مرکزی حکومت کی گردن میں مدراس ہائی کورٹ کا طوق۔ایم ودود ساجد

گزشتہ یکم دسمبر 2020 کو مدراس ہائی کورٹ کی ڈویزن بنچ نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوے اپنے ایک شاندار فیصلہ میں کہا ہے کہ افسروں کے ہاتھوں شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کو روکنے کےلیے ہائی کورٹس اور خود سپریم کورٹ کے ذریعہ جاری ہدایات اور مشوروں کو سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا ہے۔
اولین پیراگراف میں مذکورہ جملہ اگر نسبتاً لمبا ہوگیا ہو اور سمجھنے میں دشواری ہو تو اسے یوں سمجھا جاسکتا ہے:
1- سرکاری افسران عام طورپرشہریوں کے بنیادی حقوق کی پروا نہیں کرتے۔
2- ایسے معاملات جب عدالتوں میں جاتے ہیں تو ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ حکومتوں کو ہدایات جاری کرتی ہیں۔
3- ان ہدایات میں پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کو کہا جاتا ہے کہ وہ افسروں کے ہاتھوں شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی روکنے اور متاثرہ شہریوں کے نقصان کی تلافی کیلئے قانون میں ترمیم کریں یا نئے قوانین وضع کریں۔
4- حکومتیں عدالتوں کی ان ہدایات کو نظرانداز کردیتی ہیں۔
5- لہذا مدراس ہائی کورٹ نے حکومتوں کے اسی رویہ پر ناگواری ظاہر کی ہے۔
اس سلسلہ میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ مدراس ہائی کورٹ نے صرف ناگواری کا ہی اظہار نہیں کیا ہے بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے جواب بھی طلب کیا ہے۔ جسٹس این کروبا کرن اور جسٹس بی پوگا لیندھی نے پوچھا ہے کہ آخر حکومت کی ذمہ داری (دین داری’ جوابدہی) کے تعلق سے پارلیمنٹ بل کب لائے گی؟
واضح رہے کہ ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ‘ آئینی عدالتیں ہیں اور ان کی ہدایات اور مشوروں پر عمل کرنا حکومتوں کےلیے لازمی ہوتا ہے۔. سپریم کورٹ کا تو مشورہ بھی ہدایت کے ہی درجہ میں ہوتا ہے۔لیکن بنیادی انسانی حقوق کے معاملہ میں مرکزی اور ریاستی حکومتیں ان ہدایات اور احکامات کو نظر انداز کرتی رہی ہیں۔یہ بہت ہی سنگین مسئلہ ہے جو جمہوری عناصر کی بقاء کےلیے ایک خطرناک اشاریہ بھی ہے۔
مدراس ہائی کورٹ نے اس سلسلہ میں مرکزی حکومت کو کٹگھرے میں کھڑا کرکے بڑی جرات کا مظاہرہ کیا ہے۔میں تو پچھلے سات مہینوں سے کہتا آرہا ہوں کہ اس وقت‘ جبکہ عدلیہ پر حکومت اور افراد تسلط قائم کرنے کی کھلی اور چھپی آمرانہ کوششیں کر رہے ہیں‘ ہائی کورٹس کا اتنا متحرک وفعال ہونا اور شہریوں کے حقوق کے تئیں بیدار ی کا ثبوت دیتے رہنا ایک بڑی بات ہے۔ 29 مئی 2020 کو مزدوروں کی نقل مکانی کے معاملے میں سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران حکومت کے وکیل ( سالیسٹر جنرل) نے کہا بھی تھا کہ ہائیکورٹس ملک میں متوازی (Parallel ) حکومت چلارہی ہیں ۔
