مرگِ انبوہ:اکیسویں صدی کاعظیم ناول – مسعود بیگ تشنہ

مرگِ انبوہ کا نریٹر (داستاں گو) ایک دانشور، ایک سائنس داں، ایک سماجی سائنس داں، ایک اسٹیٹس مین اور سب سے بڑھ کر اکیسویں صدی کا انسان بن کر ابھرتا ہے اور اسی بھیڑ میں شامل اکیسویں صدی کے ہندوستان کا مسلمان بن کر بھی ابھرتا ہے،جیسا کہ ناول کے نام ’مرگِ انبوہ‘سے ظاہر ہے کہ اس میں خوش آئند مستقبل کے امکانات یوٹوپیا کی طرح ہی قریب قریب ناقابلِ رسا ہیں۔استان گو نے جان بوجھ کر اور بجا طور پر ایسا کیا ہے کہ اس جلتے ہوئے مسئلے کی لپٹ کو شدت سے محسوس کیا جا سکے۔
اے پی جے عبد الکلام کا سپنا 2020 کا کیا تھا اور وہ کیا سے کیا ہوگیا۔ یہ زمانے کی ستم گری نہیں تو اور کیا ہے کہ انہی کے دور صدارت میں نہ چاہتے ہوئے بھی اس ہندوستان کی نیو پڑ گئی جو وہ خود ہیومینسٹ کے طور پر قطعاً نہ چاہتے ہوں گے۔ اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے پر ہی انہوں نے اپنا درد بانٹنا شروع کیا ،ان کے ایک لیکچر کا موضوع ہی سب کے لئے رہنے لائق دنیا بنانا تھا جو ان کی زندگی کا آخری لیکچر ثابت ہوا کہ وہیں لکچر دیتے دیتے ہی انھیں دل کا دورہ پڑا اور ان کی زندگی بھی ان کے سپنے کی طرح حقیقت سے خواب میں تبدیل ہو گئی۔
بہرحال خواب کے حقیقت اور حقیقت کے خواب بننے کا عمل روزِ ازل سے لمحۂ موجود تک جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا۔ یہ اوور لیپنگ (overlapping )کا عمل ناگزیر ہے اور چلتا رہتا ہے۔
E= MCSquare
(جہاں E توانائی، M مادّہ کی کمیّت، اور C روشنی کی رفتار ہے)
مندرجہ بالا مساوات سے ظاہر ہے کہ قدرت کے (ایک نہ بدلنے والے) قانون کے تحت توانائی کبھی بھی زائل نہیں ہوتی، شکل بدل لیتی ہے۔ توانائی اور مادّہ دونوں باہم بدلتے رہتے ہیں اور ایک طے شدہ لمحۂ موجود بھی یقین کہ ساتھ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ ممکنہ حد تک چھوٹے سے چھوٹا ذرّہ (مادّہ)اپنی کس شکل میں ہے ۔توانائی کی ترنگ کی شکل میں میں یا ٹھوس ذرّے کی شکل میں۔ تھیوری آف ریلیٹیوٹی اور پرنسپل آف انسرٹینٹی یہی کہتے ہیں۔ یہ ذرہ اور توانائی کی اوور لیپنگ کی حالت اور ذرہ کا ایک حالت میں نہ ہونا. یہ مادّی غیر یقینیت کا قدرت کا اصول تمام سیاسی نظریات و ہر طرح کے نظام پر لاگو ہوتا ہے. قیامت کی پیشین گوئی کے باوجود قیامت نکل گئی. سچ تو یہ ہے کہ قیامت نہیں بھی ہے اور ہے بھی. دراصل اس کائنات کی مادّی دنیا میں غیر یقینیت بھی خدائی اصول کی طرح ہے. روحانی طور پر ہمیشہ بہتر تغیر و تبدیلی کی انسان کی خواہش ہوتی ہے. قابیلی طاقتیں اپنا کام کرتی رہی ہیں اور کرتی رہیں گی کہیں رنگ و نسل و تہذیب و دین کے نام پر، کہیں جنس کے نام پر کہیں علاقے اور جغرافیہ کے نام پر توکہیں تاریخ کے نام پر۔ مادی غیر یقینیت پر روحانی یقین کا حاوی ہونا ضروری ہے یہی مرگِ انبوہ سے نجات کا راستہ دکھا سکتی ہے۔
اس قیامت صغریٰ کو بتانے والے اس ضخیم و عظیم ناول کی پذیرائی عام انسان کیا کر پائیں گے کہ انھیں دستیاب ہونا ہی مشکل ہوگا۔لیکن اہلِ نظر ہیومینسٹ برادری کو اس کا مطالعہ و تجزیہ اور اس عظیم ناول کی قدر کا تعین کرنا ضروری ہے اور یہ انگلش اور دوسری بین الاقوامی زبانوں کے ترجمے سے ہی ممکن ہے اور ہندوستان میں بھی اسے دیگر زبانوں میں وقت کے مناسب تقدم و تاخر کو دیکھ کر کرنا چاہئے۔
محترم فاروق ارگلی صاحب اسے صدی کا بہترین اردو ناول قرار دے چکے ہیں، مگر انہوں نے کوئی اشارہ اس کے کنٹینٹ (مواد) کو لے کر نہیں کیا تھا۔ جناب جاوید اختر نے مشرف عالم ذوقی صاحب کے اس ناول کی چند جھلکیاں شعور کی رو میں (جسے لا شعور کی رو کہنا زیادہ مناسب ہے) اس تاثراتی تبصرے میں دکھائی ہیں ۔میں اس کے لئے انہیں دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں اور ذوقی صاحب کے لیے نیک خواہشات،میری بھی خواہش ہے کہ اس کے چرچے بیرون ملک بھی ہوں اور اس کتاب کا جو جائز مقام ہے ،اس سے دنیا کے دانشور اور اہلِ ادب واقف ہوں اور یہ عالمی سطح پر کسی نہ کسی انعام کی حقدار بنے۔ظاہر ہے کہ ملک کے سیاسی حالات اس ناول کی سرکاری سطح پر پذیرائی و انعام و اکرام کے لئے ناسازگار ہی رہیں گے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*