مرکزی حکومت کی بے توجہی کورونا سے لڑنے میں ناکامی کااصل سبب-صفدر امام قادری

صدر شعبۂ اردو، کالج آف کامرس،آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ

چند دنوں میں ہندستان وباے کورونا کے متاثّرین کی مجموعی تعداد میں لاکھ سے نکل کر کروڑ کے دائرے میں داخل ہو جائے گا۔ گذشتہ نو مہینوں کے لاک ڈاؤن اور اَن لاک کے سلسلوں کو دیکھیں اور حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اصلاحی کاموں پر توجّہہ دیں تو یہ بات آسانی سے سمجھ میں آ جائے گی کہ مرکزی حکومت نے عوام کو اس مشکل گھڑی میں اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے ۔ وہ جئیں یا مَریں، خدا کی مرضی مگر حکومت اپنے لوٗٹ کھسوٹ اور گھناونی سیاست میں پہلے کی طرح ہی راگ الاپتی جا رہی ہے۔ دنیا کا رنگ ڈھنگ بدل گیا مگر نریندر مودی اور ان کے سیاسی کنبے کے طَور طریقے میں کوئی فرق نہیں آیا۔
اس کے برعکس ہوا یہ کہ حکومت عوامی فائدے کے بجاے خواص کو آسانیاں بہم پہنچانے اورعوام مخالف پالیسیاں بنانے میں مشغول ہو گئی ہے۔مزدوروں ، کسانوں کے بارے میں یوں بھی کم ہی کوئی حکومت سوچتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس حکومت نے تو ان کے لیے عرصۂ حیات ہی تنگ کر دیا ۔بے روز گاروں اور طالبِ علموں سے لے کر بچّوں اور بزرگوں تک کروڑوں بلا واسطہ متاثّرین جو حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہہ سے مر مر کر جی رہے ہیں۔
دنیا کے دوسرے ملکوں میں لاک ڈاؤن اس لیے لگائے گئے کیوں کہ عوامی نقل و حرکت پر روک لگے۔ نئے قوانین بنا کر مرکزی حکومت کو بے انتہا اختیارات اس لیے دیے گئے تاکہ صحت عامّہ سے متعلّق انتظامات میں جو کمیاں ہیں، اُسے جنگی سطح پر دوٗر کر لیا جائے۔ دنیا کے ترقّی یافتہ ممالک میں اکثر و بیش تر نے اسی سمت موثّر قدم اُٹھائے۔ نئے اسپتال بنائے گئے، پُرانے اسپتال کواصلاح اور ترقّی کے مراحل سے گُزارا گیا۔ اسپتالوں میں بستر بڑھائے گئے۔آئی۔سی۔ یو کے انتظامات میں اضافہ ہوا اور وینٹی لیٹر کے لیے ایک بیداری پیدا کی گئی اور عمومی انتظامات بڑھائے گئے۔ میڈیکل اور نرسنگ کے شعبے میں نظامِ تعلیم کا حال چال دیکھا گیا اور اس میں اصلاح کی نظر آنے والی کوششیں ہوئیں۔ میڈیکل تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو خصوصی تربیت دے کر اسپتالوں تک پہنچانے کی کوشش ہوئی تاکہ کوئی مریض طبّی امداد کے انتظار میں آخری سانس لینے پر مجبور نہ ہوجائے۔
ہندستان کے چند بڑے شہروں کا اگر حال معلوم کر لیجیے تو یہ بات سمجھ میں آ جائے گی کہ کس طرح ا س وبا کے ساتھ غیر سنجیدگی کا ماحول بنایا گیا۔ دلّی شہر جہاں مرکزی حکومت بھی ہے اور صوبائی حکومت کابھی انتظام ہے، وہ سب سے مشکل حالات سے دو چار رہی۔ ممبئی کو ہندستان کی صنعتی اور سیاحتی راج دھانی کہتے ہیں، وہ سب سے زیادہ متاثرین کا رکارڈ پیش کرنے والا شہرہے۔ اسی طرح ہندستان کے وزیرِ اعظم اور وزیرِ داخلہ جس صوٗبے سے آتے ہیں، گجرات کا سب سے بڑا شہر احمد آباد بھی سنگین نتائج پیدا کرنے شہر کی فہرست میں آیا۔ بڑے بڑے اور بارسوخ افراد کی کہانیاں شایع ہوئیں کہ کس طرح ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال تک بھاگتے رہے مگر کہیں داخلہ نہ ملا اور مرض الموت نے آدبوچا۔ دلّی کے وزیرِ اعلا اسپتالوں کے انتظامات کا اشتہار کرتے رہے، وزیرِ داخلہ نشستیں کرتے رہے مگر مرنے والے مرتے رہے اور متاثّرین کو اسپتالوں میں جگہہ ملنا ایک مشکل کام ثابت ہوا۔
