریکارڈ‘ بھی قرار دیا جاتا ہے۔
مارسے جدید دور کے ہسپانوی مصنفین میں سے اتنی قد آور ادبی شخصیت کے مالک تھے کہ ان کا نام کئی مرتبہ ادب کے نوبل انعام کے لیے بھی زیر غور رہا تھا۔ وہ شہرت کی زندگی کی چکا چوند سے بہت دور اور سماجی طور پر کسی بھی ہجوم سے الگ تھلگ رہنے والے انسان تھے۔
ان کے انتقال پر ہسپانوی وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے ٹوئٹر پر اپنے ایک تعزیتی پیغام میں لکھا، ”مجھے خوآن مارسے کے انتقال کی خبر برسلز میں یورپی یونین کی سربراہی کانفرنس کے دوران ملی۔ مجھے دلی صدمہ ہوا ہے۔ مارسے اسپین میں ‘1950ء کی دہائی کی نسل کے ادیبوں‘ میں سے ایک تھے، جنہیں ہسپانوی زبان کے ادب میں ہمیشہ کلیدی اہمیت حاصل رہے گی۔‘‘

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*