مار کھاتی پولس اور کسان احتجاج؛ لو سانس بھی اب احتیاط سے!-ڈاکٹر عابد الرحمن

عجیب منظر تھا پولس کے جوان مظاہرین کی لاٹھیوں کے سامنے بے بس ، مار کھا کر کھائی میں گرتے یا جان بچا کر کودتے نظر آرہے تھے ۔ منظر یوم جمہوریہ کے موقع پر کسان احتجاجیوں کی ٹریکٹر ریلی میں ہوئے تشدد کا تھا۔ یہ وہی پولس تھی کہ جس نے سی اے اے کے خلاف ہوئے احتجاجی مظاہروںمیں اپنی لاٹھیوں کو خوب استعمال کیا تھا مظاہرین کو سبق سکھایا تھا ۔ یوم جمہوریہ پر ہوئے کسان احتجاج میں پولس اور کسانوں کے بیچ ہوئی پرتشدد جھڑپوں کے مناظر کے تناظر میں لوگوں نے سوشل میڈیا پر وہ ویڈیو بہت پھیلا یا کہ جس میں پولس والے ایک طالب علم کو گرے تک اور گر نے کے بعد بھی اپنی لاٹھیوں سے بے تحاشہ جہاں جگہ پارہے مار رہے تھے ۔ لڑکییوں نے اس کی ڈھال بننے کی کوشش کی تھی پھر بھی وہ لوگ موقع ملتے ہی اسے مارے جا رہے تھے ۔ سی اے اے کے خلاف ہوئے احتجاج میں یہ ایک عام بات تھی پولس پر نہ صرف احتجاجیوں کے خلاف غیر متناسب طاقت کے استعمال کے الزامات لگے تھے بلکہ یونیورسٹی میں گھس کے احتجاج سے دور لائبریری میں مطالعہ کرنے والے طلبا پر بھی بری طرح لاٹھی چارج کے الزامات عائد کیے گئے تھے ۔ لیکن کسانوں کے معاملہ میں یہی بہادر پولس مار کھاتی نظر آئی ۔ ایسا کیوں اس پر پہلی بات جو ذہن میں آتی ہے وہ یہی ہے کہ پولس ایکشن احتجاج کر نے والے کون ہیں یہ دیکھ کر ہی ہوتا ہے لیکن یہاں بات شاید اس سے آگے کی ہے ، کسانوں کا احتجاج ابھی تک پر امن تھا اس کو بدنام کر نے کے لئے اسی طرح کی مہم زور و شور سے چلائی جارہی تھی جس طرح سی اے اے کے خلاف احتجاج کو بدنام کر نے کے لیے چلائی گئی تھی ۔ یوم جمہوریہ پر ٹریکٹر ریلی کی اجازت دی گئی تھی اور اس کا مقصد بھی شاید یہی تھا کہ یہ پر امن احتجاج فرط جوش میں کسی پر تشدد واردات سے دو چار ہوجائے یا کسی طرح اس میں تشدد برپا کر کے اس کو بدنام کیے جانے کی مہم کو ثبوت فراہم کیا جائے جیسا کہ کسان یونیونوں کے لیڈران کا الزام ہے کہ اس موقع پر جو کچھ بھی ہوا وہ ان کے پلان کا حصہ نہیں تھا بلکہ کچھ ایسے لوگوں نے اسے ہائی جیک کرلیا تھا جنہیں ابھی تک کسان یونینیوں نے احتجاج سے دور رکھا تھا ۔ اس میں جس کلیدی شخص کا نام آرہا ہے اس کے متعلق یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ بی جے پی کا رکن ہے اور پچھلے لوک سبھا انتخابات میں گرداس پور سے ایم پی سنی دیول کا الیکشن انچارج بھی رہ چکا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ تصاویر بھی میڈیا اور سوشل میڈیا میں گردش کر رہی ہیں۔ کسانوں کا الزام ہے کہ اسی شخص نے مظاہرین کو گمراہ کر یہ سب کھڑاگ رچا یا ہے خیر پولس کی تفتیش جاری ہے کئی مظاہرین کی گم شدگی یا گرفتار ی کی خبر بھی ہے لیکن تادم تحریروہ شخص گرفتار نہیں کیا جا سکا جو ماسٹر مائنڈ بتایا جارہا ہے ، اس نے فیس بک لائیو کے ذریعہ لوگوں سے خطاب بھی کیا ہے لیکن پولس اسے تلاش نہیں کر سکی اس کی اور اس کے ساتھیوں کے معلومات دینے پر انعام کا اعلان بھی کیا گیا ہے ۔ اس میں پولس کا مار کھانا بھی شایداحتجاجیوں کو بدنام کر نے کی سازش کا حصہ نظر آتا ہے ۔