مرنے سے عار ہے مجھے،جینے کو میرا جی نہیں ـ کبیر اطہر

مرنے سے عار ہے مجھے جینے کو میرا جی نہیں
دونوں میں کوئی چیز بھی میرے مزاج کی نہیں

مجھ کو بھی زخم۔دل مرا لگتا ہے ماہ۔عید سا
گاہے یہ دیدنی ہے اور گاہے یہ دیدنی نہیں

اشکوں سے بچ بچا کے اب چلنا پڑے گا دیر تک
لگتا ہے بودو باش ۔غم گلیوں میں عارضی نہیں

دونوں طرف سے دکھ مرے بیٹھے ہیں کھینچ کر اسے
یونہی مرے وجود کی رسی تنی ہوئی نہیں

جانے بحال ہوں گی کب چشم و دہن کی رونقیں
آنکھوں میں اشک۔غم نہیں ہونٹوں پہ تشنگی نہیں

خود میں پڑے ہیں نیم جاں عمروں کے ڈھیر پر میاں
جذبوں میں طنطنہ نہیں جسموں میں سنسنی نہیں

دے کے دعائیں کر دیا ہم نے اسے ہجوم کا
جس پہ لگا رہے تھے ہم اس نے وہ راہ لی نہیں

اتنا بڑھا ہے حوصلہ شہر۔ستم شعار کا
لینے لگا ہے سرسری باتیں جو سرسری نہیں

مجھ میں بھرا ہوا فقط ٹی وی کا شور ہے کبیر
شہروں کی صبح و شام میں چڑیوں کی نغمگی نہیں

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*