معرفة الحیوان:ایک تعارف-ضیافاروقی

تلاش حق اور حق شناسی کے دو راستے ہیں ۔ایک عقلی دوسرا ایمانی ۔ہمارے علمائے کرام اور مفکرین ملت نے ان دونو راستوں پر چلتے ہوئے نہ صرف یہ کہ تلاش و تحقیق کا حق ادا کیا بلکہ فلاح انسانیت کے لئے وہ کام بھی کئے جو تشنگان علم کے لئے آج بھی مشعل راہ ہیں ۔ ایسی ایک باوقار شخصیت بھوپال میں عالمی شہرت یافتہ مفتی رحیم اللہ خاں قاسمی کی ہے جو درس و تدریس اور تنقید و تحقیق کے ساتھ ساتھ قوم و ملت کی فلاح کے لئے بھی ہمیشہ سرگرم رہتے ہیں ۔ان کا حالیہ علمی کام ” معرفتہ الحیوان ” نامی کتاب ہے جو دنیا بھر میں پائے جانے والے حیوانات کے متعلق ہماری معلومات میں پیش بہا اضافہ کرتی ہے ۔مفتی صاحب نے اپنی اس کتاب میں جہاں ان درندوں ، چرندوں پرندوں اور دوسرے حشرات الارض کا تعارف مع محققین کی آرا کے پیش کیا وہیں اپنی تحقیقی بصیرت سے کام لیتے ہوئے مزید معلومات بہم پہنچائی ہیں ۔ ان میں وہ حیوانات بھی ہیں جن کا تذکرہ اللہ تعالی نے قرآن حکیم میں کیا ہے وہ بھی جو انسانی مطالعے میں عہد بہ عہد آتے رہے ہیں ۔ یہاں ان کتابوں کا بھی ایک اجمالی تعارف پیش کیا گیا ہے جو محققین ہر دور میں لکھتے رہے ہیں ۔ مثلاٗ کتاب کے مقدمہ میں ہی جو انھوں نے” مسلمان ماہرین حیوانات اور ان کی تصانیف ” کے عنوان سے قلمبند کیا ہے تقریبا٘ دو درجن کتابوں کا تعارف مع ضروری حواشی کے پیش کیا ہے اس میں کلیلہ ودمنہ جیسی سنسکرت کی قدیم ترین کتاب کا تذکرہ بھی ہے جو اسلامی عہد کے ابتدائی دور میں عربی میں اور فارسی میں ترجمہ کی گئی تھی اور آج بھی نصاب میں داخل ہے ۔ اس کے علاوہ عربی اسکالر معمر بن مثنی (728 تا۔824) جس نے اس موضوع پر لاتعداد کتابیں تحریر کیں ، سعید بن عبد المالک (740 تا831) ، عمر ابن عثمان ابن الجاحظ (776 تا 868 ) جس کی تصنیف ” کتاب الحیوان ” جس کے تراجم آج بھی ہوری دنیا میں مقبول ہیں ۔ ابو یوسف بن یعقوب بن اسحق الصباح الکندی (891 تا 873 ) ، ابو محمد عبد اللہ ابن مسلم (827 تا 889 ) ۔ بو علی سینا ( 980 تا 1037) ، شرف الزماں طاہر المزوری ( 1056 تا 1129 ) اور محمد کمال الدین الدمیری (1344 تا 1495 ) ۔وغیرہ کے ساتھ ساتھ مفتی رحیم اللہ صاحب نے بیسویں صدی کے ان مفکریں اور محققین کی کتابوں کے حوالے بھی دیے ہیں جنھوں نے حیوانیات کے سلسلے میں بنیادی کام کئے ہیں مثلاٗ معشوق علی ، ایم محسن محشر عابدی ، مولانا عبدالماجد دریابادی ، ڈاکٹر سالم علی وغیرہ وغیرہ ـ
مفتی صاحب نے مصدقہ کتب کی روشنی میں حیوانات کی ایک اجمالی تاریخ پیش کرتے ہوئے ان کی درجہ بندی ( Branches of Zoology) اور سائنسی اصطلاحات کے تعلق سے ان کے ناموں کو بھی نشان زد کیا ہے ۔ جیسے کہ حیوانات پستانیہ (Manmal order )جن کے حوالے سے انھوں نے حیوانات کے پچیس طبقات کا ذکر کیا ہے جیسے کہ حیوانات رئیسہ جس کے زمرے میں بندروں کی مختلف قسمیں آتی ہیں۔ طبقہ ۲ میں حیوانات جناحیۃالایدی ( Chiropetra ) یعنی ہتھ پنکھ جانور جو چمگادڑ کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں ۔طبقہ تین میں حیوانات قر٘اضہ یعنی کترنے والے جانور (Rodentia ) جیسے کہ گلہری یا چوہے وغیرہ ۔ اسی طرح انھوں نے مختلف طبقات کےتحت آنے والے چرندوں ،پرندوں اور درندوں کا تذکرہ متذکرہ کتاب میں کیا ہے ـ لطف کی بات یہ ہے کہ کتاب میں ان جانوروں کی رنگین تصاویر بھی اپنی بہار دکھا رہی ہیں ـ
بہرحال افغان پبلشر بھوپال سے شائع شدہ دو سو رنگین صفحات کی یہ کتاب جو اپنے دامن میں ساڑھے تین سو رنگین اور دیدہ زیب تصاویر سمیٹے ہوئے ہے انتہائی کارآمد ہے جو چھ سو روپیہ قیمت میں بھی مہنگی نہیں ہے کہ رموز کائنات کو سمجھنے لئے حیواناتِ ارضی کا مطالعہ بھی ضروری ہےـ
متذکرہ کتاب افغان پبلشر ، 741 کاشانہ، احاطہ خان صاحب ، پیر گیٹ بھوپال سے حاصل کی جا سکتی ہےـ

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)