تشدد اور فساد کسی مسئلہ کا حل نہیں ہو سکتے یہ بجائے خود ایک مسئلہ ہیں یوم جمہوریہ پر جو کچھ بھی ہوا کس نے کیا اسے سامنے لانا اور قانونی سزا سے گزارنا ضروری اور حکومت کی ذمہ داری ہے یہ سارا معاملہ باریک بینی سے مکمل اور غیر جانبدار تفتیش کا متقاضی ہے لیکن قابل صد احترام سپریم کورٹ نے اس معاملہ کی سی بی آئی یا اسپیشل ٹیم یا عدالتی کمیشن کے ذریعہ تفتیش کروائے جانے کا مطالبہ کرنے والی عرضداشتوں کو خارج کر کے اسے اسی پولس پر چھوڑ دیا جو خود اس معاملہ میں ایک فریق ہے ۔اسی طرح پچھلے دنوں یہ خبر بھی آئی تھی کہ کچھ مقامی لوگوں نے احتجاج کر رہے کسانوں کے خلاف احتجاج کیا کہ انہوں نے قومی پرچم کی بے عزتی کی ہے لیکن الٹ نیوز ( alt news)نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ان میں بی جے پی کے لوگ بھی شامل تھے ان لوگوں نے کسانوں پر پتھراؤ کیا اور ان کے ٹینٹ وغیرہ توڑے اور بہادر پولس کھڑی دیکھ رہی تھی ۔ یہی سب سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے ساتھ بھی ہوا تھا ۔ ہمیں تو لگتا ہے کہ کسانوں کے احتجاج میں یہ جو کچھ بھی ہوا ایک سازش کے تحت ہوا تاکہ اسے بدنام کر کے کسانوں پر مزید سختی کی راہ ہموار کی جا سکے اور انہیں پریشاں و ہراساں ہو کر خود ہی اپنے گھروں کو لوٹ جانے پر مجبور کیا جا سکے ۔ یوم جمہوریہ کے واقعہ کے بعد تو احتجاج کے مقامات کو خاردار تاروں بیریکیڈس اور بسوں سے گھر لیا گیا اور راستے میں آہنی کیلیں گاڑ دی گئیں ہیں ، یعنی حکومت کسانوں کی سن نہیں رہی بلکہ انہیں پوری طرح گھیر کر آر پار کی لڑائی کی موڈ میں آگئی ہے گویا یہ جمہوریت نہیں آمریت ہے نوآبادیاتی قابض حکومت ہے ۔ حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ کسانوں نے اسی طرح کا احتجاج انگریز حکومت کے خلاف بھی کیا تھا اورمودی سرکار کے خلاف ہورہے اس احتجاج اور قریب سو سال پہلے ہوئے کسان احتجاج میں بڑی مماثلت دکھائی دے رہی ہے اس وقت بھی پنجاب کے کسانوں نے انگریزوں کے ذریعہ بنائے گئے تین زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کیا تھا، اس میں بھی پنجاب کے کسانوں کی اکثریت ہے ۔جس طرح مودی سرکارنے پہلے تو ان قوانین کو واپس لینے سے صاف انکار کیا لیکن ان میں کچھ ترامیم کر نے اور پھر انہیں اٹھارہ مہینوں کے لیے روکنے کا آفر دیابالکل اسی طرح اس وقت کی انگریز سرکارنے بھی پہلے تو قوانین واپس لینے کے بجائے ان میں کچھ ترامیم کی تھیں لیکن جس طرح آج کے احتجاجی کسان قوانین کی واپسی سے کم کسی چیز پر راضی نہیں اسی طرح اس وقت کے کسان بھی قوانین کی واپسی کے سوا کسی چیز پر راضی نہیں ہوئے تھے آخر کارانگریز وں نے قوانین واپس لیےتھے لیکن اس وقت جب کسانوں کا پر امن احتجاج فسادکی صورت اختیار کر گیا تھا کئی علاقوں میں تشدد ہوا انگریز اہلکاروں کو زد کوب کیا گیا تھا سرکاری دفاتر اور چرچ جلائے گئے تھے ، ریلوے کام گاروں نے ہڑتال کردی تھی ۔یہاں ایسا لگتا ہے کہ مودی سرکارخود ہی اس کا انتظار کر رہی ہے کہ کسانوں کا احتجاج امن کی پٹری سے اترے اور اسے بزور قوت ختم کرنے کا موقع اس کے ہاتھ لگے ، اب کسان لیڈران کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے کہ وہ ایسا نہ ہونے دیں ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)