Home نقدوتبصرہ مقصود الٰہی شیخ کی پوپ کہانیاں-حقانی القاسمی

مقصود الٰہی شیخ کی پوپ کہانیاں-حقانی القاسمی

by قندیل

سائنس کی طرح ادب بھی امکانات کی جستجو سے عبارت ہے۔ امکانات کی دریافت کا عمل منقطع ہوجائے تو تہذیب کا ارتقائی سفر رک جائے گا۔ ایک ہی نقطہ پرٹھہری ہوئی تہذیبوں کے نام و نشان مٹ جاتے ہیں۔ تہذیبوںکاارتقاتغیرسے مشروط ہے۔
ادب جس تہذیبی عمل سے عبارت ہے، وہاں بھی ’تغیر‘ کو ہی ثبات حاصل ہے۔ اس تغیرنے ہی کائنات کے نظام کودائم وقائم رکھاہے۔ تخلیق بھی کائناتی نظام کا ایک حصہ ہے۔ اسی لیے ہر عہد میں تخلیق اپناپیرہن اورپیرایے تبدیل کرتی رہی ہے۔
ہرعہد ایک پیراڈائم شفٹ کاتقاضا کرتاہے اسی لیے عہد اور ادوار کے لحاظ سے تخلیق کے اسالیب بدلتے رہتے ہیں، تخلیق نئی تبدیلیوں سے ہمکنار ہوکر ہی اپنے اندر تازگی محسوس کرتی ہے۔ عہدعتیق اورقرونِ وسطیٰ کااسلوب عہدحاضر سے بالکل مختلف ہے اور اسی اختلاف سے ارتقا کا تعین ہوتاہے۔
ادبی اصناف کاارتقا بھی اسی تغیرسے عبارت ہے۔ ہمارے عہد میں جتنی بھی شعری ونثری اصناف ہیں وہ اپنی متعینہ ہیئتوں اور حدود سے تجاوز کرتی رہی ہیں۔ غزل کی صنفی ساخت کا تعین کیاگیا مگر مرزا اسداللہ خاں غالب کویہ شکایت رہی کہ:
بقدر شوق نہیں ظرف تنگنائے غزل
کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے
دراصل ہرصنف اسی ’وسعت بیان‘ کا مطالبہ کرتی ہے۔ اسی لیے غزل کی مقررہ ہیئت کے باوجود آزادغزل، غزل نما اور غزالہ جیسے تجربے کیے جاتے رہے ہیں۔
افسانہ بھی ایسے ہی کئی تجرباتی مرحلوں اور منزلوں سے گزرا ہے۔ اس کی بھی اب کئی شاخیں ہیں، افسانہ، مختصرافسانہ۔ یک سطری افسانے وغیرہ وغیرہ۔
’پوپ کہانی‘ اسی افسانہ کی ایک نئی شاخ ہے۔ ایک آزادہ رو، مشروطیت شکن،خودبیں اور خوش بین صنف—— ایک متفاول دماغ کی اپج، ایک ذہنی ترنگ اور وفورجوش، جولانی وطغیانی کا نتیجہ جو شاعری کی ’آمد‘ کی طرح افسانہ میں بھی ’آمد’ کا استقبال کرتی ہے اور فوری ردعمل کواظہارکی صورت عطا کر کے خیال کو خودکشی سے بچاتی ہے۔ پوپ کہانی ہرخیال کو زندگی کا حق دیتی ہے۔ خاص طورپر جس میں مقصدیت اور معنویت ہو۔ وہ خیال کو وجود میں آنے سے روکنے کو ’جنین کشی‘ جیساعمل قراردیتی ہے۔ پوپ کہانی اس تصورپریقین رکھتی ہے کہ کوئی بھی خیال یاردعمل ذات کے دروں میں قید ہوکر نہ رہ جائے۔ اسے باہر آنے کی مکمل آزادی ملنی چاہیے۔ اس سے کوئی غرض نہیں کہ خیال کی صورت کیا ہوگی۔ہرخیال کا خوداپنا ایک چہرہ ہوتاہے۔ انسانوں کی طرح خیال کی بھی طبقاتی زمرہ بندی ہے اوراسی طبقاتی تضادپر خیال کی اہمیت اورمعنویت کاانحصار ہے۔ ایک پژمردہ اورمضمحل خیال کوبھی زندہ رہنے کااتنا ہی حق حاصل ہے، جتنا کہ ایک توانا اور طاقتور خیال کو۔ کوزہ گر کی طرح خیال کنندہ اپنے خیال کو کوئی بھی شکل دے سکتاہے اوریہ اس کے ذوقِ سلیم اورطبع لطیف پرمنحصرہے۔ اس کے بعدقاری کاادراک اس خیال کے درجات اورطبقات متعین کرتا ہے۔
پوپ کہانی میں خیال کی زندگی زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ اسی لیے اپنے فوری ردعمل کے اظہار کے لیے وہ کسی مخصوص سانچہ کی جستجو میں اپنے وقت کا زیاں نہیں کرتی۔