مدراس ہائی کورٹ نے اپنے تحریری تبصرہ میں کہا کہ:
"بہت سے معاملات اور آئینی عدالتوں کے احکامات کا حوالہ دیا جاسکتا ہے جہاں حکومتوں کو نئے قوانین بنانے یا موجود قوانین میں ضروری ترمیم کرنے کی ہدایات اور احکامات جاری کیے گئے لیکن حکومت نے آج تک ان پر عمل نہیں کیا۔”
عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی تحریر کیا کہ: جبکہ تینوں عناصر‘ عاملہ‘ قانون سازیہ اور عدلیہ کے درمیان اختیارات کی جداگانہ تقسیم ضروری ہے تاہم دوسرے عناصر (عاملہ اور قانون سازیہ) نے بنیادی حقوق کے معاملہ میں موجودہ قوانین میں ترمیم یا نئے قوانین بنانے کی ضرورت پر آئینی عدالتوں کے ذریعہ دیے گئے احکامات پرعمل آوری تو دور سنجیدگی سے غور تک نہیں کیا۔عدالت نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ مزید لکھا کہ: تاریخ بتائے گی کہ مختلف ہائی کورٹس اور خود سپریم کورٹ کے احکامات کو ہرآنے والی حکومت نے کیسے مسلسل نظر انداز کیا۔
مدراس ہائی کورٹ نے ثبوت کے طور پر چند مثالیں بھی اپنے فیصلہ میں تحریر کی ہیں: مثال کے طور پر 1999 میں وی سدھیر بنام بار کونسل آف انڈیا (فیصلہ نمبر SC-1167) میں سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کاذکر کیا جس میں عدالت عظمی نے اپرینٹس شپ رول (Apprenticeship Rule) کو کالعدم کرتے ہوے پارلیمنٹ کو حکم دیا تھا کہ وہ ایڈوکیٹس ایکٹ 1961 میں ضروری ترمیم کرے۔ یہ قضیہ دراصل خالصتاً پیشہ ور وکیلوں سے تعلق رکھتا ہے اور براہ راست عام لوگوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں تاہم اتنا تو سمجھنا ہی چاہیے کہ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اپرینٹس شپ‘ یعنی وکالت کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کسی وکیل کے پاس کچھ دنوں تک تجرباتی طورپر کام کرنے کو قانون کے پیشہ کے معیار کو مزید بڑھانے کی نیت سے متعارف کرایا گیا تھا لیکن لیگل ٹریننگ ضروری ہے۔اس سلسلہ میں قانون میں ترمیم کرنے کا جو حکم دیا گیا تھا پارلیمنٹ نے اس پر آج تک عمل نہیں کیا۔
اس پر مدراس ہائی کورٹ نے اپنے تازہ حکم میں لکھا ہے کہ: 21 برس گزرنے کے بعد بھی حکومت کو ایڈوکیٹس ایکٹ 1961 میں ترمیم کرنے کی کوئی فکر نہیں ہے۔۔عدالت نے سپریم کورٹ کے 1997کے ایک اور فیصلہ کا ذکر کیا جس میں وشاکھا بنام اسٹیٹ آف راجستھان میں عدالت عظمی نے کام کرنے کی جگہ (دفتروں اور فیکٹریوں وغیرہ) میں برسرکار خواتین کو جسمانی استحصال سے بچانے کےلیے قانون بنانے کا حکم دیا تھا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ اتنا ضروری قانون تک حکومت نے 2013 میں یعنی 15-16برس کے بعد بنایا۔ہائی کورٹ نے کہا کہ اس سے صاف ظاہر ہے کہ حکومت کے کسی بھی محکمہ میں ایسا کوئی باقاعدہ ونگ موجود نہیں ہے جو آئینی عدالتوں کے احکامات اور مشوروں کو عمل درآمد کے لئے پالیسی سازوں تک پہنچاسکے۔ عدالت نے کہا کہ ہر محکمہ میں ایسے ونگ کا قیام انتہائی ضروری ہے۔
