مرکز لاک ڈاؤن کے دوران ٹکٹوں کی رقم واپسی پراپنا موقف واضح کرے:سپریم کورٹ

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے بدھ کے روزمرکزسے کہاہے کہ وہ کوویڈ 19 لاک ڈاؤن کے دوران فضائی سروس کے لیے بکنے والے ٹکٹوں کے بارے میں آگاہ کرے کہ وہ پوری رقم واپس کرنے کے لیے تیارہے؟جسٹس اشوک بھوشن ، جسٹس آر سبھاش ریڈی اورجسٹس ایم آر شاہ پر مشتمل بینچ نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے کیس کی سماعت کے دوران ڈائریکٹوریٹ جنرل سول ایوی ایشن کے حلف نامے کا حوالہ دیا۔ اس میں کہاگیاہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران بک کرائے گئے ٹکٹ واپس کردیئے جائیں گے۔سالیسٹر جنرل تشارمہتانے بینچ کوبتایاہے کہ اگر 15 مارچ کو لاک ڈاؤن پیریڈ سے پہلے ہی ٹکٹ بک کرا لیاگیاہوگا تورقم واپس کردی جائے گی۔تاہم ، مہتا نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے ایک اضافی حلف نامہ داخل کریں گے۔انھوں نے کہاہے کہ میری سمجھ کے مطابق ، فرض کیجیے کہ لاک ڈاؤن سے پہلے 15 مارچ کو لاک ڈاؤن کے عرصے کے دوران سفرکے لیے ٹکٹ بک کیاگیاتھااوراگرفلائٹ منسوخ کردی گئی تو ٹکٹ کی پوری رقم واپس کردی جائے گی۔مہتانے کہاہے کہ اگر یہ ٹکٹ کسی اور ملک سے کہیں اور جانے کے لیے بک کرایاگیاتھا توپھراس ٹکٹ کی رقم واپس کرنا حکومت کے ہاتھ میں نہیں ہے۔انہوں نے کہاہے کہ اگر لاک ڈاؤن کے دوران کوویڈ 19 نے اسی عرصے کے دوران ملکی یا بین الاقوامی سفرکے لیے ٹکٹ بک کرایا تھا ، تو حکومت نے ایسے ٹکٹ کی واپسی پر غور کرنے کی تجویز پیش کی تھی اور غور کیا جارہا ہے اور اس نے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ ایئر لائنز کو اس کی وجہ سے نقصان نہ ہو۔