معروف فلسطینی دانشور پروفیسر عبدالستار قاسم کا انتقال،حماس کا اظہارِ تعزیت

ر ملہ:حماس نے ممتاز فلسطینی دانشور پروفیسر عبدالستار قاسم کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ کرونا کی مہلک وبا نے فلسطینی قوم کے ایک عظیم رہ نما کو ہم سے جدا کردیا۔ ان کا خلا برسوں تک پورا نہیں ہوسکے گا۔ اطلاعات کے مطابق حماس کی طرفس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جماعت مرحوم رہنما ڈاکٹر عبدالستار کی قوم کے لیے خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ انہوںنے جس جرات اور بہادری کے ساتھ نام نہاد اوسلو معاہدے کی مخالفت کی اس کی مثال بیان نہیں کی جاسکتی۔ انہوںنے ہمیشہ فلسطینی قوم کے نصب العین کی بات کی اور ہمیشہ آزاد فلسطینی ریاست اور فلسطینی قوم کے دیرینہ حقوق کا مقدمہ لڑا۔ حماس نے تعزیتی بیان میں مرحوم کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا کہ پروفیسر عبدالستار قاسم کی وفات پوری قوم کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔ ان کی وفات سے فلسطینی قوم ایک ممتاز اور جہاں دیدہ دانشور سے محروم ہوگئی۔ خیال رہے کہ کرونا کی وبا نے ممتاز فلسطینی دانشور ڈاکٹرپروفیسر عبدالستار قاسم کی جان بھی لے لی جس کے نتیجے میں فلسطینی قوم ایک سرکردہ ر نما سے محروم ہوگئی۔اطلاعات کے مطابق فلسطینی پروفیسر اور دانشور عبدالستار قاسم چند روز قبل کرونا کا شکار ہوئے تھے۔ انہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ جاں بر نہ ہوسکے اور زندگی کی بازی ہار گئے۔پروفیسر قاسم کو دو روز قبل النجاح نیشنل اسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں منتقل کیا گیا تھا۔ اس سے قبل گذشتہ ماہ ان کے بھائی فائق بھی کرونا کے باعث چل بسے تھے۔پروفیسر عبدالستار قاسم ایک سرکردہ فلسطینی دانشور تھے اور ان کا شمار فلسطینی اتھارٹی کے ناقد اور اوسلو معاہدے کے مخالف کے طور پرہوتا تھا۔ فلسطینی اتھارٹی اکثر ان کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرتی اور انہیں عدالتوں میں گھسیٹتی رہی ہے۔