مرحوم عید کارڈ کی یاد میں ـ ضیا فاروقی

 

اللہ رکھا میاں،آج عید ہے اور تم مجھے بہت یاد آرہے ہو ۔مگر آج ہی کیوں؟ تم تو کئی دن سے یاد آرہے ہو ۔بلکہ ادھر پندرہ بیس سال سے ہر تیوہار پر یاد آتے ہو۔یاد کرو میرے بچپن میں جب تم اپنی پوسٹ مین کی ٹوپی اور خاکی کوٹ پہنے رمضان کے آخری عشرے سے ہی عید کارڈ اور مبارکبادی پوسٹ کارڈ لانا شروع کر دیتے تھے۔اپنی پرانی سائکل پکڑے جب تم پھاٹک میں آکر زور زور سے سائکل کی گھنٹی بجاتے تو ہم بچے سمجھ جاتے کہ تم ڈاک لائے ہو ۔اور اتفاق سے اگر اندر سے کوئی نہیں آتا تو تم ڈیوڑھی پر آکر آواز لگاتے "ڈاک آئی ہے ” ۔ مگر اب تو وہ کارڈ اور محبتوں کے وہ امانتدار خطوط قصۂ پارینہ ہو چکے ہیں ـ تم تو شائد بعد میں ریٹائر ہوکر کہیں اپنے گاؤں چلے گئے تھے مگر مسرتوں کے گلدستے تو بیسویں صدی کے ڈوبتے سورج نے بھی دیکھے ہیں ۔کیسے کیسے حسین اور خوبصورت کارڈ ہوا کرتے تھے ۔پھر عید ہی پر کیا منحصر ۔کارڈ تو نئے سال اور ہولی دیوالی میں بھی اپنی بہار دکھاتے تھے ۔ بازار میں جگہ جگہ دلآویز کارڈوں کی دکانیں لگ جاتیں۔ لوگ ان کارڈوں کو خرید کر اپنے پیاروں کو بھجتے ۔ یہ خوبصورت کارڈ جن پر منقش بہترین مناظر اور تحریریں درج ہوتیں۔ قدردان اور شوقین لوگ اپنے پیاروں کے ان محبت ناموں کو اپنی میزوں اور اپنے ڈرائنگ روموں میں نمایاں طور سے سجا کے رکھتے ۔ کچھ لوگ ان کارڈوں کو جوڑ کر ایک لمبی جھالر بنا لیتے جو دیوروں پر سال بھر لٹکتی رہتی
مگر اللہ رکھا۔ہم اب ان تہنیتی کارڈوں کو کیا روئیں اب تو عام خطوں کا رواج بھی نہیں رہا جن میں نشاط و ملال کے پختہ رنگ برسہا برس پھیکے نہیں پڑتے تھے یہ خطوط ہی نہیں آپنے آپ میں تاریخ کا ایک حصہ بھی ہوتے تھے ۔ اب تو وہ لفظیات وہ القاب و آداب بھی گم گئے جو خطوط کا خاصہ ہوا کرتے تھے ۔ اب موبائل اور واٹس اپ کا زمانہ ہے ۔ آج بغیر القاب آداب کے میسیج آتے ہیں ۔اور موبائل خراب یو جائے تو سارے میسیج بھی غائب ہو جاتے ہیں ۔
اللہ رکھا بھائی۔پوسٹ مین تو آج بھی گاہے گاہے آتا ہے مگر اب خط نہیں آتے ۔ بس اخبارات اور رسائل آتے ہیں ۔وہ بھی جو رجسٹرڈ ہوتے ہیں ۔سادہ ڈاک کا زمانہ گیا ۔۔۔اب سادہ ڈاک کا پوسٹ آفس بھی ذمہ دار نہیں ۔
مگر اللہ رکھا بھائی کیا کریں۔ہماری آنکھیں تو آج اکیسویں صدی میں بھی پرانے عید کارڈ ڈھونڈتی ہیں ۔