مقصودالٰہی شیخ کے تجربہ کنندہ دماغ نے اس صنف کو وجود بخشاہے۔ ادب کے دشت امکاں میں احساس واظہار کے نئے شجر اور شاخیں تلاش کرتے ہوئے انھیں پرانے موسموں کے خمار اورنئی رُتوں کی بہار کی صورت میں یہ پوپ کہانی مل گئی ہے جس کے بارے میں خودان کاکہناہے کہ:
’جب قلم سے جڑاحساس دل کسی واردات کوتحریک وفیضان ملنے یا انسپائر ہونے پرسینے میں بندرکھنے کے بجائے عام فہم لفظوں میں سپردقرطاس کردے تو لفظوں کا یہی روپ پوپ کہانی ہے۔‘ـ
اس پوپ کہانی کی کوئی مخصوص شکل یاہیئت نہیں ہے۔ ہیئتوں کی تبدیلی ہی اس کا انفرادواختصاص ہے۔یہ ہرصنفی سرحد سے اپنی قربت اور مناسبت تلاش کرلیتی ہے۔ کبھی آزاد نظم، کبھی نثری نظم، کبھی منظوم اوپیرا، کبھی منظوم داستان کی حیثیت اختیار کرلیتی ہے مگر افسانے کے جواجزائے افاعیل ہیں، ان میں سے کوئی نہ کوئی عنصر زیریں لہرکے طورپراس میں موجود رہتاہے۔ خاص طور پر ’واقعہ‘ جوافسانہ کااصل جوہرہے۔پوپ کہانی کبھی فنطاسیہ، کہیں مثالیہ کہیں مکالمہ کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔
مقصودالٰہی شیخ کی پوپ کہانیوں کے مطالعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ یہ روزمرہ کے وقوعات، تجربات وحوادث پرمبنی فوری ردعمل کا اظہار ہیں۔یہ ایک طرح سے معاشرہ سے تخلیقی مکالمہ اورابلاغ ہے۔ یہ معاشرتی روزمرہ کابیانیہ، سماج کی کروٹوں اورکشمکش کا اشاریہ ہیں۔یہ معاشرتی حرکیات و سکونیات میں شامل ہونے اورعوام کے جمالیاتی شعور سے جڑنے کاتخلیقی ثبوت ہے۔ ان پوپ کہانیوں میں ترسیل کاعمل مصنوعی یامیکانکی نہ ہوکر حقیقی اور فطری ہے۔
اس اختصار پسندعہد میں طویل فسانہ کی فرصت کہاں ہے بالخصوص جب ذہنی تفریح اورحظ ونشاط کے بصری وسمعی ذرائع موجود ہوں توایسے میں طویل کہانیاں اپناجواز کھوبیٹھتی ہیں۔ شاید آج کی سچویشن دیکھ کر ہی مقصودالٰہی شیخ نے اس ذریعہ اظہار کو اختیار کیاہے اوراپنے داخلی خلا اورخالی پن سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی پوپ کہانیاں—— ذرا سی بھول مگر کتنی طویل، بے تعبیرخواب، اتفاقیہ ملاقات، ڈھکوسلا، فیملی ری یونین، سہ طرف سچ، ٹھکانہ، پیمان،قریبی رشتہ،سراپاسیاپا،پاؤں کے چھالے، کانٹاچبھتا ہے—— کی داخلی ساخت پرغور کیاجائے تو موضوعاتی تنوع کے ساتھ ان کہانیوں میں زندگی کے اضداد کا بھی انعکاس اورشعر کے اوصاف ایجاز واختصار، اجمال اور آہنگ بھی نظر آئیں گے۔
پوپ کہانی’واہمہ‘ کا ایک اقتباس:
وہ آمنے سامنے بیٹھے تھے
بیچ خاموشی تھی
اور
اس کے سامنے
ایک بت طناز
ایک پیکربے نیاز
سندرنار
دل فگار
قہربرانداز
ہدف تارتار
اس پوپ کہانی میں آغاز بھی ہے، درمیان بھی اور انجام بھی۔ درمیان کو چھوڑتے ہوئے انجام دیکھئے:
اس نے
جو مجسم انکسارتھا
نظراوپر کی
بت مغرور کی طرف دیکھا
مگر
سامنے کوئی نہ تھا
کہانی کا اختتامی لمس ایک تحیرکوخلق کرتاہے۔
اس میں کہانی/افسانے کے تمام تشکیلی اجزا اورتکمیلی عناصر ہیں مگر ایسامحسوس ہوتاہے کہ جیسے کوئی نثری نظم ہو۔ کہانی کی عمومی ہیئت سے بالکل مختلف——مگر اس میں ارتکازبھی ہے، ایجاز بھی۔ یہاں صنفی دیواریں منہدم ہوگئی ہیں مگر افسانے کے تلازمات موجود ہیں۔یہ اسی نوع کا تجربہ ہے مگرذرامختلف ہے جو انورسجادنے بعض افسانوں میں کیاہے جنھیں ناقدین نے ’نثری نظمیں‘ سے تعبیرکیا۔
