مرکز بہار اسمبلی انتخاب عین وبا کے درمیان کیوں کرانا چاہتا ہے؟-صفدر امام قادری

خدا خدا کر کے مرکزی الیکشن کمیشن نے یہ اعلان کر دیا کہ ۲۹ نومبر سے پہلے بہار کا اسمبلی انتخاب پایۂ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔جب سے وبائی صورتِ حال نے ملک کو اپنے حصار میں لیا ہے اور مرحلہ در مرحلہ عوامی قید و بندیعنی لاک ڈائون اور اَن لاک کا سلسلہ ہے، تب سے مختلف گوشوں سے یہ آوازیں اٹھ رہی تھیں کہ انتشار کے ان مراحل میں اسمبلی انتخابات کو ایک مدت کے لیے ٹال دیا جائے۔ الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو اپنے خیالات پیش کرنے کے مواقع عطا کیے۔ ہر سیاسی جماعت نے اپنی باتیں الیکشن کمیشن کے پاس پیش کیں۔ بیچ بیچ میں الیکشن کمیشن وبائی ماحول میں الیکشن کے نئے اصول و ضوابط کی عمومی پیش کش بھی کرتی رہی۔ آخر آخر میں اس نے یہ اشارہ بھی کردیا کہ انتخابات کو ملتوی کرنا ضروری نہیں۔ سیاسی جماعتوں نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر وہاں حکومت ہند اور مرکزی الیکشن کمیشن کی باتیں زیادہ قابلِ توجہ ہوئیں۔ نتیجے کے طور پر بہار کے انتخابات کی منظوری اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے تیاریاں شروع ہونے کی خبریں بازار میں آنے لگیں اور اب یہ ڈیڈ لائن بھی آگئی کہ ۲۹؍نومبر سے پہلے بہرطور اسمبلی انتخابات مکمل ہوجائیں گے اور نئی حکومت سازی کا کام اپنے انجام تک پہنچ جائے گا۔
مرکزی الیکشن کمیشن کے سامنے جن بڑی پارٹیوں نے اپنے دعوے پیش کیے، ان میں جنتا دل یونائیٹیڈ اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے وقت پر انتخابات کرانے کی گزارش کی تھی جب کہ راشٹریہ جنتا دل ، کانگریس، لوک جن شکتی پارٹی اور بہار جن ادھیکار منچ وغیرہ نے وبائی ماحول کے پیش نظر اس انتخاب کو چند مہینوں کے لیے ملتوی کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ اگر سیاسی پارٹیوں کی تعداد کا معاملہ تھا، تب زیادہ پارٹیاں الیکشن کو روکنا چاہتی تھیں مگر الیکشن کمیشن نے نہ جانے کن بنیادوں پر یہ فیصلہ کرلیا؟ جب صلاح و مشورے کے لیے پوری عوامی مہم شروع کی گئی تھی تو معقول بات یہ تھی کہ الیکشن کمیشن صرف دو پارٹیوں یا اقتدار میں بیٹھی جماعتوں کے کہنے کو اہمیت نہ دیتی۔ اس کے لیے مناسب یہ تھا کہ زیادہ سیاسی جماعتوں کے نقطۂ نظر کو سمجھ کر فیصلہ کریں مگر یہ بات سیاسی مشاہدین کہتے رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن اپنے فیصلے لینے میں آزاد روی کے مقابلے مرکزی حکومت کے مفاد کو زیادہ پیش نظر رکھتی ہے۔ بہار کے معاملے میں تو صوبائی حکومت بھی اسی جماعت اور فرنٹ کی تھی؛ اس لیے دلی سے پٹنہ اور مرکزی الیکشن کمیشن کے خیالات میں یک جہتی ، یکجائی اور یکسوئی دیکھنے کو ملی۔ سپریم کورٹ نے بھی سیاسی جماعتوں کی باتیں بہ غور نہ سنیں یا حکومت اور الیکشن کمیشن کے فیصلے میں خود کو رکاوٹ بننے سے الگ تھلگ رکھا۔ یوں بھی اب جگل بندی کا ماحول ہے ،اس لیے ایسے فیصلوں میں کہاں کوئی تبدیلی کی توقع کی جاسکتی ہے؟
