معروف تعلیمی اور سماجی خدمت گذار ریاض عادل کے انتقال پر آن لائن تعزیتی جلسہ

میرٹھ:(پریس ریلیز) ’’وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ جو شخص علم کا فروغ کرتا ہے وہ موت کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔ قرآن میں اللہ فرماتا ہے علم والا اوربے علم ،سایہ اور دھوپ برابر نہیں ہو سکتے۔ ریاض صاحب ہشت پہل شخصیت کے مالک تھے۔ ان کا چلا جانا صرف ان کے خاندان کا نہیں بلکہ ملت کا نقصان ہے۔جو لوگ ان کے ساتھ جڑے ہوئے تھے اب ان کی ذمہ داری ہے کہ ریاض صاحب کے مشن کو آگے بڑھائیں ۔‘‘یہ الفاظ قاری شفیق الرحمن کے تھے وہ شعبۂ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ اور جدید فاؤنڈیشن ٹرسٹ ، دہلی کے ذریعہ منعقدہ آنلائن تعزیتی میٹنگ میں صدارتی خطبہ پیش کررہے تھے۔
صدر شعبۂ اردو ،پروفیسر اسلم جمشیدپوری نے مہمانان کا استقبال کیا۔انہوں نے کہا کے ریاض صاحب نے مجیدیہ ماڈرل اسکول ، مجیدیہ پلے وے اسکول، نرسنگ اسکول ، مجیدیہ مدرسہ جدید،سلائی سینٹر ،قرآن لرنگ سینٹر وغیرہ کی بنیاد ڈالی۔’’ سُپر30 ‘‘کے نام سے نیا تجربہ کیا ۔آپ نے ملک و قوم کی فلاح بہبودی کے لئے کام کیا۔تعلیمی ضروریات اور اسلامی و مذہبی تعلیمات کو عام کرنے کی کوشش کی۔ جدید نکاح نامہ ، جس میں دلہا دلہن کی تصویر ، آدھار نمبر، موبائل نمبروغیرہ معلومات سے پُر نکاح کا رجسٹر تیار کرانا۔ انہوں نے ریاض عادل کا تعارف کراتے ہوئے مزیدکہا کہ کورونا وائرس سے پے چیدہ وقت میں500؍ غریبوں کے گھر پر کھانا پہنچانے کا کام کیا، انہوں نے تقریباً 300؍ گھروں میں روزانہ دودھ پہنچانے کا کام کیا۔ رسالہ مجیدیہ ٹائمس کے نام سے نکالا۔ جو ہندی اور انگریزی میں شائع ہوتا رہا۔
تعزیتی جلسے کی نظامت کے فرائض محترم الیاس نے انجام دئے۔ جلسہ کا آغازمولانا انیس الرحمن نے کلام پاک کی آیات سے کیا۔ اس موقع پرپروفیسر شہپر رسول نے تعزیتی جلسے کو خطاب کرتے ہوئے کہا کریاض عادل نے اپنے کارناموں سے سچے مصلح قوم کا کردار ادا کیا ہے۔تعلیمی اور سماجی خدمت سے انہوں نے ثابت کر دکھایا ہے کہ انسان چاہے تو سب کچھ کر سکتا ہے۔مولانا آزاد یونیورسٹی، حیدرآباد کے سابق سیخ الجامعہ، محترم خواجہ شاہد نے اس موقع پر کہا کہ ریاض عادل صاحب نے سرسید کے سچے جانشین ہونے کا فرض ادا کیا ہے۔ ان کی قوم و ملک کی خدمات ہمیشہ یاد کی جائیں گی۔
محمد شاکر ریاض نے کہا کہ ہمارے والد نے جو کام کئے وہ ہم نہیں کر سکتے ، اللہ سے دعا ہے کہ ان کا کچھ حصّہ ہمارے اندر بھی آجائے۔ڈاکٹر باقر نے کہا کہ میرے والد کا ڈسپینسری کھولنے کا خواب تھا۔ اس خواب کو میں پورا کرونگا انشاء اللہ۔انصب ریاض نے کہا کہ ان کے مشن کو ہم پورا کریں گے انشاء اللہ۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ خاموش رہتے تھے لیکن جب بولتے تو بہت سوجھ بوجھ کے ساتھ بولتے تھے۔ وہ شادیوں کو سادگی سے کرنے کے حامی تھے۔ محترمہ روشن جہاں نے کہا کہ وہ جیسا کہتے تھے اس سے زیادہ کرتے تھے۔ جلسہ کے آخر میں شرکاء نے دعا کی کہ خدا تعالیٰ جناب ریاض عادل صاحب کواپنی رحمت خاص سے نوازے اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔
اس آن لائن تعزیتی جلسہ میں ڈاکٹر آصف علی ، ڈاکٹر شاداب علیم، ڈاکٹر ارشاد سیانوی، ڈاکٹر الکا وشسٹھ ، محترم ماسٹر علی شیر سیفی ،سمیہ ریاض ، علی شیر سیفی، ممتاز قاسمی ،معین اختر انصاری عبدالرشید، مشتاق احمد سیفی، ڈاکٹر تسلیم نے بھی اظہار خیال کیا۔تعزیتی جلسہ میں مدیحہ اسلم، محمد شمشاد ، ممتاز قاسمی، ریکھا تیاگی، حلیمہ سعدیہ، جہاں آرا، منظر علی، خوجہ شاہد، وغیرہ بھی شریک رہے۔