معروف ناقد و مصنف ڈاکٹر ممتاز احمد خان کا انتقال،مفتی ثناء الہدی قاسمی کا اظہارِ تعزیت

حاجی پور:ڈاکٹر ممتاز احمد خان ، سابق ایسوسی ایٹ پروفیسر بہار یونیورسٹی مظفرپور ساکن باغ ملی حاجی پور، ویشالی کا آج مختصر علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔ ان کی وفات پر رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے امارت شرعیہ کے نائب ناظم مفتی ثناء الہدی قاسمی نے کہا کہ وہ ایک اچھے استاذ، بہترین نقاد اور اردو تحریک کے عظیم قائد تھے۔ انہوں نے انجمن ترقی اردو کے پلیٹ فارم سے اردو کی ترویج واشاعت اور ترقی کے لیے بہت کام کیا۔ انہوں نے اردو دوستوں کی ایک مضبوط ٹیم تیار کی، جس میں انوارالحسن وسطوی جیسے اردو کے کہنہ مشق ادیب اور ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق، ڈاکٹر عارف حسن وسطوی، ڈاکٹر محمد صباءالہدی، ڈاکٹر عبداللطیف جیسے ان کے شاگرد تھے جو ان کے دست و بازو بن کر کام کرتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کی ٹیم میں سید مصباح الدین احمد، نذرالاسلام نظمی، ظہیرالدین نوری، نسیم احمد ایڈووکیٹ تھے جو ان کے مشورے اور ہدایت کے مطابق کاموں کو آگے بڑھاتےتھے۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنا تحریری اثاثہ بھی بہت چھوڑا ہے۔ وہ بڑے نقاد اور اقبالیات کے ماہر تھے۔ ان کی آ خری کتاب ’’قندیلیں‘‘ حال ہی میں طبع ہوکر آئی تھی ۔ وہ اپنے شاگردوں سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ قابل ذکر ہے کہ ان کے ادبی و تنقیدی مضامین "قندیل” پر متواتر شائع ہوتے تھے۔ ابھی چند دن قبل ہی ان کے مضامین کے مجموعہ’’قندیلیں‘‘پر ہم نے ایک تبصرہ شائع کیا تھا۔ پچھلے ماہ مارچ میں بھی اس کتاب پر ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی کا تبصرہ شائع ہوا تھا۔