مرکزی حکومت نے ویکسین کامذاق بنادیا،منیش سسودیا کامودی سرکار پر حملہ

نئی دہلی:دہلی میں اب نوجوانوں کوویکسین نہیں مل رہی ہے۔سنٹرپرجواب ملتاہے کہ ویکسین نہیں ہے۔ دہلی کے نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا نے کورونا ویکسین کی فراہمی کے معاملے میں مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ منیش سسودیا نے پیرکو ایک ڈیجیٹل پریس کانفرنس میں کہاہے کہ نوجوانوں کے لیے بنائے گئے تمام ویکسینیشن مراکز مرکزی حکومت کی بدانتظامی کی وجہ سے بندکردیئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاہے کہ کوویکسین کے حفاظتی ٹیکوں کے مراکز 45 سال سے زیادہ عمر والوں کے لیے بھی بندکردیئے گئے ہیں۔یہ صورتحال نہ صرف دہلی بلکہ پورے ملک میں ہے۔ ویکسی نیشن کا مسئلہ یہ ہے کہ نوجوانوں کے لیے ملک کے بہت سے اضلاع میں ویکسینیشن شروع نہیں ہوئی ہے اور جہاں سے یہ شروع ہوئی ہے ، اسے روکنا ہوگا۔ ویکسین کہاں گئی؟ مرکزی حکومت اس کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار ہے۔ دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ نے کہاہے کہ مرکزی حکومت ویکسین کا صحیح طریقے سے انتظام نہیں کرسکتی ہے ، لہٰذا ملک کورونا کا سامنا کرنے پر مجبور ہے۔ اگر ہم نے نوجوانوں کے لیے ویکسین طلب کی ، تو انہوں نے کہاہے کہ آپ کو چار لاکھ ملیں گے ، آپ عالمی ٹینڈر کرکے اسے لے لیں۔منیش سسودیانے کہاہے کہ ہم نے موڈرنا ، فائزراور جانسن سے رابطہ کیا ، پھر فائزر اور موڈرنا نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ صرف مرکزی حکومت سے بات کر رہے ہیں۔ وہ براہ راست کسی بھی ریاستی حکومت کو ویکسین کی فراہمی نہیں کررہا ہے ، لہٰذا جب ہم گھریلو کمپنیوں سے یہ ویکسین لینا چاہتے ہیں تو مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ صرف چار لاکھ وصول کیے جائیں گے اور کہا جاتا ہے کہ ریاستی حکومت خودخریدے اور کب ریاستی حکومت کمپنیوں سے پوچھتی ہے کہ اگر ایسا ہے تو تو مرکزی حکومت آکر کہتی ہے کہ صرف چار لاکھ ویکسین دستیاب ہوں گی۔ غیر ملکی کمپنیوں کی ویکسینیں ، جو بین الاقوامی منڈی میں مکمل طور پر کامیاب ثابت ہورہی ہیں اور دنیاکے بہت سارے ممالک یہ ویکسین خرید رہے ہیں اور انہیں اپنے لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔ جب ریاستی حکومت غیر ملکی کمپنیوں کے پاس یہ ویکسین خریدنے جا رہی ہے ، تو وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ مرکزی حکومت سے بات کریں گے ، وہ ان سے بات کر رہے ہیں۔ ویکسین کے بارے میں یہ کیا لطیفہ ہے؟