جب دلّی، ممبئی اور احمد آباد میں متاثّرین کے لیے علاج کی خاطر خواہ سہولیات نہ پیدا ہوسکیں تو ملک کے پس ماندہ صوبوں اور دیہی علاقوں کا اندازہ لگا نا مشکل نہیں۔ کشمیر سے کنیا کُماری تک اور آسام سے گُجرات تک ان نو مہینوں میں کم و بیش یہی حالت رہی مگر حکومت اپنی زبانی جنگ، بیان کے تیٖر اور شیخی بگھارنے کے علاوہ کوئی منضبِط کام کرتے ہوئے ملک کے نظامِ صحت کو بہتر بنانے کے لیے ایک قدم بھی بڑھتی ہوئی نظر نہیں آئی۔ایسا محسوس ہوا کہ حکومت کی ترجیحات میں کورونا سے مقابلہ کرنے اور لوگوں کو اس وبا سے محفوظ رکھنے کے لیے سِرے سے کوئی خواہش ہی نہیںہے۔ حکومت نے حقیقت میں لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دینا زیادہ مناسب سمجھا اور مرنا جینا تو لکھاہواہی ہے، اسی دائرے میں انھیںاپنی عاقبت کو محفوظ رکھنے کے لیے مجبور محض بنا کر چھوڑ دیا گیا۔
ایسا نہیں ہے کہ حکومت خوابِ غفلت میں سوئی ہوئی ہے یا حالات کے مشکل ہونے کے سبب راستا ڈھونڈ پانے میں ناکام ہے۔ حکومت تو خود اعتمادی میں آگ اورشعلہ بنی ہوئی ہے اور فولادی ارادے کے ساتھ کام کر رہی ہے مگر شعبۂ صحت کو چھوڑ کر مالیت اور سیاست کے میدان میں دوڑ رہی ہے۔ آئے دن بڑے صنعت کاروں کو کیسے منافع دیا جائے، ریل کے نظام کو کس طرح اُنھی دھنّا سیٹھوں کو بیچ دیا جائے اور ایک ایک کرکے مُلک کے ہوائی اڈّے بھی اپنے پسندیدہ صنعت کاروں کے حوالے کر دیے جائیں؛ اس میں سب سے زیادہ مستعدی نظر آ رہی ہے۔کسانوں، مزدوروں کو نقصان پہنچا کر مِل مالکوں اور بڑے کاروباریوں کو کس طرح فائدہ پہنچ سکتا ہے، اس پر بہت تیزی سے اس دوران فیصلے ہوئے۔ امبانی ،اڈانی اور مرکزی حکومت کے دوسرے صنعت کاروں کو کاش ملک کے ہر صوبے میں پانچ پانچ اسپتال ہی کھڑے کر دینے کی ذمّہ داری دی گئی ہوتی تو حالات بدل سکتے تھے مگر موجودہ مرکزی حکومت کی بنیادی توجّہہ کا یہ کام ہی نہیں ہے۔
مرکزی حکومت اور این ڈی اے(NDA) کی قیادت میںملک کے دو تہائی صوبوں میں ایک ہی نقطۂ نظر سے کام چل رہا ہے۔ الکشن میں نئے نئے حلقوں میں اپنی پارٹی کو اکثریت دلانا اور اپنے صنعت کاروں کے ذریعے دونوں ہاتھوں سے اشرفیاں بٹورنا۔ ابتدائی دور سے ہی کورونا وبا کے سلسلے سے ہندستانی حکومتوں کی غیر سنجیدگی ظاہر ہونے لگی تھی۔ وزیرِ اعظم نے پہلا اعلان کچھ اس طرح سے کیا کہ لوگ روٗٹین چیک اَپ اور عام بیماریوں کے لیے اسپتال نہ جائیں۔ کیوں کہ کورونا متاثّرین کے لیے اسپتال میں زیادہ سے زیادہ گنجایشیں پیدا کرنی تھیں۔ فسادات اور انتشار کے ماحول میں اکثر یہ سننے میں آتا رہا ہے کہ ایک جگہ فوج نے کام کر لیا تو اُسے دوسری جگہ منتقل کر دیا جائے۔ اسی طرح وزیرِ اعظم نے یہ سوچ لیا کہ جب تک کورونا کی وبا رہے گی تب تک لوگ دوسرے امراض سے الگ تھلک رہیں گے۔ وزیرِ اعظم کا اشارہ سمجھ کر ملک کے اسپتالوں کا ایک نیا طَور سامنے آیا۔ ہراسپتال نے کورونا کے علاوہ کسی دوسرے مرض کے متاثّر کو اسپتالوں میں لینے سے انکار کر دیا۔ بخار، ذیابیطس، دل اور دوسرے امراض کے متاثّرین ہر شہر میں بے موت مارے جاتے رہے۔