مقصودالٰہی شیخ نے پوپ کہانیوں کے ذریعہ اس ترسیلی خلیج کو دورکرنے کی بھی کوشش کی ہے جو تکنیکی، صارفی اور صنعتی معاشرہ کی میکانکی زندگی اورشب وروز کی وجہ سے پیداہوگئی ہے۔ یہ ایک طرح سے اپنے تجربات میں عوامی شراکت اوراحساس کی داخلی وخارجی سطحوں میں دوسروں کی شمولیت کا ایک عمل ہے۔ اپنے وجودیاتی اورعرفانیاتی تجربوں کو ایک صورت اورشکل دینے کی کوشش ہے۔
ان کی پوپ کہانی ’ذراسی بھول مگر کتنی طویل‘پڑھئے اس میں انتظار، ایثاراورانتقام تینوں کیفیت ہیں۔ وفا اور جفا کے رنگ بھی ہیں۔ طبقاتی تصادم اور کشمکش(امیری،غریبی کی خلیج) بھی ہے۔ ضخیم ناول میں اتنے اجزا یارنگ ہوتے ہیں۔ مگر مقصودالٰہی شیخ نے پوپ کہانی کے کینوس پرایک ناول کی وسعت اوررنگینی کواُتاردیاہے—— اس کو ہی کہتے ہیں اعجاز ہنر۔
اس طرح کی تخلیقی ہنرمندی ان کی بیشتر پوپ کہانیوں میں نظر آتی ہے۔ قطرہ میں دجلہ اور ایک بوند مئے ناب میں صدعالم امکاں کانظارہ کیاجاسکتا ہے۔ یہی ایجاز و ارتکاز مقصود الٰہی شیخ کی پوپ کہانیوں کا جواز بنتے ہیں۔
مقصودالٰہی شیخ کی منتشرپوپ کہانیوں میں ایک افادی امکان اورپیغام پنہاںہوتاہے۔ سماج کی بہترتعمیر و تشکیل کا جذبہ، ذہن کا تزکیہ اورتطہیر—— عائلی، سیاسی اورمعاشرتی مسائل میں صحیح سمت کی نشان دہی۔وہ تمام مسائل جن سے انسانی زندگی کا سابقہ پڑتا ہے، ان میں ایک معتدل اورمتوازن راہ کی تلاش—— یہی سب ان کی پوپ کہانیوں کے بطون میں پوشیدہ ہیں۔
مقصودالٰہی شیخ کی پوپ کہانیوں کابنیادی سروکار زوال پذیر سماجی اقدار سے ہے۔ آج کی طرزمعاشرت اور بدلتے ہوئے طرزاحساس سے ہے۔ مغربی افکار واقدار سے مشرقی ذہن کی کشمکش اورتصادم سے ہے اور ان ذہنی رویوں سے ہے جو معاشرہ کی ہلاکت اورتباہی کاباعث ہیں۔
مقصودالٰہی شیخ نے پوپ کہانی کی جو نئی طرح ڈالی ہے، مجھے پتہ نہیں کہ اس کی مدت حیات کیاہوگی مگر اتنا طے ہے کہ احساس واظہار کی یکسانیت سے بیزار فن کار اس صنف میں بھی طبع آزمائی کریں گے کہ مستقبل میں معاشرہ سے تخلیقی مکالمہ کی اس سے زیادہ مفید اور مثبت صورت کوئی اورنہیں ہوگی۔
تجربات کی نئی زمین تلاش کرنے والے اس صنف میں خصوصی دلچسپی یوں بھی لیں گے کہ ڈھیروں کہانیاں لکھنے کے باوجود کوئی ان پریہ الزام نہ عائد کردے کہ ایک ہی کہانی باربار لکھی جارہی ہے۔ وہ یقینی طورپر ایک نئے پیٹرن اورطریق کار کی جستجو کریں گے اورپوپ کہانی ان کے لیے بہترین ’پناہ گاہ‘ ثابت ہوگی۔
مقصودالٰہی شیخ شیخ کی پوپ کہانیوں کایہ دوسرا مجموعہ ہے۔ پہلا مجموعہ ابھی تک ردوقبول کی منزل میں ہے۔ ادبی حلقوں میں اس صنف کے جواز، عدم جواز، مقبولیت اورعدم مقبولیت پرگفتگو کاسلسلہ ختم نہیں ہواہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گاکہ بہت سی اور صنفوں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے—— ہرنیاتجربہ ایسی ہی آزمائشوں سے گزرتا ہے اور پھررفتہ رفتہ ادبی شعور میں شامل ہوجاتاہے۔
پوپ کہانی کی زندگی اور موت کا فیصلہ تو آنے والا وقت کرے گا مگرمجھے یقین ہے کہ دوسرے مجموعہ کی پوپ کہانیاں بھی ادبی حلقہ میں ایک نئے ڈسکورس کوجنم دیں گی۔ لوگ کیاکہیں گے یہ توپتہ نہیں لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ لوگ کچھ نہ کچھ ضرور کہیں گے۔
مجھے اس مجموعہ کی تمام پوپ کہانیوں پراظہارخیال کرناتھا مگر طوالت کے خوف سے ترک کررہاہوں کہ کہانی کی توضیح اورتشریح اس کی تحیرزا،جادوئی کیفیت کوختم کردیتی ہے۔

You may also like