مرکزی جمعیۃ علماکی جانب سے دہلی وبہار کے چار سو سے خاندانوں کے درمیان راشن تقسیم

 

کورونا کے بڑھتے خطرات کے دوران ضرورت مندوں کی خبرگیری وامداد ہمارا ملی و اخلاقی فریضہ: مولانا فیروز اخترقاسمی

 

نئی دہلی: کوروناوائرس کےروزبروز بڑھتے خطرات کی وجہ سے ملک گیر سطح پرجاری بحران کا شکار سب سے زیادہ ملک کامتوسط، غریب ومزدور طبقہ ہوا ہے اورنوبت یہاں تک آگئی ہے کہ ایک طرف جہاں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ لوگ کوروناوائرس کی وجہ سے جاں بحق ہوگئے ہیں وہیں بہت سے لوگ بھوک اورمسلسل فاقہ کشی کی وجہ سے مررہے ہیں ـ ایسے ناگفتہ بہ ماحول میں سماجی ورفاہی تنظیم مرکزی جمعیۃ علما نے اہلِ خیراوردردمند لوگوں کے تعاون سے غریبوں، مزدوروں، ضرورت مندوں اوربیواؤں میں راشن تقسیم کرنے کامنصوبہ بنایا اور اب تک کئی مرحلوں میں ضرورت مند و مستحقین کے درمیان ضروری اشیائے خوردونوش تقسیم کرچکی ہےـ مرکزی جمعیۃ نےراشن تقسیم کایہ کام دہلی کے جامعہ نگراورمضافات کے علاقوں کے علاوہ بہار کے مشرقی چمپارن میں بھی کیاہے اوروہاں بھی ـ پچھلے سال بھر کے عرصے میں کم و بیش سات سو خاندانوں کی امداد کے ساتھ ابھی رمضان سے قبل بھی اس تنظیم نے ضرورت مندوں کی خاص مدد کی اور دہلی و بہار کے 400خاندانوں میں راشن تقسیم کیا ہے۔

ـ مرکزی جمعیۃ علما کے جنرل سکریٹری مولانافیروزاختر قاسمی نے اس موقعے پراپنے تاثرات کااظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ محدودوسائل کے باوجودہم مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ حتی الامکان زیادہ سے زیادہ ضرورت مندوں کی امدادکی جائے اوروبائے عام کی اس سنگین گھڑی میں ان لوگوں کا تعاون کیا جائے جو سخت پریشانیوں سے دوچارہیں اوران کے کمانے کھانے کے ذرائع بھی ختم ہو چکے ہیں ـ انھوں نے ملک بھر کے صاحبِ استطاعت لوگوں سے اپیل کی ہے کہ ایسے نازک موقعے پر مستحقین اور ضرورت مندوں کی امدادکے لیے آگے آئیں، خصوصا رمضان المبارک کے مہینے میں زکوۃ، صدقات وامداد کے ذریعے ایسے لوگوں کی مدد کریں ـ ماہ مبارک کوغنیمت جانتے ہوئے زیادہ سے زیادہ خیروفلاح اورامدادوتعاونِ باہمی کاکام کرناچاہیے اور ان لوگوں کے لیے دست وبازوبنناچاہیے جو ان سخت حالات میں شدید مصیبتوں سے دوچارہیں ـ