وزیرِ اعظم کی اس بات میں خاص مہارت ہے کہ ہر بات کو نعرے میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ ہماری کہاوتوں اور ضرب الامثال کو انھوں نے نعرے میں تبدیل کیا: ’جان ہے، جہان ہے‘، ہمیں اچھا لگا کہ فارسی اور عربی الفاظ سے نفرت ابھی آسمان تک نہیں پہنچی ہے مگر اگلے مہینے انھوں نے کہا: ’جان بھی، جہان بھی‘ ۔ اسکول سے لے کر یونی ورسٹیوں تک ہم پڑھاتے رہے کہ ضرب الامثال کے استعمال میں چھیڑ چھاڑنہیں کیا جاتا مگر وزیرِ اعظم کب کسی قانون کے ماننے والے ہیں۔ اعلان ہوا : ’ دو گز کی دوری ، بہت ہے ضروری‘ مگر مدّھیہ پردیش کی حکومت سازی کا سلسلہ شروع ہوا اور بہار الکشن تک پہنچتے پہنچتے لاکھوں کی بھیڑ جمع ہونے لگی۔ کب کسی کو یاد رہا کہ محکمۂ صحت اور حکومتِ ہند کے ضابطے کے صریحاً خلاف ہے۔وزیرِ اعظم کو بھی اپنے انتخابی جلسوں میں کسی نے کبھی یہ کہتے نہیں سُنا کہ لوگ جسمانی دوری بنا کر اُن کی تقریر سُنیں۔آخر وہ ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے بُلاوے پر ہی لوگ قانون کی جودھجّیاں اُڑ ا رہے ہیں، ان کو کون سنبھالے گا؟ مرکز سے لے کر بہار تک انتظامیہ کی شمولیت کے علاوہ بھیڑ کے بعد بھی کوئی علاج نہیں ڈھونڈا گیا۔حکومت اور الکشن کمیشن اپنے روایتی راگ الاپتے رہے۔ حقیقی مقصد سب کو سمجھ میں آیا کہ انھیں حکومت سازی سے غرض تھی ، لوگ مریں یا جئیں، اس سے ان کا کوئی رشتہ نہیں تھا۔ بہار کے انتخاب کے دوران ہی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے مغربی بنگال میں کیمپ کرنا شروع کر دیا تھا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا یہ کھُلا اعلان ہے کہ ۲۰۲۱ء میں وہ مغربی بنگال میں اپنی حکومت بنائے گی۔
کورونا کی ویک سین ابھی تک عالمی سطح پر ٹرائل کے مرحلے میں ہے۔ ہندستان میں کئی بار دعوے کرنے والے سامنے آتے رہے۔ وزیرِ اعظم نے بہار کے انتخاب کے پہلے ہی جلسے میں یہ صاف صاف اعلان کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ووٹ دینے کی صورت میں ہی کورونا کی ویک سین لوگوں کو مل سکے گی۔ یہ کس قدر قابلِ اعتراض بات ہے، اسے جانے دیجیے مگر حکومت کس انداز سے لوگوں کی بیماری اور موت کا سودا کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے، اِسے دیکھنا چاہیے ۔ اب مرض کی دوسری لہر سامنے آ رہی ہے اور دلّی، ممبئی خاص طَور سے اس کی زد پر ہیں مگر حکومت کا وہی انداز ہے اور اشتہار بازی بھی اُسی پُرانے انداز سے چل رہی ہے۔ مطلب یہ کہ لوگ مرتے رہیں،حکومتوں کو بس وقت گُزاری سے غرض ہے۔ انھیں معلوم ہے کہ ایک نہ ایک وقت میںیہ مرض ختم ہو ہی جائے گا۔کچھ لاکھ لوگ مریں یا چند کروڑ لوگ اس کی زد میں آئیں،آخر نریندر مودی یا نتیش کمار کو کیا فرق پڑتاہے۔ اب تک حکومت کی سطح پر اس پر بھی غور نہیں کیا گیا کہ اس دوران کون سی پالیسی قابلِ اطمینان نہیں تھی اور کس کام میں مزید توجّہ کی ضرورت تھی۔ جب کاموں کے سلسلے سے خود احتسابی کا عمل نہ ہو تو عوام کی جانیں ہی جائیں گی، مرکزی حکومت کو اس بات کا اطمینان ہے کہ ابھی اگلے چار برس تک اس کے ہاتھ میں سفید و سیاہ کی مِلکیت ہے۔ عوام کے لیے یہ کھُلا اشارہ ہے کہ خود سے مُحتاط ہوں اور اپنی جان کی حفاظت کریں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*