عدالت نے اور بھی کئی احکامات کا ذکر کیا اور بہت سی مثالیں دیں جہاں حکومتیں اور قانون ساز ادارے احکامات پر عمل کرنے میں ناکام رہے۔ ہائی کورٹ نے ایک بہت ہی دلچسپ انکشاف کرتے ہوے کہا کہ 21 ویں لا کمیشن (کمیشن برائے قانون سازی) کے چیرمین کی مدت عہدہ کبھی کی ختم ہوچکی ہے اور 22 ویں لا کمیشن کی تشکیل کے لئے گزشتہ 21 فروری 2020 کو نوٹیفکیشن ہوگیا تھا لیکن حکومت نے ابھی تک چیرمین اور ممبروں تک کا تقرر نہیں کیا ہے۔ عدالت نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ اتنے عرصہ تک لا کمیشن کی تشکیل نہ ہونے سے قانون سازی کا عمل متاثرہوگا۔
سوچ کر دیکھیے کہ لا کمیشن جیسا اہم ادارہ پچھلے دس مہینے سے چیرمین اور ممبروں کے بغیر کام کر رہا ہے۔ اب کیا کام کر رہا ہوگا یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ عدلیہ میں ججوں کی تقرری اور تبادلہ کے اختیارات حکومت کے پاس آجائیں اور اس میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے انتظام کا کوئی دخل نہ ہو۔آپ کو یاد ہوگا کہ اس ضمن میں جسٹس کیہر کی پانچ رکنی بنچ نے ہفتوں کی سماعت کے بعد حکومت کے ذریعہ بنائے گئے NJAC یعنی نیشنل جوڈیشیل اپائنٹمینٹ کمیشن کو کالعدم کردیا تھا۔ اس پر حکومت بہت بر افروختہ ہوئی لیکن یہ فیصلہ آئینی بنچ کا تھا۔اس لیے وہ تلملاتی رہ گئی۔آنجہانی ارون جیٹلی اس وقت زندہ تھے۔انہوں نے اس فیصلہ پرسخت تنقید کرتے ہوئے 14 مئی 2016 کو پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ قدم بہ قدم ہندوستان کی قانون سازی کی عمارت کو منہدم کیا جارہا ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ اس سلسلہ میں اپوزیشن نے بھی بی جے پی حکومت کا ساتھ دیا تھا۔
بہر حال مدراس ہائی کورٹ نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ اپنے اختیار تمیزی کا استعمال کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور تامل ناڈو کی حکومت کو فریق بنانے کا حکم دیا اور ان سے مندرجہ ذیل سوالات پر تفصیلی جواب داخل کرنے کو کہا ہے۔ عدالت میں مرکز اور ریاست کی نمائندگی کیلئے مرکزی وزارت برائے پارلیمانی امور کے سیکریٹری‘تامل ناڈو حکومت کے چیف سیکریٹری اور تامل ناڈو کے محکمہ قانون کے سیکریٹری کو نامزد کیا گیا ہے۔
مدراس ہائی کورٹ نے مرکزی اور ریاستی حکومت سے ان سوالات پر جواب مانگا ہے:
1۔ آئینی عدالتوں نے اب تک کتنے فیصلوں میں نئے قوانین وضع کرنے یا موجودہ قوانین میں ترمیم کرنے کے احکامات دئے ہیں؟
2۔ اب تک کتنے احکامات پر عمل کیا گیا‘ کتنے قوانین میں ترمیمات کی گئیں‘ کتنے نئے قوانین بنائے گئے اور یہ کون کون سے قوانین ہیں؟