ملک کے حالات پر اگر ایک اچٹتی ہوئی نظر ڈالیں تو یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ مارچ سے پہلے اور مارچ کے بعد کی دنیا بدلی ہوئی ہے۔ اسکول اور کالج ویران پڑے ہوئے ہیں۔ آفس اوربازار یا تو بند ہیں یا جو کھلے ہیں، ان میں خریدار نظر نہیں آتے۔ البتہ اسپتال بھرے ہوئے ہیں اور مریضوں کی تعداد روز بہ روز اس قدر بڑھتی جارہی ہے کہ پرائیویٹ اسپتال اور پھر گھروں میں علاج کا سسٹم کھڑا ہورہا ہے۔ ٹرینیں سرکار نے بند کر رکھی ہیں۔ بسوں میں احتیاط کے ساتھ خالی جگہیں قائم رکھی جارہی ہیں۔ دو تہائی ملک میں عوامی مواصلات اب بھی بند ہیں۔ ڈاکٹر سے لے کر مریض تک کسی کو بھی یہ معلوم نہیں کہ یہ مرض کس طرح قابو میں آئے گا۔ علاج کیسے کیا جائے اور جانوں کی حفاظت کس طرح ممکن ہو؛ اس پر کوئی نتیجہ خیز گفتگو انجام تک نہیں پہنچی۔ ہندستان ہی نہیں پوری دنیا میں یہی صورت حال ہے ۔ آج کی تاریخ میں متاثرین کی تعداد میں ہندستان امریکہ کے بعد دوسرا سوپر پاور بن چکا ہے اور اس نے برازیل کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ گھبرائے ہوئے صحت کے ماہرین چہ می گوئیاں بھی کررہے ہیں کہ وہ دن دور نہیں جب مہلوکین کی تعداد میں بھی ہندستان دوسرے اور پہلے نمبر پر پہنچ نہ جائے۔ کیوںکہ روزانہ اگر ایک ہزار سے زیادہ افراد موت کے دروازے تک پہنچ رہے ہیں اور اسّی ہزار سے زیادہ نئے مریض سامنے آرہے ہیں تو ہمیں اس قہرِ آسمانی کے جلال کو وقت رہتے سمجھ لینا چاہیے۔
عالمی ادارۂ صحت اور عالمی سطح پر اس وبا کے ماہرین کی ہندستان کے بارے میں یہ پیشین گوئی ہے کہ یہاں نومبر کے مہینے میں وبا اپنے نقطۂ عروج پہ ہوگی۔ صحت کے ماہرین کا ایک سوچا سمجھا تصور ہے اور یورپ یا امریکہ میں اس کے نتائج سامنے آچکے ہیں، اس کے مطابق یہ وبا اپنے عروج پر پہنچ کر پھر اختتام کی منزلوں کے راستے ہموار کرتی ہے۔ خدا بہتر جانتا ہے مگر نومبر آنے میں تین ماہ کے دوران پتا نہیں کتنی جانوں کا اتلاف ہوگا اور نہ جانے ہمارے اعداد و شمار لاکھ سے کروڑ میں نہ چلے جائیں۔ وبا کی ایسی صورت حال میں جب جانوں کے کھپنے کا گراف آسمان کو چھوتاہوا ملے گا، اسی وقت بہار میں انتخابات کی تیاری چل رہی ہوگی۔ سیاست دانوں کے بارے میں ایک تجزیہ یہ بھی ہے کہ یہ سب سے شقی القلب ہوتے ہیں اور اپنے مفاد کے لیے وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ انھیں پھول برسانے سے فائدہ ہوگا تو وہ کام کریں گے اور جب فسادات برپا کرنے سے ووٹ میں اضافے کی گنجایش ہوگی تو اسی کام پر ان کی نگاہ جائے گی۔
ابھی انھیں معلوم ہے کہ اس خوف کے ماحول میں ووٹنگ اور اس سے پہلے تشہیر کا کام بہت مشکل ہے۔ آن لائن اور ورچوول ریلیاں کرنے کا نظام بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس تو ہے مگر اور کسی پارٹی نے اس طرح کا کوئی تجربہ ابھی تک نہیں کیا۔ یہ نظام اتنا خرچیلا ہے کہ صاحب اقتدار کے علاوہ دوسروں کے لیے بہت مشکل ہوگی۔ کوئی چاہے یا نہ چاہے، الیکشن میں بھیڑ بڑھے گی اور جہالت اور غربت سے بوجھل سماج میں صحت کے اصولوں کی پاسداری ممکن نہ ہوگی۔ الیکشن کے مرحلے میں وبائی صورت حال میں اضافہ ہونا دیوار پر لکھی عبارت کی طرح سب کے سامنے ہے۔ مگر بھارتیہ جنتا پارٹی اور ان کی حلیف جماعتوں کو معلوم ہے کہ خوف کے سایے میں جب کم سے کم لوگ ووٹ ڈالنے آئیں گے ، اس وقت وہ سرکاری مشنری کا بہترین طریقے سے استعمال کرکے اپنا مفاد سادھنے میں کامیاب ہوںگے۔ فرقہ پرستی کی ایک آندھی پھر اٹھے گی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو نئے نئے کارندے دستیاب ہوتے جائیںگے جو ووٹرس کو راغب کرکے نئی سرکار بنانے میں کامیاب ہوںگے۔
برسرِ اقتدار جماعت کو یہ بات سمجھ میں آرہی ہے کہ وبا کے بیچ میں الیکشن کرانے سے انھیں بہت طرح کی آسانیاں میسر ہیں۔ ووٹنگ کا تناسب بڑھنے سے بھارتیہ جنتا پارٹی ہمیشہ ہار جاتی ہے۔ ابھی کے ماحول میں ایمان سے بیس تیس فی صد بھی ووٹر میدان میں آجائیں تو یہی بہت ہے۔ اس کے علاوہ ای۔وی۔ایم۔ کا داخلی کھیل تماشا بھی آسان ہے جس سے اگر دس بیس فی صد کی گڑبڑی کرلی جائے تو اس طرح شبہات بھی پیدا نہیں ہوسکتے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ابھی ملک کا قانون مرکزی حکومت کے تحت ہے اور صوبائی حکومتوں کے پاس محدود اختیار ات ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے پہلا نشانہ بہار تو ہے مگر اسے اگلے قدم کی یہیں تیاری بھی کرنی ہے۔ ۲۰۲۱ء میں انھیں مغربی بنگال میں چاہے جیسے ہو ،ممتا بنرجی کو میدان سے باہر کرنا ہے۔ پارلیامنٹ کے الیکشن میں انھوںنے اپنی طاقت بڑھائی اور پورے صوبے میں جنگ و جدال اور فرقہ پرستی کا ننگا ناچ کھیلا۔ اگر وبائی صورت حال میں بہار میں وہ انتخاب کرانے اور نتیجے کے طور پر اپنی حکومت کو بچا پانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو وہ خوشی خوشی مغربی بنگال کے حلقے میں داخل ہوںگے۔
مارچ اپریل کے مہینوں میں لوگ سڑکوں پر مرتے رہے۔ بھوکے ننگے بے یار و مددگار اور بے بس نظر آتے رہے مگر حکومت اپنے راگ الاپتی رہی۔ میڈیکل اور انجینئرنگ کے امتحانات بھی حکومت لے ہی رہی ہے جن میں آدھے سے زیادہ لوگ غیر حاضر معلوم ہوتے ہیں۔ آنے والے وقت میں بہت سارے عوامی کاموں کا حکومت اعلان کرے گی جن میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شراکت ہونی چاہیے تھی۔ حکومت کا مقصد واضح ہے کہ اسے جمہوری تقاضوں کے تحت بڑے عوامی اشتراک کا منظر نامہ مرتب نہیں کرنا ہے۔ اسے محدود پیمانے پر اپنے لوگوں اور اپنے ہم خیال لوگوں کی ترقی اور حفاظت مقصود ہے۔ لاکھوں ہی نہیں، کروڑوں مریں؛ اس سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو کیا کرنا؟ اسے بس اتنا چاہیے کہ ہندو فاشزم کے لیے جو طبقہ کارگر ہو، وہی بچے۔ اقلیت، محروم طبقات اور غریب مزدور کیوں جئیں اور وہ ووٹ دے کر انصاف پسند حکومت کے کیوںکر طلب گار ہوں؟ بھارتیہ جنتا پارٹی کو اس ملک میں فاشزم لانا ہے جس کے لیے بہار سے نئے ماحول کا آغاز ہوگا۔

(صدر شعبۂ اردو ،کالج آف کامرس ،آرٹس اینڈ سائنس،پٹنہ)

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)