معروف مزاح نگار منظور عثمانی کا انتقال

نئی دہلی:اردو کے مشہور و شگفتہ نگار ادیب و مصنف منظور عثمانی کا آج دہلی میں انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر چھیاسی سال تھی۔ منظور عثمانی کا وطنی تعلق شمالی ہندوستان کے مشہور علمی قصبہ دیوبند کے عثمانی خانوادے سے تھا اور وہ ایک طویل عرصے سے دہلی میں مقیم تھے۔
3 جنوری 1935 کو دیوبند میں جنم لینے والے منظور عثمانی انگریزی و تاریخ میں ایم اے اور بی ایڈ (اے ایم یو ) تھے۔ طویل عرصے تک تدریسی خدمت انجام دی اور پرنسپل کے عہدے سے سبکدوش ہوئے تھے۔ ان کی کم و بیش دو درجن کتابیں شائع ہوئیں۔ جن میں سے زیادہ تر مزاحیہ مضامین پر مشتمل ہیں۔ ان کی کتابوں میں ریٹائر ہوئے ہم،کتاب کا نکاح ثانی،ہیں خواتین کچھ نظر آتی ہیں کچھ،بڑا بے ادب ہوں،کرسی کی کشمکش میں وطن ہاتھ سے گیا،شاعر بیوی کی حراست میں ،غالب کے گھر شادی،دنیا رنگ رنگیلی وغیرہ بڑی مشہور و مقبول ہیں۔ان کی 4 کتابوں کو ادبی اداروں کی جانب سے انعامات سے بھی نوازا گیا۔اس کے علاوہ انھیں "بیسٹ ٹیچر” اور "ایوارڈ برائے تحقیقی ادب” بھی پیش کیے گئے ۔