3۔ اس وقت مناسب ترمیمات یا قانون سازی کےلیے کتنے فیصلوں پر عمل آوری ہورہی ہے؟
4۔ ’ٹورٹس اور حکومت کے ذمہ دین داری‘ کے میدان میں پارلیمنٹ کب تک قانون لائے گی؟
5۔ کیا مرکزی او ریاستی حکومتوں کے مختلف محکموں میں باقاعدہ ایسے ونگ موجود ہیں جو عدالتوں کے احکامات کو نوٹ کرکے اعلی حکام کو بتاتے ہوں اور یہ کہ اگر ہیں تو ایسے محکموں نے کتنے احکامات پر عمل کرتے ہوئے قوانین میں ضروری ترمیم کی ہے یا نئے قوانین بنانے کی سفارشات کی ہیں؟
6۔ اور اگر ایسے ونگ موجود نہیں ہیں تو کب تک ایسے ونگ بنادئے جائیں گے جو عدالتوں کے احکامات کو نوٹ کریں اور عمل آوری کیلئے اعلی حکام اور پالیسی سازوں تک پہنچائیں؟
7۔ اور یہ کہ لا کمیشن کا چیرمین اور اس کے ممبروں کا تقرر مرکزی حکومت کب کر رہی ہے؟
ان تمام سوالات کا جواب مرکزی حکومت کو 10دسمبر 2020 سے پہلے داخل کرنا ہے جب مدراس ہائی کورٹ اس پر اگلی سنوائی کرے گی۔
خصوصی نوٹ:
شمار نمبر چار نمبر پر درج سوال بہت ہی اہم ہے۔ گوکہ یہ عام فہم نہیں ہے لیکن ’ٹورٹس‘ یا Torts ایک بہت ہی شاندار قانونی اصطلاح ہے۔اس پر میں کسی اور وقت تفصیل سے لکھوں گا۔لیکن یہاں اتنا سمجھنا ضروری ہے کہ یہ اصطلاح اس امر سے بحث کرتی ہے کہ عام شہریوں کے ساتھ حکومت‘ پولیس یا حکومت کے افسروں کے ذریعہ کوئی ایسا سلوک کیا جائے یا کوئی ایسا عمومی فیصلہ کیا جائے جس سے عام شہری کے حقوق پر ضرب پڑتی ہو یا حکومت کے عمل اور فیصلہ سے شہری کو ذہنی‘اخلاقی‘ جسمانی اور مالی نقصان ہوا ہو” تو اس کی تلافی کی ذمہ داری حکومت اور افسروں کی ہے۔ سپریم کورٹ نے 21 برس پہلے حکومت کو اس سلسلہ میں قانون بنانے کی ہدایت دی تھی جس پر آج تک عمل نہیں کیا گیا۔لیکن مدراس ہائی کورٹ نے اب گرفت کی ہے ۔ اب مرکزی حکومت کا اس سے دامن بچانا مشکل ہوگا۔ تاہم اس ضمن میں اگر مرکزی حکومت سپریم کورٹ چلی جاتی ہے تو عدالت عظمی کا رویہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کیا کرتی ہے۔ کیا وہ ہائی کورٹ کے حکم پر اسٹے لگاکر 21 سال پرانے اپنے ہی ایک فیصلہ کی مزید بے حرمتی کی اجازت دے گی یا مدراس ہائی کورٹ کو کارروائی آگے بڑھانے کا موقع دے کر حکومت کو الٹے پاؤں بھگا دے گی۔
مجھے لگتا ہے کہ مدراس ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کو ایک بہت مشکل کام دے دیا ہے۔ ایسا کام جو دور حاضر کے حکمرانوں کے مزاج کے خلاف ہے۔وہ کب چاہتے ہیں کہ کوئی ان سے سوال کرے۔چہ جائےکہ کوئی آئینی عدالت سوالات کی بوچھار کردے۔ عدالت نے ابتدائی مدت کا پیمانہ آزاد رکھ کر مشکل اور بڑھادی ہے۔ یعنی اب حکومت کو 1950 سے اب تک کے عدالتوں کے فیصلوں اور حکومت کے ذریعے عمل درآمد کی تفصیلات جمع کرنی ہوں گی۔اور یہ سب محض ایک ہفتے کے اندر اندر کرنا ہوگا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*